پاکستانی حکومت کا فیصلہ، ٹرمپ کے ایران کے جوہری مقامات پر "بنکر بسٹر بم" گرانے کی منظوری دینے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا تھا۔ ایران پر حملوں نے عالمی سطح پر ٹرمپ کی جنگ مخالف شبیہہ کو نقصان پہنچایا ہے۔
EPAPER
Updated: June 25, 2025, 7:01 PM IST | Islamabad/Washington
پاکستانی حکومت کا فیصلہ، ٹرمپ کے ایران کے جوہری مقامات پر "بنکر بسٹر بم" گرانے کی منظوری دینے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا تھا۔ ایران پر حملوں نے عالمی سطح پر ٹرمپ کی جنگ مخالف شبیہہ کو نقصان پہنچایا ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان نے مئی میں ہندوستان کے ساتھ جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام برائے امن کیلئے نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پاکستانی حکومت کے اس فیصلے کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ فیصلہ، ٹرمپ کے ایران کے جوہری مقامات پر "بنکر بسٹر بموں" کے ساتھ فضائی حملہ کرنے کی منظوری دینے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا تھا۔ ان حملوں نے عالمی سطح پر ٹرمپ کی جنگ مخالف شبیہہ کو نقصان پہنچایا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران، پاکستانی سیاستدان، شہباز شریف کی قیادت والی حکومت پر دباؤ بناتے ہوئے پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کیلئے نامزد کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اب ٹرمپ ممکنہ امن ساز نہیں رہے بلکہ ایک ایسے لیڈر بن گئے ہیں جس نے جان بوجھ کر غیر قانونی جنگ چھیڑ دی ہے، پاکستان کی حکومت کو نوبیل انعام کیلئے ان کی نامزدگی کا جائزہ لینا چاہئے اور اسے واپس لے لینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ (اسرائیلی وزیراعظم بنجامن) نیتن یاہو اور اسرائیلی لابی کے جال میں پھنس گئے ہیں، انہوں نے اپنے دور صدارت کی "سب سے بڑی غلطی" کی ہے۔ ٹرمپ اب امریکہ کے زوال پر صدارت کریں گے!
جمیعت علماء اسلام کے سربراہ اور تجربہ کار سیاستدان مولانا فضل الرحمٰن نے بھی حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا امن کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا ہے؛ اس لئے نوبیل انعام کی نامزدگی واپس لی جانی چاہئے۔ ٹرمپ نے فلسطین، شام، لبنان اور ایران پر اسرائیلی حملوں کی حمایت کی ہے، یہ امن کی علامت کیسے ہو سکتی ہے؟ جب امریکہ کے ہاتھوں پر افغانوں اور فلسطینیوں کا خون ہے تو وہ امن کا حامی کیسے ہو سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ غیر معمولی تھا، اسی لئےامریکہ دہل گیا
ٹرمپ کو یوکرین سے بھی مخالفت کا سامنا
اس ہفتے ٹرمپ کو ایک بڑا دھچکا لگا جب ایک سینئر یوکرینی قانون ساز نے پیر کو اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق، یوکرین کی پارلیمانی خارجہ کمیٹی کے سربراہ الیکسینڈر میریژکو نے پیر کی صبح اپنی نامزدگی واپس لیتے ہوئے کہا کہ میرا، ٹرمپ اور ماسکو اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرانے کی انکی صلاحیت پر "ہر قسم کا یقین اور اعتماد" ختم ہو گیا ہے۔ میریژکو نے نوبیل کمیٹی کو اپنے خط میں ٹرمپ پر ’جارح کو خوش کرنے کا انتخاب‘ کرنے کا الزام بھی لگایا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل جنگ بندی میں بھی قطر کا اہم رول، قطری وزیراعظم نے ایران کو آمادہ کیا
ٹرمپ ہنوز پُرامید
حالیہ تنقید کے باوجود، ٹرمپ اپنے نوبیل انعام برائے امن حاصل کرنے کے عزم پر ثابت قدم دکھائی دیتے ہیں۔ منگل کو امریکی صدر نے اسرائیل اور ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مفصل بات چیت اور نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی کنزرویٹو سیاسی کارکن چارلی کرک کی ایک کال ٹو ایکشن کو دوبارہ پوسٹ کیا۔ صدر نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے دوبارہ شیئر کی گئی مختصر پوسٹ میں لکھا: "صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام ملنا چاہئے۔"