• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی چیٹ بوٹس سے طبی مشورے لینا خطرناک ہوسکتا ہے: آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق میں انکشاف

Updated: February 15, 2026, 1:22 PM IST | London

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے دیئے گئے جوابات میں اکثر درست اور غلط دونوں طرح کی معلومات شامل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کے لیے قابلِ اعتماد مشورے اور گمراہ کن رہنمائی کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک حالیہ تحقیق میں متنبہ کیا گیا ہے کہ طبی مشورے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس کا استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس انکشاف کے بعد صحت کے تعلق سے رہنمائی کے لیے اے آئی پر بڑھتے ہوئے عوامی انحصار کے تئیں سنگین خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے نفیلڈ ڈپارٹمنٹ آف پرائمری کیئر ہیلتھ سائنسیز کے زیرِ اہتمام کی گئی اس تحقیق کے نتائج ’نیچر میڈیسن‘ نامی جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔ تحقیق میں پایا گیا کہ جب علامات کی تشخیص یا علاج تجویز کرنے کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال کیا جاتا ہے تو وہ اکثر غلط یا غیر مستقل معلومات فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اے آئی سے تخلیق شدہ مواد کو واضح طور پر نشان زد کرنا لازمی قرار

تحقیقی مطالعہ کی شریک مصنفہ اور جنرل پریکٹیشنر ریبیکا پین نے کہا کہ اے آئی سسٹمز ابھی انسانی ڈاکٹروں کی جگہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چیٹ بوٹس مرض کی غلط تشخیص کر سکتے ہیں اور یہ پہچاننے میں ناکام ہو سکتے ہیں کہ کب اور کس طبی صورتحال میں مریض کو فوری پیشہ ورانہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔

محققین نے حقیقی دنیا کے حالات میں اے آئی کے انسانی استعمال کو جانچنے کے مقصد سے تقریباً ۱۳۰۰ شرکاء سے ممکنہ طبی حالات کی نشان دہی کرنے اور اگلے اقدامات سے متعلق تجاویز حاصل کرنے کے لیے کہا۔ کچھ شرکاء نے مدد کے لیے اے آئی لینگویج ماڈلز پر بھروسہ کیا، جبکہ دیگر نے روایتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے دیئے گئے جوابات میں اکثر درست اور غلط دونوں طرح کی معلومات شامل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کے لیے قابلِ اعتماد مشورے اور گمراہ کن رہنمائی کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ میں اے آئی کی وجہ سے ملازمتوں کے نقصان سے بچانے کے لیے نیا بل پیش

تحقیق کے مرکزی مصنف اینڈریو بین نے کہا کہ اگرچہ اے آئی معیاری طبی معلوماتی ٹیسٹوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن اسے حقیقی زندگی میں مریض کے ساتھ گفتگو اور فیصلہ سازی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے اپنی علامات کے لیے مدد کے خواہش مند مریضوں کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

محققین کو امید ہے کہ اس تحقیق کے نتائج ہیلتھ کیئر میں اے آئی کی محفوظ ترقی اور محتاط استعمال کی حوصلہ افزائی کریں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ڈجیٹل ہیلتھ ٹولز عوام میں تیزی سے مقبول ہورہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK