Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر راج گوپال معاملہ: ایڈیٹرز گلڈ کا اظہار تشویش، اپوزیشن کی مرکز پر شدید تنقید

Updated: June 29, 2026, 3:07 PM IST | New Delhi

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے سابق صحافی اور دی ٹیلی گراف کے سابق ایڈیٹر آر راج گوپال کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے اور اس کے بعد پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے ان کی ووٹر حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

R Rajagopal. Photo: INN
آر راج گوپال۔ تصویر: آئی این این

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے اتوار کو سابق صحافی اور دی ٹیلی گراف کے سابق ایڈیٹر آر راج گوپال کے ساتھ پیش آنے والے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس انداز کی مذمت کی جس میں، اس کے بقول، ’’بیوروکریسی یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ کون ہندوستانی شہری ہے اور کون نہیں۔‘‘ سنیچر کو آر راج گوپال نے انکشاف کیا تھا کہ مارچ میں مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision) کے دوران ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، بظاہر اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ۲۰۰۲ء کی انتخابی فہرست میں ان کا اور ان کے والد کا نام نہیں مل سکا۔

راج گوپال نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان کا نام ’’منطقی تضادات‘‘ (Logical Discrepancies) کا حوالہ دیتے ہوئے خارج کیا، جن میں والدین کے ناموں میں عدم مطابقت، والدین اور اولاد کے درمیان غیر معمولی عمر کا فرق اور والدین کے چھ سے زیادہ بچوں کا اندراج جیسے نکات شامل تھے انہوں نے بتایا کہ اسی دوران انہیں اپنے پاسپورٹ کی تجدید میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ۱۹؍ مارچ کو بائیومیٹرک کارروائی مکمل ہونے کے باوجود پولیس تصدیق کا مرحلہ مکمل نہ ہو سکا کیونکہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں تھا۔ راج گوپال، جو ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۳ء تک دی ٹیلی گراف کے ایڈیٹر رہے، کا کہنا تھا کہ انہوں نے متبادل دستاویزات بھی جمع کرائیں، لیکن انہیں ناکافی قرار دے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’تمام عملی مقاصد کے لیے میں خود کو شہری غیر یقینی کی کیفیت میں پاتا ہوں، حالانکہ حال ہی میں حکومت نے خود کہا ہے کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہوتا۔ اب میرا زیادہ تر وقت کئی دہائیوں پرانے خاندانی ریکارڈ اور دستاویزات اکٹھی کرنے میں گزر رہا ہے۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے کے باعث وہ ۱۷؍ اپریل کو امریکہ میں اپنی بیٹی کی شادی میں بھی شرکت نہیں کر سکے، حالانکہ ان کے پاس دس سالہ امریکی ویزا موجود تھا۔ ان کے مطابق اب انہیں ۱۷؍ جولائی کو کولکاتا کے ریجنل پاسپورٹ آفس میں پیش ہونے کے لیے وقت دیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ میں اردو پڑھانے پر ٹیچر پر حملہ، کیس بھی درج

اتوار کو ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے اپنے بیان میں کہا کہ راج گوپال کئی دہائیوں تک صحافت اور عوامی زندگی میں سرگرم رہے، اس کے باوجود وہ نہ صرف ووٹ کے حق سے محروم ہوئے بلکہ مبینہ طور پر کولکاتا پولیس کی ’’منفی رپورٹ‘‘ کی وجہ سے اپنا پاسپورٹ بھی تجدید نہیں کرا سکے۔ گلڈ نے کہا کہ کولکاتا پولیس یقیناً راج گوپال کو جانتی تھی کیونکہ وہ شہر کے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ راج گوپال کا معاملہ اس مشکل کی نشاندہی کرتا ہے جس سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے بعد لاکھوں شہری گزر رہے ہیں۔ گلڈ نے کہا کہ ’’اگر یہ صورتحال آر راج گوپال جیسے معروف عوامی شخصیت کے ساتھ پیش آ سکتی ہے تو ان لوگوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جن کے پاس اپنی آواز بلند کرنے یا انصاف حاصل کرنے کے وسائل موجود نہیں۔‘‘ گلڈ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’منطق اور ہمدردی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے راج گوپال کی ووٹر حیثیت فوری بحال کرے اور اسی نوعیت کے دیگر متاثرین کے معاملات پر بھی یکساں توجہ دے۔ 

اپوزیشن کا ردعمل
اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے بھی مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن وویک تنکھا نے کہا کہ اگر کسی شخص سے اس کے والد کا کئی دہائیوں پرانا میٹرک سرٹیفکیٹ طلب کیا جائے تو زیادہ تر افراد اسے پیش نہیں کر سکیں گے۔ سی پی آئی کے راجیہ سبھا رکن پی سندوش کمار نے اس واقعے کو ’’انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیا، جبکہ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بی بی نے الزام لگایا کہ خصوصی نظرثانی کا عمل غریب اور کمزور طبقات کو حق رائے دہی سے محروم کر رہا ہے۔

ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن ساگریکا گھوش نے بھی اس واقعے کو ’’حیران کن اور دل دہلا دینے والا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صورتحال ایک معروف صحافی کے ساتھ پیش آ سکتی ہے تو عام شہریوں کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر میں اپنا ووٹ کھویا اب پاسپورٹ سے بھی محروم ہوں‘‘

راج گوپال کے مطابق، اپریل کے پہلے ہفتے میں انہیں بالی گنج تھانے سے پولیس کی کال موصول ہوئی، جہاں پاسپورٹ تصدیق کے لیے انہیں ووٹر شناختی کارڈ لانے کو کہا گیا۔ جب انہوں نے بتایا کہ ان کا نام پہلے ہی ووٹر لسٹ سے حذف کیا جا چکا ہے تو معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ دوسری جانب، کولکاتا پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ پولیس مطلوبہ تصدیق مکمل نہیں کر سکی اور درخواست اب ریجنل پاسپورٹ آفس کے زیر غور ہے۔ تاہم کولکاتا پولیس اور مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔ 

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران لاکھوں ووٹرز کے نام حذف کیے گئے تھے۔ فروری میں جاری حتمی فہرستوں میں ابتدائی طور پر ۶۱؍ لاکھ سے زائد ووٹرز خارج کیے گئے، جبکہ بعد ازاں یہ تعداد تقریباً ۹۱؍ لاکھ تک پہنچ گئی، جو ریاست کے تقریباً ۹ء۱۱؍ فیصد ووٹرز ہیں۔ تقریباً ۳۴؍ لاکھ اپیلیں اپیلیٹ ٹربیونلز کے سامنے زیر سماعت رہیں، جن میں سے ۲۷؍ لاکھ درخواستیں ان افراد کی تھیں جن کے نام انتخابی فہرست سے حذف کیے گئے تھے۔ بعد ازاں ٹربیونلز نے ۱۶۰۷؍ افراد کے نام دوبارہ شامل کرنے کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھئے: مودی حکومت نے آپریشن سیندور کے شہداء کی معلومات چھپائی: کانگریس کا الزام، حکومت نے دعویٰ مسترد کیا

مغربی بنگال کے علاوہ بہار، اتر پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ سمیت کئی ریاستوں میں بھی گزشتہ برس انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کی جا چکی ہے جبکہ تیسرے مرحلے کی کارروائی ۱۶؍  ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ہے۔ ۲۷؍ مئی کو سپریم کورٹ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کو آئینی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے تقاضوں کو مضبوط کرتی ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا تھا کہ ووٹر لسٹ کی جانچ کا مقصد کسی شخص کی شہریت کا فیصلہ کرنا نہیں ہو سکتا۔ اسی دوران وزارت خارجہ نے بھی حالیہ دنوں میں ایک بار پھر واضح کیا کہ پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے، اسے شہریت کا قانونی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK