Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیمی نظام کی تباہی پراپوزیشن حملہ آور، مودی سرکار کی سازش قرار دیا

Updated: June 01, 2026, 10:26 AM IST | New Delhi

کھرگے نے یو جی سی، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور یونیورسٹیوں   کی تباہی کا حوالہ دیا، کہا:ایک امتحان کا انعقاد بھی نہیں  ہوپاتا۔

Opposition leader Rahul Gandhi during a meeting with CBSE class 12th students at his residence. Photo: PTI
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سی بی ایس ای کے ۱۲؍ ویں  کے طلبہ سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کےدوران۔ تصویر: پی ٹی آئی

پہلے نیٹ پرچہ لیک، پھر سی بی ایس ای کے ۱۲؍ ویں   کے نتائج میں   آن اسکرین مارکینگ سسٹم (او ایم آر) کی تباہ کاریوں  سے ملک بھر میں طلبہ غیر معمولی ذہنی دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ ملک میں  تعلیمی نظام کی حالت زار اور طلبہ کی پریشانیوں  کیلئے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اتوار کو ایک طویل پوسٹ میں  کہا ہےکہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو بدعنوانی کے جال میں پھنسا کر تعلیمی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سی بی ایس ای نتائج میں  خامیوں کی نشاندہی پر ۱۲؍ ویں   کےطلبہ کو سوشل میڈیا پر ٹرول کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’(جن طلبہ کو)ایگزام واریئر بنانے چلے تھے، (انہی پر) ڈیپ اسٹیٹ ایجنٹ اور پاکستانی ہونے کی تہمت لگادی۔ ‘‘
کھرگے نے ملک کے تعلیمی نظام کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں  لکھا ہے کہ ’’سی بی ایس ای کے امتحان دینے والے ۱۷؍سال کے طلبہ ہوں یا نیٹ کے امیدوار، مودی حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو اپنی بدعنوانی کے جال میں پھنسا کر ہندوستان کے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی سازش رچی ہے۔ ‘‘ کانگریس صدر نے نشاندہی کی کہ ’’کبھی آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، مرکزی یونیورسٹیاں  اور قومی تعلیمی ادارے ملک کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا مرکز ہوا کرتے تھے، لیکن اب یہ حالت کردی گئی ہےکہ بی جے پی کی لوٹ مار کے باعث ہم ایک بورڈ امتحان بھی صحیح طریقے سے منعقد نہیں کروا پا رہے ہیں۔ ‘‘ تعلیم نظام کی خامیوں  کو مودی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کانگریس صدر نےکہا کہ کوئی بھی ادارہ اٹھا کردیکھ لیجئے، یوجی سی تباہ ہوگیا، جے این یو اور مرکزی یونیورسٹیوں   میں   انتقامی سیاست ہورہی ہے، طلبہ کی آواز دبائی جارہی ہے، آندولن کو پسپا کیاگیا، وائس چانسلرس کی تقرری میں   نظریاتی قبضہ کیا گیا اور ملک بھر میں  ۹۰؍ ہزار سے زائد اسکول بند کرکے سال بہ سال تعلیم کا بجٹ گھٹایا جارہا ہے۔   کھرگے نے اپنے پوسٹ میں اے آئی سے بنائی گئی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں وزیراعظم مودی کو ’’پریکشا پے چرچا‘‘ کرتے ہوئے دکھایا گیاہے۔  تصویر کے نچلے حصے میں پریشان اور فکرمند طلبہ کو دکھایا گیا ہے، جن کے ارد گرد مختلف امتحانی تنازعات، سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے اور امتحانی نظام سے متعلق خبروں کی سرخیاں نمایاں ہیں۔ تصویر پر درج عبارت میں طلبہ کے ’ایگزام واریئرس‘ سے ’پیپر لیک کے متاثرین‘ بننے تک تحریر ہے۔ کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ جب بھی نوجوان سڑکوں پر آتا ہے، جین زی آواز اٹھاتا ہےتو ہر بار اس کی آواز دبائی جاتی ہے،اس پر الزام لگائے جاتے ہیں اوراسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مودی سرکار پر نوکری دینے کے بجائے نوکری بھرتی کیلئے ہونےوالے امتحانات کے ذریعہ اپنی جیبیں بھرنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا  اور کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا ہے۔  کانگریس صدر نے دوٹوک انداز میں  وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مودی جی! مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لیجئے، تبھی طلبہ کو انصاف ملے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کا مدھو کشور کو پیشگی ضمانت دینے سے انکار

سی بی ایس ای کے پریشان طلبہ سے راہل گاندھی کی ملاقات، جوابی پرچوں سے متعلق ان کی شکایات کی تائید کی، اوایم آر کے ٹھیکے میں  بدعنوانی کا الزام لگایا، موبائل سے جوابی پرچوں  کی اسکیننگ کا حوالہ دیا
کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں  اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نےاتوار کو ایک پوسٹ کر کے سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ(او ایم آر) کیلئے ٹھیکہ دینے میں  جانبداری کامعاملہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ ’سی ای او ایم پی ٹی‘ (کوئمپٹ)کمپنی کو ٹھیکہ دینے کیلئے ضوابط کو نرم کیا گیا جس کا نتیجہ ہے کہ طلبہ کو پریشانیوں  کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ 
انہوں  نے طلبہ کے جوابی پرچوں   کے خلط ملط ہوجانے کے الزامات کی بھی تائید کی۔ اس سے قبل راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے ۱۲؍ ویں   کے طلبہ کے ایک گروپ سے ملاقات کااپناایک ویڈیو شیئر کیااور کہا کہ یہ بہادر نوجوان ہندوستانی ہیں جنہیں جائز سوال اٹھانے پر جواب دینے کے بجائے توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ حکومت حامی صحافیوں  نےاِن طلبہ کو سوروس کا ایجنٹ اور پاکستانی تک قرار دیا۔ اسی پس منظر میں  راہل گاندھی نے مذکورہ ملاقات کو ’’ اپنے ساتھی’ملک دشمن سوروس ایجنٹس‘ کے ساتھ ایک چشم کشا گفتگو‘‘ قرار دیا۔ اس بات پر زور دیتے ہوے کہ یہ طلبہ روشن اور محفوظ مستقبل کے مستحق ہیں اور انہوں   نے کہاکہ’’ ہم یقینی بنائیں گے کہ انہیں روشن مستقبل ملے۔ ‘‘راہل گاندھی نے ویڈیو کے ساتھ ایکس پر پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ویدانت اور اس کے دوست ذہین اور بہادر نوجوان ہندوستانی ہیں جنہوں نے سی بی ایس ای اور مودی حکومت سے سادہ سوالات پوچھے، لیکن انہیں جواب ملنے کے بجائے توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ ‘‘ویڈیو میں راہل گاندھی طلبہ سے ان کے تجربات کے بارے میں غیر رسمی گفتگو کرتے نظر آئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ جائز خدشات اور مسائل اٹھانے کے بعد انہیں ’’پاکستانی‘‘ اور’’ڈیپ اسٹیٹ کے ایجنٹ‘‘ قرار دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ملیح آباد: کسمنڈی کلاں کے سروے میں مسجد اور قبروں کے شواہد پائے گئے

راہل گاندھی نے آن اسکرین مارکنگ (او ایم آر) تنازع پر ایک بار پھر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ جوابی پرچوں  کی اسکیننگ میں سنگین بے ضابطگیاں لاکھوں طلبہ کی پریشانی کا سبب ہیں۔ انہوں   نے نشاندہی کی کہ ’’مئی۲۵ء میں او ایم آر کیلئے کاپیوں  کی اسکیننگ کا ٹھیکہ دینے کیلئے سی بی ایس ای کے ٹینڈر میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ جوابی کاپیوں کو خودکار روبوٹک اسکینرس کے ذریعہ کم از کم۳۰۰؍ ڈی پی آئی ریزولیوشن پر اسکین کیا جائے گا اور کاپیوں کی بائنڈنگ کو محفوظ رکھا جائے گا مگر اگست میں دوبارہ ٹینڈر جاری کرکے ان شرائط کو خاموشی سے تبدیل کر دیا گیا۔ ‘‘ ان کے مطابق ’’اسکینرس‘‘ کی اصطلاح کو عمومی بنا دیا گیا اور ریزولیوشن۳۰۰؍ ڈی پی آئی سے کم کر کے۲۰۰؍ کر دیا گیا۔ کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ او ایم آر سےوابستہ کمپنی نے جوابی کاپیوں کی اسکیننگ موبائل فون سے کی۔ انہوں  نے الزام لگایا کہ جو گڑبڑیاں  اور خامیاں  ہوئیں  وہ اسی کا نتیجہ ہیں ۔ انہوں  نے اسکین شدہ جوابی پرچو ں  کی تصویر بھی شیئر کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب سی یو ای ٹی امتحان میں تکنیکی خرابی، طلبہ عاجز آگئے

سی بی ایس ای نے خامیوں کا اعتراف کیا، اصلاح کا وعدہ بھی کیا
سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے اپنے ڈجیٹل امتحانی ریکارڈس سے متعلق سیکوریٹی کی خامی کے حوالے سے کی گئی نشاندہی پر اس کا اعتراف کرتے ہوئے اصلاحی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ یہ کارروائی ایک سائبر سیکوریٹی محقق کے ان دعوؤں کے بعد کی گئی ہے جن میں ۱۲؍ ویں  کی جوابی کاپیوں کسی بھی عام تکنیکی ماہر کیلئے آسان رسائی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب۱۹؍سالہ ’ایتھیکل ہیکر ‘نسرگ ادھیکاری نے عوامی طور پر بتایا کہ ۱۲؍ ویں  کا امتحان دینےوالے طلبہ کے جوابی پرچوں  کے کلاؤڈ اسٹوریج تک رسائی ممکن ہے۔ اس پرعوامی توجہ کے بعد سی بی ایس ای نے فوری ردِعمل میں  کہا کہ وہ ’’آن مارک‘‘ نامی پورٹل میں نشاندہی کی گئی خامیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ پورٹل ایک بیرونی سروس فراہم کنندہ چلاتا ہے۔ بورڈ نے زور دے کر کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ سی بی ایس ای کے مطابق’’گزشتہ چند دنوں کے دوران حکومت کے مختلف اداروں اور آئی آئی ٹیز جیسے تکنیکی اداروں سے تعلق رکھنے والے سائبر سیکوریٹی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ ‘‘بورڈ نے بتایا کہ جن خامیوں  کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا ہے اور مزید خامیوں  کی تلاش کی جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK