اوپن اے آئی نے’GPT-6 Astra ‘ لانچ کیا، یہ اے آئی ماڈل پیچیدہ کام خود کرے گا
Updated: September 04, 2026, 10:02 PM IST
| New York
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اوپن اے آئی نے اپنا جدید ترین ماڈل’GPT-6 Astra ‘ متعارف کرایا ہے۔ یہ ماڈل صرف سوالات کے جواب دینے کے بجائے پیچیدہ کام خود انجام دینے اور حقیقی دنیا کے کاموں میں انسانوں کی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تصویر: آئی این این۔
کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد اوپن اے آئی نے بالآخر اپنا جدید ترین فلیگ شپ ماڈل’’ GPT-6 Astra ‘‘لانچ کردیا ہے۔ سیم آلٹمین کی قیادت والی کمپنی نے جمعرات، ۳؍ ستمبر کو اپنا نیا اے آئی ماڈل متعارف کراتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے ’’ذہین اور ہم آہنگ ماڈل‘‘ قرار دیا۔ بینچ مارکس کے حوالے سے اس ماڈل نے غیر معمولی صلاحیت اور کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق’’ GPT-6 Astra ‘‘کئی برسوں کی تحقیق اور پری ٹریننگ، ری انفورسمنٹ لرننگ اور الائنمنٹ کے شعبوں میں کی گئی بڑی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل کمپیوٹر کے استعمال، ویب براؤزنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، سائبر سیکوریٹی، سائنس اور پیشہ ورانہ کاموں میں جدید ترین صلاحیت رکھتا ہے۔ اوپن اے آئی نے اسے اے آئی کی استدلالی صلاحیت، کمپیوٹر استعمال، کوڈنگ اور پیشہ ورانہ کام کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ پہلے کے چیٹ بوٹس بنیادی طور پر صارف کے سوالات یا ہدایات کا جواب دیتے تھے، لیکن’ Astra ‘کو پیچیدہ اور کئی مراحل پر مشتمل کام خود انجام دینے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹس براؤز کرنے، دستاویزات اور سافٹ ویئر کے ساتھ کام کرنے، کوڈ لکھنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
’Astra ‘کیا کرسکتا ہے؟ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو’Astra ‘ کا مقصد اے آئی کو صرف سوالات کے جواب دینے والے ایک ٹول سے آگے بڑھا کر ایسا نظام بنانا ہے جو حقیقی کام خود انجام دے سکے۔ یہ انسان کی طرح کمپیوٹر کے ساتھ تعامل کرسکتا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق’Astra ‘ فارم پُر کرنے، سی آر ایم ریکارڈز اپ ڈیٹ کرنے، کیلنڈر منظم کرنے، آن لائن تحقیق کرنے، ویب سائٹس بنانے، سافٹ ویئر کی جانچ کرنے اور سائنسی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے سمیت مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔ یہ صارف کی جانب سے دیئے گئے ٹیمپلیٹس اور ہدایات کے مطابق دستاویزات، اسپریڈ شیٹس اور پریزنٹیشنز بھی تیار کرسکتا ہے۔ اس ماڈل میں ۱ء۰۵؍ ملین ٹوکنز پر مشتمل کانٹیکسٹ ونڈو دی گئی ہے، جس کی مدد سے یہ ایک ہی کام کے دوران بہت بڑی مقدار میں معلومات کو مدنظر رکھ سکتا ہے۔ یہ زیادہ سے زیاد ہ ایک لاکھ ۲۸؍ ہزار آؤٹ پٹ ٹوکنز تیار کرسکتا ہے۔
’’ GPT-6 Astra ‘‘کی کارکردگی کارکردگی کے حوالے سے اوپن اے آئی کا دعویٰ ہے کہ’ Astra‘ نے کئی مشکل اور اہم بینچ مارکس میں جدید ترین نتائج حاصل کئے ہیں۔ FrontierMath Tier 4 پر، جو جدید ریاضیاتی مسائل حل کرنے کی صلاحیت جانچتا ہے، ’ Astra‘ نے۹۸؍ فیصد اسکور حاصل کیا۔ اسی طرح ARC-AGI پر، جو کسی ماڈل کی نامانوس اور نئے نوعیت کے استدلالی مسائل حل کرنے کی صلاحیت جانچتا ہے، ’ Astra‘ نے۹۹ء۹؍ فیصد اسکور کیا۔ سائبر سیکوریٹی کے بینچ مارک ExploitBench پر ماڈل نے صدفیصد اسکور حاصل کیا۔ کمپیوٹر کے استعمال سے متعلق کارکردگی’ Astra ‘کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔ اوپن اے آئی کی OSWorld 2.0 latency simulations میں ’Astra‘ نے ۷۲ء۶؍فیصد اسکور حاصل کیا، جبکہ GPT-5.6 Sol کا اسکور۶۵ء۷؍فیصد رہا۔ ’ Astra‘ نے یہ کام تقریباً۴۰؍ منٹ میں مکمل کئے، جبکہ GPT-5.6 Sol کو تقریباً ۷۵؍منٹ لگے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ ہر کام مکمل کرنے میں تقریباً ۴۷؍فیصد کم وقت صرف ہوا۔ نئے’’ GPT-6 Astra ‘‘نے پیشہ ورانہ کاموں میں بھی نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر قانونی ٹیکنالوجی کمپنی Legora کے مطابق’ Astra‘ نے مالیاتی بیانات سے متعلق ایک ورک فلو میں اس کی کارکردگی میں تقریباً۴۰؍فیصد بہتری کی اور۴۱؍ دستاویزات میں جان بوجھ کر شامل کی گئی چاروں غلطیوں کی نشاندہی کرلی۔
کیا یہ’ AGI ‘کی شروعات ہے؟ اگرچہ بینچ مارکس کے نتائج متاثر کن ہیں، لیکن اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے لانچ سے قبل ایک پریس بریفنگ میں اس سے بھی آگے کی بات کی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ’ GPT-6 Astra ‘‘کو مستقبل میں مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کے آغاز کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ بتا دیں کہ اے جی آئی سے مراد عمومی طور پر ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو انسان کی طرح سیکھنے، استدلال کرنے اور مختلف نوعیت کے ذہنی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ بروک مین نے تسلیم کیا کہ’ اے جی آئی‘اب بھی ایک ’غیر واضح اور دھندلا تصور‘ ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی مضبوط بنیاد موجود ہے کہ ٹیکنالوجی اب اس دور میں داخل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ محسوس کرنا غیر مناسب نہیں کہ ہم اب اے جی آئی کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ ‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اوپن اے آئی باضابطہ طور پر یہ اعلان کررہی ہے کہ اس نے اے جی آئی حاصل کرلی ہے، تو بروک مین نے کہا کہ اب یہ اصطلاح مائیکروسافٹ کے ساتھ معاہدے سے منسلک نہیں ہے۔ انہوں نے اے جی آئی کو ایک ’مشن کا تصور یا روحانی تصور‘ قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق بروک مین نے بریفنگ کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا:’اے جی آئی کے دور میں خوش آمدید۔ ‘
صارفین کیلئے اس کا کیا مطلب ہے؟ عام صارفین کیلئے سب سے بڑی تبدیلی شاید یہ ہوگی کہ اے آئی اب حقیقی وقت میں کاموں کو خود انجام دینے کے قابل ہوگا۔ اب کسی اے آئی سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ ڈاکٹر سے ملاقات کیسے بک کی جائے، اخراجات کی شیٹ کیسے تیار کی جائے یا مختلف ریستورانوں کا موازنہ کیسے کیا جائے، صارف صرف اسے یہ کام خود انجام دینے کیلئے کہہ سکتا ہے۔ مظاہروں کی بنیاد پر’ Astra‘ ویب سائٹس پر جا سکتا ہے، مختلف سافٹ ویئر استعمال کرسکتا ہے اور کئی مراحل پر مشتمل کام مکمل کرسکتا ہے، جس کیلئےصارف کو ہر چھوٹے مرحلے کی الگ ہدایت دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس صلاحیت سے اے آئی ایسے وقت طلب کام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے انجام دے سکے گا۔ پیشہ ور افراد کیلئے اس کے اثرات اس سے بھی زیادہ بڑے ہوسکتے ہیں۔ ڈیولپرزسافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور ٹیسٹنگ کے کچھ حصےاے آئی کے حوالے کرسکتے ہیں، محققین معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کیلئے اے آئی کا استعمال کرسکتے ہیں کاروبار دہرائے جانے والے انتظامی کام خودکار بناسکتے ہیں، جبکہ تخلیقی ٹیمیں نئی مصنوعات تیار کرنے اور ان میں مسلسل بہتری لانے کیلئے اے آئی استعمال کرسکتی ہیں۔
دنیا کیلئے اس کا کیا مطلب ہے؟ ’Astra‘ زیادہ طاقتور اے آئی ایجنٹس کے بڑھتے ہوئے خطرات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ اوپن اے آئی کی اپنی سیفٹی ایویلیوایشن کے مطابق’ Astra Critical cybersecurity capability‘ کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل سیکوریٹی کی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان سے فائدہ اٹھانے والے ایکسپلائٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں بعض ٹیسٹنگ ماحول میں پہلے سے نامعلوم کمزوریاں بھی شامل ہیں۔ یہاں ایک اہم خطرہ موجود ہے: یہی صلاحیتیں جو ڈیولپرز کو سیکوریٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، ممکنہ طور پر حملہ آوروں کی جانب سے غلط استعمال بھی کی جاسکتی ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’ Astra‘اس کا اب تک کا سب سے زیادہ aligned ماڈل ہے اور اسے کام کی حدود کا احترام کرنے میں بھی بہتر بنایا گیا ہے۔
ایک ایسے ٹیسٹ میں جو ماضی کے ایک اے آئی سیکوریٹی واقعے پر مبنی تھا، GPT-5.6 Sol نے پروڈکشن سیفٹی اقدامات کے بغیر ۴۸؍فیصد مواقع پر مجاز ہدف سے آگے بڑھ کر کام کیا، جبکہ ’ Astra‘نے ایسا صفر فیصد مواقع پر کیا۔ لہٰذا ’GPT-6 Astra ‘ کی اصل اہمیت صرف یہ نہیں کہ یہ سوالات کے بہتر جوابات دے سکتا ہے۔ یہ ماڈل ایسے اے آئی نظاموں کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے جو استدلال کرسکتے ہیں، کمپیوٹر استعمال کرسکتے ہیں اور حقیقی دنیا کے کام خود مکمل کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے اے آئی غیر معمولی حد تک زیادہ مفید بن سکتا ہے، تاہم حفاظت، سائبر سیکوریٹی، انسانی نگرانی اور کنٹرول سے متعلق اہم سوالات اب بھی برقرار ہیں۔
This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience
and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree
to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK