• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینی چرچ کمیٹی کی دنیا بھر کے گھرجا گھروں سے غزہ امدادی کاموں کے تحفظ کی اپیل

Updated: January 06, 2026, 10:05 PM IST | Gaza

فلسطینی چرچ کمیٹی نے دنیا بھر کے گھرجا گھروں سے غزہ امدادی کاموںکے تحفظ کی اپیل کی ، کمیٹی نے خبردار کیا کہ امدادی تنظیموں پر اسرائیلی پابندیاں انسانی امداد کو مجرمانہ بنانے اور شہریوں کی تکلیف میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

A church in Gaza destroyed by an Israeli attack. Photo: X
اسرائیلی حملے میں غزہ کا ایک تباہ حال چرچ۔ تصویر: ایکس

ایک فلسطینی چرچ کمیٹی نے دنیا بھر کے تمام گرجا گھروں سے غزہ پٹی میں انسانی امداد کے تحفظ کے لیے فوری طور پر مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ حالیہ اسرائیلی پابندیاں انسانی اور چرچ مشن کو نشانہ بنا رہی ہیں۔واضح رہے کہ یہ اپیل اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کے بعد آئی ہے جس میں درجنوں بین الاقوامی تنظیموں کے رجسٹریشن منسوخ کرنے اور انہیں مارچ تک اپنی سرگرمیاں ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کی وجہ ان کا ملازمین کی فہرست جمع کرانے اور نئی سیکیورٹی رجسٹریشن طریقہ کار پر عمل کرنے سے انکار بتایا گیا ہے۔

 

بعد ازاں فلسطینی صدارتی ہائر کمیٹی برائے چرچ امور کے سربراہ رمزی خوری نے اسرائیلی اقدام کو انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا۔انہوں نے سرکاری خبررساں ادارے وفا کے حوالے سے دنیا بھر کے گرجا گھروں کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا، ’’یہ انسانی اقدار اور چرچ کے مشن کے مرکز کو متاثر کرتا ہے، اور یروشلم سمیت غزہ پٹی اورمغربی کنارہ  میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو منظم  طور پر ہدف کے مقصد سے کیا گیا اسرائیلی قدم ہے۔آج غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض انسانی کاموں پر پابندی نہیں رہا، بلکہ خود امداد کو مجرمانہ بنانے اور ان اداروں کو مفلوج کرنے کا منظم اقدام ہے جو محاصرہ، جنگ اور مکمل انہدام کے سامنے زندگی کی بنیادی ضروریات کا حصول ممکن بناتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دسمبر ۲۰۲۵ء: اسرائیلی فورسیز کی فلسطینی صحافیوں کے خلاف ۹۹؍ خلاف ورزیاں

خوری نے کہا کہ’’ اسرائیلی پابندیوں پر خاموشی غیر جانبداری نہیں سمجھی جا سکتی۔اس کی تعبیر اخلاقی تنزلی  کے طور پر ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں جب روزانہ سینکڑوں امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے، انسانی کاموں کو روکنا اور امداد کو مجرمانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور عیسائی تعلیمات کی کھلی مخالفت ہے ، جبکہ اس مشن کا مرکز انسان اور انسانی وقار ہے۔‘‘بعد ازاں انہوں نے دنیا بھر کے گرجا گھروں سے اپیل کی کہ ’’وہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے نشانہ بنانے اور پابندی کے خلاف واضح کلیسائی موقف کا اعلان کریں، انسانی بنیادوں پر مناسب مقدار میں امداد کی آمد کو یقینی بنانے اور  راہداری کو کھولنے کے لیے اخلاقی اور بین الاقوامی دباؤ ڈالیں، اور غزہ کے ساتھ کھڑے ہوں، نہ صرف الفاظ سے، بلکہ ایسے موقف کے ساتھ جو ایمان کو عمل میں بدلیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: فلسطین ایکشن کے قید کارکنان کی بھوک ہڑتال کے ۶۰؍ دن

تاہم فلسطینی اور بین الاقوامی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ لائسنس منسوخ کرنے سے غزہ میں شہریوں کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوگا، جہاں اسرائیل اکتوبر۲۰۲۳ء سے ایک وحشیانہ جنگ لڑ رہا ہے۔اسرائیلی فوج نے اس حملے میں ۷۱۴۰۰؍ سے زائد افراد کو ہلاک اور۱۷۱۰۰۰ سے زیادہ زخمی کر دیا ہے جس، اس کے علاوہ انسانی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے غزہ میں انسانی آبادی کو رہنے کے قابل نہیں رکھا۔جبکہ اقوام متحدہ نے تعمیر نو کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر لگایا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے غزہ میں خوراک، دوائیوں، طبی سامان اور پناہ گاہوں کے مواد کی آمد پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جہاں تقریباً۲۴؍ لاکھ کی آبادی میں سے۱۵؍ لاکھ افراد بے گھر ہیں اور ۱۸؍ سال سے زائد عرصے سے محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ باوجود امن معاہدے کے ، اسرائیل نے یہ پابندیاںجاری رکھی ہیں، ساتھ ہی  امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر حملوں کا بھی سلسلہ جاری رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK