Updated: January 16, 2026, 4:13 PM IST
| Agartala
ادیشہ کے بالاسور میں نام نہاد گئو رکھشکوں کے ذریعے ایک مسلم شخص پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، تشدد کے دوران اسے ’’ جئے شری رام ‘‘ اور ’’گئو ماتا کی جے‘‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا، بعد میں اسے اسپتال لے جایا گیا ، جہاں زخموں کی تاب نہ لاکر وہ فوت ہو گیا۔
دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، ادیشہ کے بالاسور ضلع میں بدھ کو گئو رکھشکوں کے حملے میں ایک مسلمان شخص کی موت ہو گئی۔شیخ مکندر محمد، آسیہ گاؤں کا رہائشی، ایک مویشی لے جانے والی وین کے ہیلپر کے طور پر کام کرتاتھا۔بدھ کو، گئو رکھشکوں کے ایک گروہ نے محمد کی وین کو روکنے کی کوشش کی۔ وین ایک قصبے کے باہر پلٹ گئی۔ٹیلی گراف کے مطابق، ڈرائیوربھاگنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن محمد ہجوم کے ہاتھوں پکڑا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: بہار: بنگلہ دیشی کے نام پرغریب مسلم مزدور اور پھیری والوں کے خلاف تشدد میں اضافہ
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو، جسے واقعے کی ویڈیو بتایا جا رہا ہے، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گروہ نے محمد کو پائپ سے مارا اور اسے ’’جے شری رام‘‘ اور’’گئو ماتا کی جے‘‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔حالانکہ اس نے ان کی بات مان لی تھی اس کے باوجود ہجوم نے اسے مارنا جاری رکھا ۔بعد میں پولیس نے محمد کواسپتال پہنچایا، لیکن جمعرات کو وہ حملے میں ہونے والے زخموں کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ بعد ازاں پولیس نے بھارتیہ نیایا سنہیتا کے تحت ایک مقدمہ درج کیا ہے جو مذہب، نسل یا ذات کی بنیاد پر تعصب سے متحرک گروہ کی طرف سے لنچنگ سے متعلق ہے۔ محمد کے بھائی نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے اور پانچ افراد کو مشتبہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مساجد و درگاہوں کیخلاف مسلسل عرضیوں پرکورٹ برہم
دریں اثناء دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، قتل کے سلسلے میں تین مشتبہ افراد کو جمعرات کو گرفتار کیا گیا۔ٹیلی گراف کے حوالے سے، ادیشہ ہ دودھ فارمرز ایسوسی ایشن کے سربراہ رابی بیہرا نے کہا کہ جون۲۰۲۴ء میں موہن ماجھی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے گئو رکھشکوں کی غیر قانونی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔بیہرا نے کہا، ’[حکومت کو ایسے معاملات میں سخت کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔
واضح رہے کہ ملک میں ایسے معاملے معمول بنتے جارہے ہیں، جن میں کچھ اوباش لوگوں کی بھیڑگائے کے نام پر کسی بھی مسلم کے ساتھ مارپیٹ کرنے لگتی ہے، ان پر مختلف نعرے لگوانے کیلئے تشدد کیا جاتا ہے ، حتٰی کہ جان تک لے لی جاتی ہے۔ ان معاملات میں پولیس کی کارروائی بھی سست روی کا شکار ہے۔ جس وجہ سے جانوروں اور دودھ سے منسلک کاروبارویوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔