Updated: May 21, 2026, 7:02 PM IST
| Ankara
دنیا بھر کے کئی ممالک، یورپی یونین، امریکی سینیٹروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر Itamar Ben-Gvir کی اس ویڈیو کی شدید مذمت کی ہے جس میں غزہ جانے والے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے کارکنوں کو ہاتھ باندھ کر گھٹنوں کے بل جھکایا گیا اور ان کی تذلیل کی گئی۔
بدھ کو بین گویر نے ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا جس میں درجنوں کارکن اسرائیلی فوجی کشتی کے عرشے پر گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھائی دیے جبکہ پس منظر میں اسرائیلی قومی ترانہ چل رہا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ ’’اسرائیل میں خوش آمدید‘‘ کا کیپشن بھی لکھا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر کو اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ’’گلوبل صمود انسانی امدادی فلوٹیلا‘‘ کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے بین الاقوامی پانیوں میں ۴۴؍ ممالک کے ۴۲۸؍ افراد کو لے جانے والے ۵۰؍ امدادی جہازوں کو قبضے میں لے لیا۔ قافلہ گزشتہ جمعرات کو ترکی کے ضلع مارمارس سے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے طور پر روانہ ہوا تھا۔
ترکی کا سخت ردعمل
ترکی نے اسرائیل کی کارروائی کو ’’وحشیانہ اور متشدد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلوٹیلا کو غیر قانونی طور پر روکا گیا۔ ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر اپنی ’’متشدد اور وحشیانہ ذہنیت‘‘ دنیا کے سامنے ظاہر کر دی ہے۔ ترکی نے بتایا کہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر زیر حراست ترک شہریوں اور دیگر کارکنوں کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ترکی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر برہانیتین دوران نے بھی بین الاقوامی پانیوں میں مداخلت اور امدادی کارکنوں کے ساتھ جارحانہ سلوک کی شدید مذمت کی۔
بلجیم
بلجیم نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرتے ہوئے کارکنوں کے ساتھ سلوک کو ’’گہری پریشان کن‘‘ اور ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے کہا کہ لوگوں کو جکڑ کر ان کی تذلیل کرنا ناقابل برداشت ہے۔
اسپین
اسپین نے اسرائیلی چارج ڈی افیئرز کو طلب کیا۔ وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے ویڈیو کو ’’غیر انسانی، خوفناک اور ذلت آمیز‘‘ قرار دیا۔
فرانس
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نول باروٹ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرتے ہوئے ’’شدید غصے‘‘ کا اظہار کیا۔
آئرلینڈ
آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ اسرائیل کا طرز عمل ’’چونکانے والا‘‘ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
نیدرلینڈز
نیدر لینڈز نے اسرائیلی ایلچی کو طلب کرتے ہوئے فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ سلوک کو ’’حیران کن اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج میں جنسی ہراسانی کے کیسز میں اضافہ، ۲۰۲۵ء میں ۲۴۲۰؍ شکایات
سلووینیا
سلووینیا نے کارروائی کو ’’خوفناک، چونکا دینے والا اور مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ کہا۔
پرتگال
پرتگال نے بین گویر کے رویے کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی وقار کی توہین ہے۔
جرمنی
جرمنی کے اسرائیل میں سفیر نے کارکنوں کے ساتھ سلوک کو ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔
یونان
یونان نے اسرائیلی وزیر کے رویے کو ’’بالکل قابل مذمت‘‘ کہا۔
رومانیہ
رومانیہ کی وزیر خارجہ اوانا ٹوئیو نے کارکنوں کے خلاف ’’عوامی تذلیل اور دشمنی‘‘ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا۔
فن لینڈ
فن لینڈ نے کہا کہ وہ اسرائیلی سفیر سے وضاحت طلب کرے گا اور زور دیا کہ زیر حراست افراد کے ساتھ احترام اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اقوام متحدہ کے مطابق چوہوں اور کیڑوں کے سبب جلد کے انفیکشن میں اضافہ
پولینڈ
پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے کہا کہ ’’آپ پولش شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے پولش شہریوں کے لیے انصاف اور اسرائیل کے لیے ’’نتائج‘‘ کا مطالبہ کیا۔
یورپی یونین کا ردعمل
یورپی یونین نے بین گویر کے رویے کو ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ یورپی یونین کے ترجمان انور الانونی نے کہا کہ ہر زیر حراست شخص کے ساتھ وقار، تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔یورپی کمشنر ہجا لہبیب نے کہا کہ ’’یہ سزا یافتہ مجرم نہیں بلکہ بھوکے لوگوں کو روٹی پہنچانے والے کارکن ہیں۔ انسانیت کے دفاع کے لیے کسی کو سزا نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘
کنیڈا اور برطانیہ کی تشویش
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیل کے سلوک کو ’’گھناؤنا‘‘ اور ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کنیڈین شہریوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔ کنیڈا نے پہلے ہی بین گویر پر سفری پابندی اور اثاثے منجمد کرنے سمیت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ وہ ویڈیو دیکھ کر ’’واقعی خوفزدہ‘‘ ہیں اور اسرائیل سے وضاحت طلب کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی: پاسداران انقلاب
امریکی سینیٹروں کی تنقید
امریکی سینیٹر جیف میرکلی نے بین گویر کے رویے کو ’’قابل نفرت اور غیر انسانی‘‘ قرار دیا جبکہ سینیٹر کرس وان ہولن نے کہا کہ بین گویر پر امریکہ کو ’’کافی پہلے پابندیاں عائد کر دینی چاہیے تھیں۔‘‘ وان ہولن نے کہا کہ اگر کیمروں کے سامنے ایسا سلوک ہو رہا ہے تو بند دروازوں کے پیچھے فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔
جنوبی کوریا کا غیر معمولی ردعمل
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے آئی سی سی حکام کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ پر غور کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا اسرائیل کو بین الاقوامی پانیوں میں امدادی جہاز روکنے کا قانونی حق حاصل تھا۔ لی جے میونگ نے کہا کہ اسرائیل ’’بین الاقوامی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘‘
انسانی حقوق تنظیم عدلہ کے الزامات
اسرائیلی حقوق گروپ Adalah نے دعویٰ کیا کہ زیر حراست کارکنوں کو بجلی کے جھٹکے، جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق کم از کم تین کارکن شدید زخمی ہوئے۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹنے اور سانس لینے میں دشواری کی اطلاعات ہیں۔ خواتین کارکنوں کے اسکارف زبردستی اتارے گئے۔ قیدیوں کو طویل وقت تک گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا۔ کارکنوں کو ذلت آمیز پوزیشنوں میں چلنے پر مجبور کیا گیا۔عدلہ نے اسرائیل پر ’’بدسلوکی اور تذلیل کی مجرمانہ پالیسی‘‘ اپنانے کا الزام لگایا۔
حماس کا ردعمل
حماس نے کہا کہ ویڈیو اسرائیلی قیادت کی ’’اخلاقی گراوٹ‘‘ کو ظاہر کرتی ہے۔ حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کو جنگی جرائم کے طور پر دستاویزی شکل دی جائے اور آئی سی سی میں شکایات دائر کی جائیں۔
زخمی کارکن اور مزید تفصیلات
منتظمین کے مطابق کارکن ماجد باغچیوان اسرائیلی فوجیوں کی ربڑ کی گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ انہیں اشدود منتقل کیا گیا تاہم انہوں نے اسرائیلی اسپتال میں علاج سے انکار کر دیا۔ اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریجیو نے ایک اور ویڈیو میں کارکنوں کو ’’دہشت گردی کے حامی‘‘ اور ’’نشے میں دھت‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کی شرح ۱۳۹؍ فیصد سے تجاوز، خودکشیوں، تشدد میں اضافہ
یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اپریل کے آخر میں بھی اسرائیلی فوج نے یونانی جزیرے کریٹ کے قریب فلوٹیلا کشتیوں پر حملہ کیا تھا۔ اسرائیل ۲۰۰۷ء سے غزہ کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے جبکہ غزہ میں ۲۴؍ لاکھ افراد شدید غذائی بحران اور فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ غزہ جانے والے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے کارکنوں کی اسرائیلی حراست اور ان کی تذلیل پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر بین گویر کے پوسٹ کردہ ویڈیو میں کارکنوں کو ہاتھ باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا، جس پر ترکی، فرانس، اسپین، کنیڈا، برطانیہ، پولینڈ، فن لینڈ اور دیگر ممالک نے سخت مذمت کی۔ یورپی یونین، امریکی سینیٹروں اور انسانی حقوق تنظیم عدلہ نے بھی اسرائیل پر بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ عدلہ نے زیر حراست کارکنوں پر تشدد، بجلی کے جھٹکوں اور ذلت آمیز سلوک کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔