Inquilab Logo Happiest Places to Work

آکسفیم کا کہنا ہے کہ عالمی غربت برقرار رہنے کے باوجود ارب پتیوں کی دولت میں اضافہ

Updated: January 21, 2026, 5:17 PM IST | New York

عالمی فلاحی ادارے آکسفیم کے مطابق دنیا کے ارب پتیوں کی دولت میں گزشتہ ایک سال کے دوران۵ء۲؍ کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ انتہائی غربت کے مکمل خاتمے کے لیے ۲۶؍ فیصد زیادہ رقم ہے۔

Wealth Up.Photo:INN
دولت میں اضافہ۔ تصویر:آئی این این

عالمی فلاحی ادارے آکسفیم کے مطابق دنیا کے ارب پتیوں کی دولت میں گزشتہ ایک سال کے دوران۵ء۲؍ کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ انتہائی غربت کے مکمل خاتمے کے لیے ۲۶؍ فیصد زیادہ رقم ہے۔ ادارے نے بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور شہری آزادیوں میں کمی پر خبردار کیا ہے۔ آکسفیم کی تازہ رپورٹ میں اس دور کو ’’ارب پتیوں کی دہائی‘‘ قرار دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ جہاں انتہائی دولت تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہیں دنیا کی تقریباً نصف آبادی اب بھی غربت میں زندگی گزار رہی ہے اور ہر چار میں سے ایک فرد کو باقاعدگی سے مناسب خوراک میسر نہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا میں ارب پتی افراد کی تعداد پہلی بار ۳؍ہزارتک پہنچ گئی ہے۔مطالعے میں یہ بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح انتہائی امیر افراد معیشت اور معاشروں کو اپنے حق میں ڈھالنے کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ اور میڈیا طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔آکسفیم کے مطابق ۶۶؍ ممالک میں کیے گئے سروے میں تقریباً نصف افراد کا کہنا ہے کہ ’’ان کے ملک میں امیر لوگ اکثر انتخابات خرید لیتے ہیں‘‘ اور یہی رجحان عوامی احتجاج کو ہوا دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:داؤس میں ہندوستانی ریاستوں کی ہندوستانی کمپنیوں کےساتھ معاہددوں پرشدید تنقید

ادارے نے مزید کہا کہ ’’انتہائی دولت تیزی سے سیاسی طاقت میں تبدیل ہو رہی ہےاور اندازوں کے مطابق ارب پتی افراد عام شہریوں کے مقابلے میں۴۰۰۰؍ گنا زیادہ امکان رکھتے ہیں کہ وہ سیاسی عہدہ حاصل کریں۔‘‘آکسفیم کے مطابق، حکومتیں اس بڑھتی ہوئی بے چینی کے جواب میں شہری آزادیوں کو محدود کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کرلا:مارپیٹ واقعہ کے بعد بی ایم سی کی بلڈوزر کارروائی

رپورٹ میں کہا گیا ہے
لاکھوں لوگ، جو خود کو غربت میں پھنسا ہوا اور نظام پر اثر انداز ہونے سے محروم محسوس کرتے ہیں، سڑکوں پر نکل رہے ہیں، مگر ان کا سامنا آمرانہ اقدامات سے ہو رہا ہے۔آکسفیم نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس تعطل کو توڑنے کے لیے فوری اقدامات کریں، جن میں انتہائی عدم مساوات کا خاتمہ، جمہوریت کا تحفظ اور عوام کے حقوق کا دفاع شامل ہے۔اس میں انتہائی امیروں پر ٹیکس عائد کرنا، لابنگ اور انتخابی مالیات کے قوانین کو مضبوط بنانا، اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ عام لوگ اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بغیر خوف کے منظم ہو سکیں، احتجاج کر سکیں اور اپنی آواز بلند کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK