ڈاکٹر رندہ کو نہ بلانےکے فیصلے کے بعد، ایڈیلیڈ فیسٹیول کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ ’جیوش کونسل آف آسٹریلیا‘ نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’مادیت پسندانہ اور افسوسناک‘‘ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: January 10, 2026, 6:01 PM IST | Canberra
ڈاکٹر رندہ کو نہ بلانےکے فیصلے کے بعد، ایڈیلیڈ فیسٹیول کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ ’جیوش کونسل آف آسٹریلیا‘ نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’مادیت پسندانہ اور افسوسناک‘‘ قرار دیا۔
آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ فیسٹیول نے فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر رندہ عبدالفتاح کو ’ایڈیلیڈ رائٹرز ویک‘ کے پروگرام میں مدعو افراد کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ فیسٹیول بورڈ نے گزشتہ ماہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی ’’ثقافتی حساسیت‘‘ کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں نہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ تنقید کرنے والے ادیبوں، ماہرینِ تعلیم، سیاست دانوں اور تنظیموں نے اسے سینسرشپ اور فلسطین مخالف نسل پرستی کی ایک واضح مثال قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں ایڈیلیڈ فیسٹیول بورڈ نے تصدیق کی کہ وہ اگلے ماہ ہونے والی تقریب میں ڈاکٹر رندہ عبدالفتاح کی طے شدہ شرکت کو منسوخ کررہا ہے۔ بورڈ نے کہا کہ وہ ڈاکٹر رندہ یا ان کے کام اور بونڈی بیچ سانحے کے درمیان کسی تعلق کا اشارہ نہیں دے رہا ہے، لیکن اس کا خیال ہے کہ ’’ماضی میں دیئے گئے ان کے بیانات کو مد نظر رکھتے ہوئے‘‘ اس واقعے کے اتنے کم وقت کے بعد انہیں پروگرام میں شامل کرنا ثقافتی حساسیت کے منافی ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر اسرائیلی حملے، ۲۴؍ گھنٹوں میں ۱۴؍ فلسطینی شہید
اس فیسٹیول میں ڈاکٹر رندہ عبدالفتاح اپنی نئی کتاب ’’ڈسپلن‘‘ (Discipline) کے بارے میں بات کرنے والی تھیں۔ اپنے نام کو خارج کیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے سڈنی کی میکوری یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ تعلیم نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی اور اسے ’’فلسطین مخالف نسل پرستی اور سینسر شپ کا کھلا اور شرمناک اقدام‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے خود کو بونڈی حملے سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا۔ ڈاکٹر رندہ نے کہا کہ اس فیصلے نے انہیں محض ’’ایک ایسی چیز بنا دیا ہے جس پر دوسرے اپنے نسل پرستانہ خوف کا عکس ڈالتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی ’’محض موجودگی‘‘ کو ثقافتی طور پر غیر حساس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور فلسطینیوں کو ’خطرناک‘ یا ’غیرمحفوظ‘ کے طور پر دیکھنے کے رویہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ محصور فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے آسٹریلوی ثقافتی اداروں پر فلسطینیوں کے تئیں حقارت دکھانے کا الزام لگایا اور کہا کہ صرف ’’خاموش اور غیر مرئی‘‘ فلسطینیوں کو ہی برداشت کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: افغان طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ملک
فیسٹیول کے بائیکاٹ کی مہم
ڈاکٹر رندہ کو نہ بلانےکے فیصلے کے بعد، ایڈیلیڈ فیسٹیول کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ ’جیوش کونسل آف آسٹریلیا‘ نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’مادیت پسندانہ اور افسوسناک‘‘ قرار دیا۔ کونسل نے کہا کہ یہ عمل، یہودیوں کے تحفظ کے نام پر فلسطینیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔ ’دی آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ‘ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال کے رائٹرز ویک سے اپنی حمایت اور اسپانسر شدہ تقریبات واپس لے رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مصنفین کو یوں نکالنا، اظہارِ رائے کی آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ڈاکٹر رندہ عبدالفتاح کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد نامور ادیبوں اور عوامی دانشوروں نے اس تقریب سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ دستبردار ہونے والوں میں زیڈی اسمتھ، یانس وروفاکیس، کینتھ روتھ، پیٹر گریسٹی، ہیلن گارنر، مشیل ڈی کریٹسر، کلوئی ہوپر، ہننا کینٹ، اور میکسین بینیبا کلارک و دیگر شامل ہیں۔ معروف مصنفہ جین کیرو نے بھی فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اس فیصلے کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا اور بڑھتی ہوئی آمریت کے بارے میں خبردار کیا۔
جنوبی آسٹریلیا کی گرینز سیاست دان ٹیمی فرینکس ایم ایل سی (MLC) نے کہا کہ اس اقدام کے فنکارانہ آزادی اور جمہوریت پر پریشان کن اثرات مرتب ہوگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی فنڈز سے چلنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ آزادئ اظہار کا تحفظ کریں۔ صحافی کیٹلن جانسٹون نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عملی طور پر ڈاکٹر رندہ عبدالفتاح کی فلسطینی شناخت کو ثقافتی طور پر غیر حساس سمجھا گیا ہے۔