Updated: June 29, 2026, 8:46 PM IST
| New Delhi
سیشلز حکومت کے ذریعے دیئے گئے تعریفی دستاویز میں مودی کی قیادت، پائیدار ترقی کیلئے عزم، بین الاقوامی تعاون اور دوطرفہ تعلقات میں ان کے تعاون کی تعریف کی گئی ہے۔ تاہم، صارفین نے فوراً ہی یہ بات نوٹ کرلی کہ دستاویز میں لفظ ”republic“ کو غلطی سے ”repubblic“ اور ”Seychelles“ کو ”Seycheeles“ لکھا گیا تھا۔
وزیراعظم نریندر مودی کو سیشلز کی جانب سے ملنے والے قومی اعزاز کی تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے ایوارڈ کے ساتھ دی جانے والی صدارتی تعریفی دستاویز (citation) میں املے کی غلطیوں کی نشان دہی کی ہے۔
سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمینی نے اتوار کے دن مودی کے جزیرہ نما ملک کے دورے کے دوران انہیں ”گارڈین آف دی بلیو ہورائزن“ (Guardian of the Blue Horizon) ایوارڈ سے نوازا۔ مودی سیشلز کے قومی دن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس اعزاز کو، جسے سیشلز کا سب سے بڑا صدارتی اعزاز قرار دیا گیا ہے، مودی کے دورے سے محض تین دن پہلے ہی قائم کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آر راج گوپال معاملہ: ایڈیٹرز گلڈ کا اظہار تشویش، اپوزیشن کی مرکز پر شدید تنقید
سیشلز حکومت کے ذریعے دیئے گئے تعریفی دستاویز میں مودی کی قیادت، پائیدار ترقی کیلئے عزم، بین الاقوامی تعاون اور چھوٹے جزیروں والی ترقی پذیر ریاستوں کیلئے ان کی حمایت کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات میں ان کے تعاون کی تعریف کی گئی ہے۔ تاہم، صارفین نے فوراً ہی یہ بات نوٹ کرلی کہ دستاویز میں لفظ ”republic“ کو غلطی سے ”repubblic“ اور ”Seychelles“ کو ”Seycheeles“ لکھا گیا تھا۔
اپوزیشن نے ایوارڈ کے پیچھے ’جلد بازی‘ کو نشانہ بنایا
کانگریس نے اعزاز نامے میں غلطیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ پارٹی لیڈر سپریہ شری نیت نے کہا کہ ”سیچلس نے چار دن پہلے یہ ایوارڈ بنایا اور مودی جی اسے لینے کیلئے دوڑے چلے گئے۔“ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ہندوستان نے اس دورے پر سیشلز کو ۱۵۰۰ کروڑ روپے کی معاشی امداد بھی فراہم کی۔
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ ”مودی کو ”ایوارڈز“ اور غیر ملکی سفر سے محبت ہے۔ ہندوستان نے سیشلز کو ۵۰۰ کروڑ روپے کی گرانٹ اور ۱۲۵۰ کروڑ روپے کی لائن آف کریڈٹ دی ہے جس کی وجہ سے خوشی خوشی انہیں غلط املا والا سرٹیفکیٹ دے دیا۔“
یہ بھی پڑھئے: مودی حکومت نے آپریشن سیندور کے شہداء کی معلومات چھپائی: کانگریس کا الزام، حکومت نے دعویٰ مسترد کیا
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات پر جاری خدشات کے پیش نظر، مودی کو ماحولیاتی اعزاز دیئے جانے کی ستم ظریفی کی طرف اشارہ کیا۔ سنگیتا نامی صارف نے اس پروجیکٹ کیلئے تقریباً دس لاکھ درختوں کی کٹائی کا حوالہ دیتے ہوئے تعریفی دستاویز کو ”کئی سطحوں پر المناک حد تک مضحکہ خیز“ قرار دیا۔
ان غلطیوں نے دستاویز کی اصلیت پر بھی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ کچھ صارفین نے قیاس آرائی کی کہ اسے شاید اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی صحافی سہاسنی حیدر نے نوٹ کیا کہ اس دستاویز کے خالق کا سوال اس لئے زیادہ اہم ہے کیونکہ نہ تو سیشلز حکومت اور نہ ہی ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے اس دستاویز کو اپنی آفیشل ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیا ہے۔