Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب ایس آئی آر کےکام کیلئے اسکول کے اوقات میں تبدیلی کافرمان

Updated: July 09, 2026, 1:09 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

محکمہ تعلیم کے فیصلے سے تعلیمی تنظیمیں ناراض، کہا : اسکول میں اساتذہ کے کم تعداد میںرہنے سے اس کا اثر طلبہ کی تعلیم پر پڑےگا ۔پیچیدگیاں کم ہونےکےبجائے بڑھ رہی ہیں ۔

SIR Maharashtra.Photo:INN
ایس آئی آر مہاراشٹر۔ تصویر:آئی این این
اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی ڈیوٹی پر مامور بی ایل اوزکی سہولت کیلئے ریاستی اور شہری انتظامیہ کے محکمے تعلیم نے اسکول کا وقت کم کرنے کا نیا فرمان جاری کیا ہے تاکہ بی ایل اوز کی ڈیوٹی کرنے والے اساتذہ بچوں کی پڑھائی کے بعد اپنا زیادہ تر وقت ایس آئی آر کے کام کیلئے وقف کر سکیں  لیکن اس فیصلے سے ایک تو طلبہ کی پڑھائی کا نقصان ہوگا، دوسرے جو اساتذہ بی ایل او کی ڈیوٹی نہیں کررہےہیں، انہیں اضافی وقت میں کیا کرنا ہے، اس کی وضاحت نہ کرنے سے ان میں تذبذب  پایا جا رہاہے ۔اس معاملہ میں ہر نئے سرکیولر کے ساتھ پیچیدگیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں ۔  ٹیچرس یونینوں نے اس فیصلے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ واضح رہے کہ ایس آئی آر کی ذمہ داری اسکول انتظام کے ذریعہ اساتذہ کو سونپی گئی ہے۔ اس کام کیلئے اساتذہ کی بطور کل وقتی بی ایل او تعیناتی سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے ۔اساتذہ اور تنظیموں کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس کے پیش نظر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی )نے ۹؍ جولائی سے تمام اسکولوں کاوقت کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اب اساتذہ آدھا دن اسکول میں کام کرنے کے بعد بی ایل او کے کام پر جا سکیں گے۔ اس سے اساتذہ کو راحت ملے گی۔
 
 
ایس آئی آر کو مقررہ وقت میںمکمل کرنے کیلئےبی ایم سی نے اساتذہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ تعطیلات اور تعلیمی اوقات کے بعد بطور بی ایل او کام کریںلیکن اس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ اس لئے تمام اساتذہ اور تنظیموں کی طرف سے ایس آئی آر کے کل وقتی کام کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے ۔ طلبہ کے تعلیمی نقصان کےپیش نظر ڈپٹی ایجوکیشن کمشنر نے ۶؍جولائی کو ہونے والی میٹنگ میں میونسپل کارپوریشن کے تمام  اسکولوں کے اوقات ِ کار تبدیل کرنے کے زبانی احکامات دیئے ہیں۔ اس کے مطابق ۹؍ جولائی سے بی ایم سی کے تمام میڈیم اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی کی جائے گی۔
محکمہ تعلیم کی ہدایت کے مطابق ایس آئی آر کے کام کیلئے تیار کردہ ٹائم ٹیبل عارضی ہے ۔ اس کے علاوہ جن اساتذہ کوایس آئی آر کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے، وہ اسکول میں پورے دن حاضررہیں اور بقیہ مدت کے دوران ان طلبہ کی رہنمائی کریں اور مشق کرائیں جو  پڑھائی میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ 
اس ضمن میں سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کے ڈائریکٹرڈاکٹر مہیش پالکر نے بھی۷؍ جولائی کو ایک سرکیولر جاری کیا جس میں واضح ہدایات دی گئی ہیں  جس کے مطابق اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ بی ایل او کے طور پر مقرر کردہ اساتذہ کوراحت مل سکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن اساتذہ کی بطور بی ایل او تقرری نہیں ہوئی ہے ، وہ بھی متعلقہ اساتذہ کے ساتھ تعلیمی اور دیگر سرگرمیوں میں تعاون کریں تاکہ بی ایل او کے طور پر کام کرنے والے اساتذہ پر کوئی اضافی دباؤ نہ پڑے۔
اساتذہ کی یونینوں نے ریاست میں غیر تعلیمی کاموں میں اساتذہ کی کثرت سے شمولیت پر ناراضگی ظاہر کی ہے، جو پہلے ہی اساتذہ کی کمی  اور نصاب کو وقت پر مکمل کرنے میں چیلنجوں کا سامنا کر رہےہیں۔ 
محکمہ تعلیم کے اس فیصلے پر مہاراشٹر اسٹیٹ سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری اسکول پرنسپلز اسوسی ایشن کے سابق نائب صدر مہندر گنپولے نے ۲۳؍اگست ۲۰۲۴ء کے حکومتی فیصلے کا حوالہ دیا اور اس کیلئے اسکول کے ٹائم ٹیبل میں تبدیلی کے متضاد فیصلے پر تنقید کی، خود حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ بی ایل اوز کا کام غیرفعال ہے۔ 
 
 
مہاراشٹر اسٹیٹ شکشک سینا کے کارگزار صدر جالند ر دیورام سرودے کے مطابق ’’اساتذہ کے اوقات ِکار   ایڈجسٹ کرنے اورایس آئی آر اور بی ایل او کا کام کرنے کے احکامات ، اسکولوں کی موجودہ صورت حال سے بالکل متضاد ہیں ۔بہت سے اسکولوں میں اساتذہ کی مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔ ایسے میں اگر اساتذہ کو اسکول سے ہٹایا جاتا ہے تو اس کا براہ راست اثر طلبہ کی تعلیم پر پڑے گا۔ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سے اساتذہ پر مسلسل غیر تعلیمی کاموں کا بوجھ ہے۔ حکومت اساتذہ کو ان کاموں سے آزاد کر کے کلاس روم میں واپس بھیجےیہی ہمارا مطالبہ ہے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK