• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈھینکنال، ادیشہ: ہندوتوا ہجوم کا عیسائی پادری پر تشدد؛ گائے کا گوبر کھانےاور نعرے لگانے پر مجبور کیا

Updated: January 17, 2026, 10:04 PM IST | Bhubaneswar

پادری کی اہلیہ کے مطابق، انہیں بار بار تھپڑ مارے گئے اور لاٹھیوں سے پیٹا گیا۔ ہندوتوا ہجوم نے ان کے چہرے پر سرخ سیندور مَلا اور گلے میں جوتوں کا ہار ڈالا۔ اس کے بعد بجرنگ دل کے ممبران اور کچھ دیہاتیوں نے تقریباً دو گھنٹے تک انہیں گاؤں میں گھمایا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ادیشہ کے ضلع ڈھینکنال میں ہندوتوا گروپ بجرنگ دل کے ممبران نے مبینہ طور پر ایک مسیحی پادری پر پرتشدد حملہ کیا اور انہیں گائے کا گوبر کھانے اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کیلئے مجبور کیا۔ یہ واقعہ ۴ جنوری کو ڈھینکنال کے پرجنگ گاؤں میں پیش آیا، جہاں پادری بپن بہاری نائیک اپنی اہلیہ اور دیگر افراد کے ساتھ ایک مقامی گھر میں دعائیہ تقریب کیلئے گئے تھے۔ پادری کی اہلیہ وندنا کے مطابق، جب وہ گھر پہنچے تو وہاں تقریباً ۴۰ افراد کا ہجوم جمع ہوگیا اور مطالبہ کرنے لگا کہ نائیک فوری طور پر باہر آئیں۔ جب انہوں نے کہا کہ وہ دعا ختم ہونے کے بعد باہر آئیں گے، تو ہجوم مبینہ طور پر گھر میں گھس آیا اور وہاں موجود لوگوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔

وندنا نے مکتوب میڈیا کو بتایا کہ ”سات خاندان کے افراد ہمارے ساتھ دعا کر رہے تھے۔ میں اور میرے بچے کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور ایک تنگ گلی کے ذریعے قریبی پولیس اسٹیشن کی طرف بھاگے۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ نائیک کو گھسیٹ کر باہر لے جایا گیا اور بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں بار بار تھپڑ مارے گئے، لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور سرعام ذلیل کیا گیا۔ ہندوتوا ہجوم نے ان کے چہرے پر سرخ سیندور مَلا اور گلے میں جوتوں کا ہار ڈالا۔ اس کے بعد بجرنگ دل کے ممبران اور کچھ دیہاتیوں نے تقریباً دو گھنٹے تک انہیں گاؤں میں گھمایا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ الیکشن جیتنے کیلئے بی جےپی بنگال میں فساد کروانا چاہتی ہے‘‘

وندنا نے کہا کہ انہوں نے پولیس سے مداخلت کی التجا کی، لیکن اہلکار کافی تاخیر سے گاؤں پہنچے۔ جب وہ پولیس کے ساتھ وہاں پہنچیں، تو انہوں نے نائیک کو ایک ہنومان مندر کے پاس بندھا ہوا پایا۔ ان کے ہاتھ ایک سلاخ کے پیچھے جکڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ”ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ انہیں زبردستی گائے کا گوبر کھلایا گیا اور نعرے لگوانے کی کوشش کے دوران انہیں مسلسل تھپڑ مارے گئے۔“

مذہبی آزادی کیلئے کام کرنے والے گروپ اے ڈی ایف انڈیا کے ایک رکن نے بتایا کہ نائیک کو طبی امداد کے بغیر تقریباً ایک گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں انتظار کرایا گیا، وہ ننگے پاؤں تھے، شدید صدمے میں تھے اور ان کا چہرہ اب بھی سیندور سے بھرا ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہجوم نے نائیک پر ”زبردستی مذہب تبدیلی“ کا الزام لگایا۔ 

وندنا نے الزام لگایا کہ پولیس نے شروع میں کیس کو ہلکا کرنے کی کوشش کی اور گاؤں کے سرپنچ کی جانب سے لگائے گئے جوابی الزامات کی وجہ سے شکایت درج کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ آخر کار ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی، لیکن پادری کے خاندان کے خلاف بھی مبینہ زبردستی تبدیلیِ مذہب کی جوابی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ادیشہ: بالاسور میں گئو رکھشکوں کی مسلم شخص کے ساتھ وحشیانہ مارپیٹ

واقعے کے بعد پادری اپنے خاندان سمیت محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے ہیں جبکہ گاؤں کے سات مسیحی خاندان کے گھروں کو آگ لگانے کی دھمکیوں کے بعد وہ روپوش ہوگئے ہیں۔ ادیشہ میں حالیہ مہینوں میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے مذہبی گروہوں اور سول سوسائٹی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK