• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین ایکشن کی حمایت، آئرش مصنفہ سیلی رونی کی کتابوں کی فروخت برطانیہ میں بند ہوسکتی ہے

Updated: November 29, 2025, 9:58 PM IST | London

آئرش مصنفہ سیلی رونی نے ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے قوانین کے تحت فلسطین ایکشن پر پابندی کے باعث وہ برطانیہ میں نئی کتابیں شائع نہیں کر سکتیں اور شاید اپنے موجودہ ناول بھی مارکیٹ سے واپس لینا پڑیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی رائلٹی فلسطین ایکشن کی حمایت کیلئے استعمال ہونے کا شبہ ہو تو بی بی سی اور دیگر برطانوی ادارے انہیں ادائیگی نہیں کر سکیں گے، جس سے ان کی تخلیقی آزادی اور معاشی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

Irish author Sally Rooney . Photo: INN
آئرش مصنفہ سیلی رونی۔ تصویر: آئی این این

آئرش مصنفہ سیلی رونی نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے قوانین کے تحت فلسطین ایکشن پر پابندی کے نتیجے میں ان کی تحریری سرگرمیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس پابندی کے باعث یہ ’’تقریباً یقینی‘‘ ہو گیا ہے کہ وہ برطانیہ میں کوئی نیا ناول شائع نہیں کر سکیں گی، اور ممکن ہے کہ انہیں اپنی موجودہ کتابیں بھی مارکیٹ سے ہٹانا پڑیں۔ رونی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی موجودہ قانون سازی اس بات کا سبب بن سکتی ہے کہ ان کے برطانوی پبلشر یا بی بی سی کی جانب سے انہیں رائلٹی کی ادائیگی نہ ہو، کیونکہ ایسی ادائیگیوں کو ’’دہشت گردی کی مالی معاونت‘‘ کے زمرے میں شمار کئے جانے کا خطرہ موجود ہے۔ واضح رہے کہ انہوں نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی بی بی سی ڈرامہ ایڈاپٹیشنز سے حاصل ہونے والی رائلٹی کو ’’فلسطین ایکشن کی حمایت جاری رکھنے‘‘ کیلئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی شہریت کیلئے اپنے بھائی سے شادی کی: ٹرمپ کا الہان عمر پر بہتان

پابندی کا پس منظر
فلسطین ایکشن پر جولائی میں یہ کہہ کر پابندی لگائی گئی تھی کہ گروپ نے املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ گروپ کے شریک بانی نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ یہ اقدام حقِ احتجاج میں مداخلت ہے۔ سیلی رونی، جن کا ناول ’’نارمل پیپل‘‘ بی بی سی کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ڈراموں میں شامل کیا گیا تھا، پابندی کے خاتمے کی مہم کی حمایت بھی کر رہی ہیں۔

رونی کے دلائل
ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے گواہی کے بیانات میں رونی نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ’’اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے‘‘ اور فلسطین ایکشن کی سرگرمیاں ’’سول نافرمانی کی طویل اور قابلِ فخر روایت‘‘ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں ماحولیاتی انصاف کیلئے براہِ راست کارروائی کی وکالت کرتی رہی ہیں، اس لئے ان کیلئے نسل کشی کے خلاف اس قسم کی کارروائیوں کی حمایت ’’اخلاقی طور پر ضروری‘‘ ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے بارہا اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ غزہ میں اس کے اقدامات دفاع کے لیے جائز ہیں۔

رائلٹی اور قانونی غیر یقینی صورتحال
رونی نے عدالت کو بتایا کہ دہشت گردی کے قوانین کے تحت پابندی نے ان کی آزادیِ اظہار اور تخلیقی حقوق کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بی بی سی کے ڈراموں سے وقفے وقفے سے رائلٹی ملتی ہے، مگر ایک آزاد پروڈیوسر نے انہیں خبردار کیا ہے کہ رائلٹی کی ادائیگی ان قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ پروڈیوسر کے مطابق، اگر اسے معلوم ہو کہ رونی یہ رقوم فلسطین ایکشن کی معاونت کیلئے استعمال کرتی ہیں تو رائلٹی بھیجنا ’’دہشت گردی کا جرم‘‘ شمار کیا جا سکتا ہے۔ رونی نے کہا کہ یہ بھی واضح نہیں کہ کوئی برطانوی کمپنی موجودہ حالات میں بھی مجھے ادائیگی جاری رکھ سکتی ہے، چاہے وہ ایسا کرنا چاہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کے پبلشر Faber & Faber کو رائلٹی ادا کرنے سے قانونی طور پر روکا گیا تو ان کے ناولوں کو فروخت سے واپس لینا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نومنتخب میئر ظہران ممدانی کیلئے تنخواہ میں ۱۶؍ فیصد اضافہ کا بل زیر غور

تحریری مستقبل پر خدشات
رونی کے مطابق وہ گزشتہ دہائی کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ادبی مصنفاؤں میں شامل رہی ہیں اور ان کی کتابیں برطانیہ میں بے حد مقبول رہی ہیں، اس لئے ان کا کام کتابوں کی دکانوں سے غائب ہونا ’’ریاست کی جانب سے فنکارانہ اظہار میں انتہائی مداخلت‘‘ ہوگا۔ وہ کہتی ہیں کہ موجودہ قانونی صورتحال میں یہ ’’تقریباً یقینی‘‘ ہے کہ وہ برطانیہ میں کوئی نیا کام شائع نہیں کر سکیں گی۔انہوں نے ستمبر میں کہا تھا کہ انہیں اپنے موقف کے باعث برطانیہ کا سفر کرنے میں بھی خطرہ محسوس ہوتا ہے اور اگر فلسطین ایکشن کی حمایت کو جرم قرار دیا گیا تو وہ برطانیہ میں کسی عوامی پروگرام میں شرکت بھی نہیں کر سکیں گی۔ خیال رہے کہ اس معاملے کی عدالتی سماعت جمعرات تک جاری رہے گی، جبکہ دستاویزات جمع کرانے کی آخری تاریخ اگلے ہفتے مقرر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK