Updated: January 24, 2026, 3:34 PM IST
| Islamabad
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شادی کی ایک تقریب اس وقت المیے میں بدل گئی جب ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش بمبار نے رقص میں مصروف مہمانوں کو نشانہ بنایا۔ دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور تقریباً ۲۵؍ زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد سیکوریٹی فورسیز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک شادی کی خوشیاں اس وقت ماتم میں تبدیل ہو گئیں جب ۲۳؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی شادی کی تقریب پر خودکش حملہ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب شادی میں شریک مہمان رقص میں مصروف تھے، جس کے نتیجے میں کم از کم سات افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ ۲۵؍ کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، خودکش بمبار شادی کی تقریب میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ تقریب کے مقام کی چھت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے باعث کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں، پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مالیاتی اداروں سے وابستہ افراد کیلئے خوشخبری
ریسکیو حکام نے بتایا کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے تک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ شدید زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ زخمیوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے علاقے کو سیل کر دیا اور شواہد اکٹھا کرنے کے ساتھ باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع کا معائنہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے میں کس نوعیت کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ سیکوریٹی ادارے اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ حملہ آور کو اندر داخل ہونے میں کس طرح کامیابی ملی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی رفح کراسنگ اگلے ہفتے دونوں سمتوں میں کھل جائے گی: عبوری کمیٹی کے سربراہ
صوبائی اور وفاقی قیادت نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ذمہ داروں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ حکام کے مطابق، شادی کی تقریب جیسے عوامی اجتماع کو نشانہ بنانا ایک بزدلانہ کارروائی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سیکوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں عوامی اجتماعات اب بھی شدت پسندوں کے لیے نرم ہدف سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث شادیوں، میلوں اور مذہبی تقریبات کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔