Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوواک جوکووچ نے والدین کو بچوں کو ’’بور‘‘ ہونے دینے کا مشورہ دیا

Updated: July 30, 2026, 10:03 AM IST | Belgrade

سربیا کے ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو ہر وقت موبائل فون، ٹیبلٹ یا دیگر تفریحی ذرائع میں مصروف رکھنے کے بجائے کبھی کبھار بور ہونے دیں۔ ان کے مطابق بوریت بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں، خود اعتمادی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے، جبکہ ہر لمحہ اسکرین کے ذریعے مصروف رکھنا ان کی فطری نشوونما میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

Novak Djokovic with his family. Photo: X
نوواک جوکووچ اپنے اہل خانہ کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

سربیا کے عالمی شہرت یافتہ ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ نے جدید دور میں بچوں کی پرورش سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کو بچوں کو ہر وقت مصروف رکھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں کبھی کبھار بور ہونے کا موقع بھی دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب بچے اپنی تخلیقی صلاحیتوں، تجسس اور تصوراتی دنیا کو خود دریافت کرتے ہیں۔ جوکووچ نے جے شیٹی کے پوڈکاسٹ On Purpose میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے اپنے بچوں کے پاس ذاتی موبائل فون نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں اسکرینیں، سوشل میڈیا، ویڈیوز اور مسلسل ڈیجیٹل تفریح بچوں کو ایک لمحے کے لیے بھی خاموش بیٹھنے کا موقع نہیں دیتیں، جبکہ انسانی ذہن کی تخلیقی صلاحیت اکثر اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب انسان کے پاس کچھ دیر کے لیے کوئی مصروفیت نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: لندن: یہ جمہوریت کی بھی لڑائی ہے؛ گریٹا تھنبرگ طلبہ کے احتجاج میں شریک

ان کے مطابق جب کوئی بچہ بور ہوتا ہے تو وہ خود نئے کھیل ایجاد کرتا ہے، سوالات سوچتا ہے، چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی تخیل کی دنیا کو وسعت دیتا ہے۔ جوکووچ نے کہا کہ والدین اکثر بچوں کے ’’میں بور ہو گیا ہوں‘‘ کہنے پر فوراً انہیں فون، ٹیبلٹ یا کوئی اور تفریحی ذریعہ دے دیتے ہیں، حالانکہ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بچے کا ذہن قدرتی طور پر نئی چیزیں تخلیق کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ والدین کو ہر لمحہ بچوں کی تفریح کا انتظام کرنے کی ذمہ داری محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے بقول اگر بچوں کو کچھ دیر اپنی سوچ کے ساتھ رہنے دیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ خود اپنی دلچسپیاں تلاش کرنا، مسائل کا حل نکالنا اور خود مختار انداز میں وقت گزارنا سیکھتے ہیں۔ جوکووچ کا کہنا تھا کہ یہ صلاحیتیں بعد کی زندگی میں بھی ان کی شخصیت اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی میزائل کے ذخائر میں کمی، ٹرمپ کا اپنی فوج کو ایران پر حملے روکنے کا حکم

جوکووچ کے خیالات کو بچوں کی نفسیات اور والدین کی تربیت پر کام کرنے والے کئی ماہرین کی رائے سے بھی ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق محدود اور متوازن اسکرین ٹائم، آزادانہ کھیل، تخلیقی سرگرمیاں اور خاموشی کے لمحات بچوں کی ذہنی نشوونما، توجہ، تخیل اور جذباتی استحکام کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ہر بچے کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اور والدین کو عمر، مزاج اور حالات کے مطابق توازن قائم رکھنا چاہیے۔ 
نوواک جوکووچ اس سے قبل بھی جسمانی صحت، ذہنی مضبوطی، غذائی عادات اور خاندانی زندگی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا تازہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں کے بڑھتے ہوئے اسکرین ٹائم اور ڈیجیٹل انحصار پر والدین، ماہرین تعلیم اور نفسیات دان مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK