Inquilab Logo Happiest Places to Work

جون۲۰۲۶ء میں سمندروں کا درجۂ حرارت بلند ترین سطح پر، سائنسدانوں کا انتباہ

Updated: July 05, 2026, 2:03 PM IST | London

موسمیاتی تبدیلی اور سپر ایل نینو کے مشترکہ اثرات نے دنیا کے سمندروں کا درجۂ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، جس پر سائنسدانوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خطرناک رجحان آئندہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور دنیا کو شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سپر ایل نینو کے باعث دنیا کے سمندروں کا درجۂ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ دو عالمی اداروں کی تازہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ سمندری پانی کا اوسط درجۂ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ محض آغاز ہے اور آئندہ مہینوں میں سمندری سطح کا درجۂ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس بات کی تصدیق کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس اور کوپرنیکس میرین سروس نے کی ہے۔ کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے ڈائریکٹر کارلو بون ٹیمپو نے ایک بیان میں کہا کہ ’’جب سمندروں کا درجۂ حرارت اس سطح پر پہنچ چکا ہے اور ایل نینو بھی شدت اختیار کر رہا ہے تو آنے والے مہینوں میں مزید درجۂ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹنے کا قوی امکان ہے۔ ‘‘ ان کے مطابق دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

یہ بھی پڑھئے: کیف پر روس کا میزائل اورڈونز سے حملہ، ۲۰؍افراد ہلاک، ۳۴؍زخمی

دونوں کوپرنیکس مشاہداتی پروگراموں کے مطابق جون۲۰۲۶ء میں عالمی سمندروں کا اوسط درجۂ حرارت۲۰۲۳ءاور ۲۰۲۴ءمیں ریکارڈ کئے گئے تمام سابقہ ریکارڈز سے تجاوز کر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ ’’غیر معمولی اور بے مثال‘‘ شدت موسمیاتی تبدیلی اور سپر ایل نینو کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ ہے۔ سائنسداں اس سے قبل بھی خبردار کر چکے تھے کہ۲۰۲۶ء میں ایل نینو غیر معمولی شدت اختیار کرے گا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں شدید گرمی، تباہ کن سیلاب اور طویل خشک سالی جیسے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ گزشتہ ڈیڑھ سو برسوں کا شدید ترین ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات یورپ، ہندوستان اور امریکہ سمیت مختلف خطوں میں پہلے ہی محسوس کئے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: علی خامنہ ای کی شہادت جدوجہد کا اختتام نہیں : پزشکیان

سمندروں کا درجۂ حرارت ریکارڈ سطح پر
گزشتہ ماہ سمندری پانی کا اوسط درجۂ حرارت تقریباً۲۱؍ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست اثرات ہیں اور دنیا کے سمندر اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کے باعث زمین کے ماحول میں حرارت پھنس جاتی ہے۔ اگرچہ فضا اس حرارت کا صرف ایک معمولی حصہ اپنے اندر رکھتی ہے، لیکن باقی اضافی حرارت سمندر جذب کر لیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا ۹۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ سمندر اپنے اندر جذب کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پارلیمنٹ: لاؤڈ اسپیکر پراذان محدود کرنے کا بل ابتدائی مرحلے میں منظور

یہ سمندروں اور بالآخر انسانوں کیلئے کیوں خطرناک ہے؟
سمندر اپنی غیر معمولی حرارت جذب کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے زمین کو شدید گرمی سے محفوظ رکھتے ہیں لیکن جیسے جیسے ان کا درجۂ حرارت بڑھتا جا رہا ہے، ویسے ویسے ان کی یہ صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ گرم ہوتے سمندر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) جذب کرنے کی اپنی صلاحیت بھی کھونے لگتے ہیں۔ نتیجتاً زیادہ مقدار میں سی او ٹو فضا میں باقی رہتی ہے، جس سے عالمی حدت مزید تیزی سے بڑھتی ہے۔ اس طرح ایک خطرناک چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں بڑھتی ہوئی گرمی سمندروں کو مزید نقصان پہنچاتی ہے اور سمندروں کی بگڑتی ہوئی حالت عالمی حدت کو مزید شدت دیتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو زمین پر انسانی زندگی کیلئے حالات بتدریج زیادہ مشکل اور ناقابلِ برداشت ہوتے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: لوریل کو’’ سیراوی‘‘ سے کینسر کے خطرے کے دعووں پرکلاس چھ ایکشن مقدمات کا سامنا

ہیٹ ڈوم (Heat Dome)
سپر ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی نے مل کر یورپ میں حالیہ موسمِ گرما کو بدترین بنا دیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث بعض علاقوں میں سڑکیں تک پگھلنے لگی ہیں اور لوگ جان لیوا درجۂ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہیٹ ڈوم (Heat Dome) نامی موسمی کیفیت ہے، جس میں گرم ہوا کسی ڈھکن کی طرح ایک وسیع علاقے پر جم جاتی ہے اور گرمی مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ امریکہ بھی اس وقت ہیٹ ڈوم کی لپیٹ میں ہے۔ ۴؍ جولائی کے ہفتے کے دوران نارتھ کیرولائنا اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے، جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK