پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہجنگی طیاروں کے ریکارڈ آرڈرز ملنے پر چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں رہے گی،انہوں نے دعویٰ بھی کیا کہ مئی میں ہندوستان کے ساتھ چار روزہ جنگ کے بعد طیاروں کے آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: January 09, 2026, 10:18 PM IST | Islamabad
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہجنگی طیاروں کے ریکارڈ آرڈرز ملنے پر چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں رہے گی،انہوں نے دعویٰ بھی کیا کہ مئی میں ہندوستان کے ساتھ چار روزہ جنگ کے بعد طیاروں کے آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ جنگی طیاروں کے ریکارڈ آرڈرز ملنے پر چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں رہے گی،انہوں نے دعویٰ بھی کیا کہ مئی میں ہندوستان کے ساتھ چار روزہ جنگ کے بعد طیاروں کے آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔ جیو نیوز پروگرام میں بات کرتے ہوئے آصف نے مئی ۲۰۲۵ءکے ہند-پاکستان تنازع کو پاکستان کے ’’عزم اور فوجی استعطاعت ‘‘کا مظاہرہ قرار دیا جو دنیا نے دیکھا۔ واضح رہے کہ مئی ۲۰۲۵ء میں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے اپریل میں پہلگام میں دہشت گرد حملہ کیا جس میں۲۶؍ شہری ہلاک ہوئے۔ ہندوستان نے اس کا جواب ’’آپریشن سیندور‘‘ کے تحت فوجی کارروائی سے دیا، جس میں متعدد دہشت گرد کیمپ اور پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور تباہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران :ملک گیر مظاہروں میں مزید شدت
دریں اثناء رائٹرز کے مطابق دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً۲؍ ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف ۱۷؍ جنگی طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے مذاکرات جاری ہیں۔عرب نیوز کے مطابق، کئی ممالک نے پاکستان کے ساتھ دفاعی روابط بڑھائے ہیں۔ آصف نے جیو نیوز کو بتایاکہ ’’ابھی جو آرڈرز ہمیں مل رہے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں کیونکہ ہمارے طیارے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم یہ آرڈرز وصول کر رہے ہیں، اور ممکن ہے کہ چھ ماہ بعد ہمیں آئی ایم ایف کی بھی ضرورت نہ پڑے۔‘‘واضح رہے کہ پاکستان، چین کےاشتراد سے تیار کردہ جے ایف ۱۷؍ کو کم لاگت والا ملٹی رول فائٹر کے طور پر پیش کرتا ہے اور مغربی سپلائی سلسلے کے برعکس طیارے، تربیت اور دیکھ بھال فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔بعد ازاں آصف نے مکمل اعتماد سے کہا، ’’اگر اگلے چھ ماہ میں یہ تمام آرڈرز پورے ہو گئے تو ہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: سیکوریٹی خدشات اور کشیدگی کے باعث ہندوستان کیلئے ویزا خدمات معطل
یہ یاد رہے کہ پاکستان نے برسوں سے اپنی کمزور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے مالی مدد لی ہے، جو سخت شرائط جیسے مالی اصلاحات، سبسڈی میں کٹوتی اور محصولات بڑھانے کے اقدامات سے منسلک ہوتی ہے۔ ستمبر ۲۰۲۴ء میں آئی ایم ایف نے۷؍ ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت بیل آؤٹ منظور کیا، اس کے بعد مئی۲۰۲۵ء میںایک اعشاریہ ۴؍ ارب ڈالر کا الگ قرضہ کلائمیٹ ریزائلینس فنڈ کے تحت دیا گیا تاکہ ملک کی معاشی استحکام اور موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال میں مسجد پر حملے کے بعد حالات بے قابو، کرفیو نافذ
بنگلہ دیش کی جے ایف ۱۷؍ میں دلچسپی:
ڈھاکہ کی جانب سے اسلام آباد کے قریب آنے کی کوششوں کے تحت، بنگلہ دیش نے پاکستان سے جے ایف ۱۷؍ جنگی طیارے حاصل کرنے میں ممکنہ دلچسپی ظاہر کی ہے، ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان ایک دہائی سے زیادہ وقفے کے بعد۲۹؍ جنوری سے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ حالانکہ نو مبر۲۰۲۵ء میں ہندوستانی ایئر فورس چیف ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندورکے دوران کم از کم پانچ ہائی ٹیک پاکستانی فائٹرز (بشمول جے ایف ۱۷؍) گرانے گئے۔