متوفیوں کے دماغ، دل اور آنتیں ہری پڑگئی تھیں، مگرموت کی اصل اورحتمی وجہ معلوم ہونے کیلئے اب بھی فارنسک جانچ کی مکمل رپورٹ کا انتظار ہے۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 11:21 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
متوفیوں کے دماغ، دل اور آنتیں ہری پڑگئی تھیں، مگرموت کی اصل اورحتمی وجہ معلوم ہونے کیلئے اب بھی فارنسک جانچ کی مکمل رپورٹ کا انتظار ہے۔
جنوبی ممبئی میں راتوں رات طبیعت خراب ہونے سے ایک ہی خاندان کے ۴؍ افراد کا انتقال ہونے کو ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود ان کی موت کی اصل وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے البتہ ابتدائی فارنسک جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان چاروں کی موت تربوز کھانے سے نہیں بلکہ کسی زہر سے ہوئی تھی۔
فارنسک ذرائع کے مطابق مرحومین، موبائیل فون کے سازو سامان کے تاجر عبداللہ ڈوکاڈیا (۴۵)، ان کی اہلیہ نسرین (۳۵)، بیٹیاں عائشہ (۱۶) اور زینب (۱۳) کے دماغ، دل اور آنتیں ہری ہوگئی تھیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی موت کسی زہر سے ہوئی ہے۔ جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ ان کے مکان سے تربوز، پلائو اور کھجور جیسے کھانے کی چیزوں کے جو نمونے لئے گئے تھے ان میں سے کسی میں بھی زہریلا مادہ نہیں پایا گیا ہے جس سے یہ طے ہوگیا ہے کہ انہوں نے جو کھانا اور تربوز کھایا تھا وہ ان کی موت کی وجہ نہیں بنا۔
یہ بھی پڑھئے: سپریہ سلے اب کبھی ’پوار بنام پوار‘ مقابلہ نہیں کریں گی، مہایوتی نے خیر مقدم کیا
ماہرین کومتوفیوں کے جسم میں مورفن دوا بھی ملی ہے۔ یہ دوا بہت زیادہ درد کی شکایت ہونے پر ماہر ڈاکٹر تجویز کرسکتے ہیں۔ یہ پتہ لگانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ چاروں افراد کے جسم میں یہ دوا کیونکر موجود تھی اور ان کی ہلاکت کا اس دوا سے کچھ تعلق یا نہیں۔یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل سنیچر کی شب عبداللہ نے اپنے دیگر پانچ رشتہ داروں کی دعوت کی تھی اور ان سب نے اس شب کو پلائو کھایا تھا۔ مہمانوں کے چلے جانے کے بعد گھر کے افراد نے شب کو تقریباً ایک بجے تربوز کھایا تھا اور اس کے بعد سے ان سب کی طبیعت خراب ہوگئی، انہیں قے، چکر آنا اور اسہال کی شکایت ہوگئی تھی جس کی وجہ سے غذائی سمیت کا شبہ ہورہا تھا لیکن صبح ۵؍ بجکر ۳۰؍ منٹ سے ۶؍ بجے تک اسپتال میں علاج کے دوران ان چاروں کا انتقال ہوگیا۔دعوت کھانے والے دیگر رشتہ دار صحت مند اور محفوظ ہیں۔
ابتدائی جانچ میں غذائی سمیت کی تردید ہوگئی ہے۔ تربوز کی وجہ سے ان چاروں کی موت ہونے کی خبریں عام ہونے کے بعد سے تربوز کا کاروبار بُری طرح سے متاثر ہوگیا تھا لیکن اب تاجروں نے بھی راحت کی سانس لی ہے اور عوام سے بھی اس تعلق سے خوف جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھئے: شیواجی پارک میں ’مہاراشٹر ڈے‘ شاندارطریقے سے منایا گیا
جے جے مارگ پولیس نے اس معاملے میں حادثاتی موت کا کیس درج کیا ہے تاہم مختلف زاویوں سے اس معاملے کی تحقیق جاری ہے جن میں خودکشی یا کسی ایک فرد کے سب کو زہر دے کر قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلینے کا امکان بھی شامل ہے۔
فی الحال مہلوکین کے جسم کے مختلف اعضاء کے نمونوں کی تفصیلی ’ٹوکسیکولوجی‘ رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے کیونکہ اس رپورٹ سے موت کی وجہ معلوم ہونے کی قوی امید ہے۔