زخمیوں میں ایک کی حالت نازک، وزیر اعلیٰ نے حادثہ کی تفتیش اور ذمہ دارشخص پر کارروائی کا اعلان کیا۔ ایف آئی آر درج۔ ایم ایم آر ڈی اے نے ٹھیکیدار پر ۵؍ کروڑ اور جنرل کنسلٹنٹ پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا۔عدم تحفظ کے احساس پر مقامی افراد کا مظاہرہ۔ میٹرو پروجیکٹ سے عوام میں خوف۔
بر یج کے گرنے والے حصے کے نیچے آنے سےرکشا کے پر خچے اڑ گئے ہیں۔(تصویر:پی ٹی آئی)
سنیچر کی دوپہر ملنڈ (مغرب) میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا جس میں میٹرو ۴؍ کیلئے تعمیر کئے جارہے بریج کا سیمنٹ کا بنا ہوا ایک وزنی حصہ نیچے سڑک سے گزرنے والے رکشا اور ایک کار پر گر گیا جس کی وجہ ایک شخص کی موت ہوگئی جبکہ ایک خاتون سمیت دیگر۳؍ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں ایک شخص کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
جائے حادثہ پر کام جاری نہیں تھا
یہ حادثہ ’وڈالا۔کاسروڑولی‘ کے درمیان میٹرو ۴؍ کیلئے تعمیر کئے جارہے بریج کا حصہ گرنے سے پیش آیا۔ اگرچہ یہ بریج زیر تعمیر ہے لیکن یہ حادثہ ملنڈ (مغرب) میں ایل بی ایس روڈ پر جانسن اینڈ جانسن کمپنی کے قریب پیش آیا جہاں کافی حد تک کام مکمل ہوچکا ہے اور فی الحال یہاں کسی طرح کا کوئی کام جاری نہیں تھا اور اسی وجہ سے بریج کے نیچے سے گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت دی گئی تھی۔ اس حصہ پر کام جاری نہ ہونے کے باوجود حادثہ پیش آنے سے عوام میں شدید تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ شہر و مضافات میں کئی مقامات پر بڑے پیمانے پر میٹرو کے پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ماہم : ۳؍میونسپل اسکولوں کے طلبہ ایک ہی اسکول میں پڑھنے پر مجبور
ایک کی موت دیگر ۳؍ زخمی
بریج کا حصہ تقریباً ۶؍ فٹ بائی ۴؍ فٹ کا تھا اور اس کے نیچے دبنے کی وجہ سے رکشا پوری طرح تہس نہس ہوگیا البتہ ایک نجی اسکوڈا کار کا اگلا حصہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس حادثہ میں مرنے والے شخص کی شناخت رامدھن یادو کے طور پر ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کے نام راجکمار یادو (۴۵)، مہندر یادو (۵۲) اور دیپا روہیا (۴۰) بتائے گئے ہیں۔ ان میں سے راجکمار جائے حادثہ کے قریب واقع اوپاسانی اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ جبکہ مہندر اور دیپا کی حالت بہتر ہے۔
مقامی افراد کا احتجاج
واضح رہے کہ سوشل میڈیا ’ریڈ اِٹ‘ پر تقریباً ایک ہفتے قبل ایک شخص نے جائے حادثہ سے کئی میٹر فاصلے پر واقع ایک جگہ پر ستون کے قریب دراڑ کی نشاندہی کی تھی لیکن ’ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی‘ (ایم ایم آر ڈی اے) نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دراڑ نہیں ہے اور سب کچھ ٹھیک ہے۔ تاہم سنیچر کو حادثہ پیش آنے کے بعد اس علاقے میں رہنے والے یہاں جمع ہوگئے اور انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عوام کے تحفظ سے متعلق سوال اٹھائے۔ یہاں چند افراد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ڈیڑھ ماہ پہلے بھی کسی نے یہاں غیر معیاری کام کی نشاندہی کی تھی لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔
حالانکہ سنیچر کو ایم ایم آر ڈی اے نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر (دراڑ) کی پرانی تصویریں شیئر کی جارہی ہیں جبکہ حادثہ دیگر مقام پر، ستون نمبر ’پی ۱۹۶‘ کے پاس پیش آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اگر ہیلمٹ نہیں تو ٹول ناکہ عبور کرنے کی اجازت نہیں ‘‘
معاوضہ، تفتیش اور جرمانہ کا اعلان
ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے مہلوک کے اہلِ خانہ کو ۵؍ لاکھ روپے معاوضہ دینے اور زخمیوں کے مفت علاج کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حادثہ کے تعلق سے تفتیش کرائی جائے گی تاکہ پتہ چل سکے کہ جو احتیاط برتنی چاہئے تھی وہ برتی گئی یا نہیں، اگر احتیاط برتی گئی ہوتی تو حادثہ پیش نہیں آتا۔ یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ حادثہ کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
اس دوران ایم ایم آر ڈی اے نے زخمیوں کے علاج کا خرچ برداشت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ایک اعلامیہ میںکہا ہے کہ حادثہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جارہی ہے اور جانچ کی رپورٹ آنے تک اس پروجیکٹ کی ٹھیکیدار کمپنی ’آر اے جے وی ملن انفرا‘ پر ۵؍ کروڑ روپے اور کنسلٹنٹ کمپنی جو چند کمپنیوں کا مجموعہ ہے، ’ڈی بی انجینئرنگ، ہِل انٹرنیشنل اِنک اور لوئس برجر کنسلٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ البتہ جانچ کی رپورٹ آنے کے بعد ٹھیکیدار کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے جیسے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
شام ہونے تک پولیس نے حادثہ کے تعلق سے ایف آئی آر درج کرلی تھی اور تفتیش شروع کردی گئی تھی۔
چونکہ پورے ممبئی و مضافات اور اطراف کے شہروں میں میٹرو کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے اس لئے اب لوگ ان پروجیکٹ کے پاس سے گزرنے کے تعلق سے خوف محسوس کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شاعر ِ اہل ِ بیت صادق رضوی کا انتقال
ورشاگائیکواڑ کا طنز
کانگریس لیڈر ڈاکٹر ورشا گائیکواڑنے حکومت پر طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا انسانی زندگی اتنی سستی ہوگئی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریر کیا کہ حکومت اپنی تشہیر میں مصروف ہے جبکہ اس طرح کے پروجیکٹ پر عوامی تحفظ کا خصوصی دھیان دینا چاہئے۔