عالمی سطح پر فلسطینیوں کی تعدادایک کروڑ ۵۵؍ لاکھ تک پہنچ گئی،جن میں سے آدھی آبادی فلسطین میں مقیم ہے، جبکہ مقامی دفتر شماریات کے مطابق ۲۰؍ لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 8:19 PM IST | Gaza
عالمی سطح پر فلسطینیوں کی تعدادایک کروڑ ۵۵؍ لاکھ تک پہنچ گئی،جن میں سے آدھی آبادی فلسطین میں مقیم ہے، جبکہ مقامی دفتر شماریات کے مطابق ۲۰؍ لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔
مرکزی ادارہ شماریات فلسطین (PCBS) نے منگل کو بتایا کہ دنیا بھر میں فلسطینیوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ۵۵؍ لاکھ ہوگئی ہے، جن میں سے۷۴؍ لاکھ تاریخی فلسطین میں رہائش پذیر ہیں۔’’نکبہ‘‘ کی۷۸؍ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں (نکبہ وہ اصطلاح ہے جسے فلسطینی ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے لیے استعمال کرتے ہیں)، ادارے نے کہا کہ تقریباً۸۱؍ ملین فلسطینی بیرون ممالک مقیم ہیں۔
بعد ازاں ادارے نے بتایا کہ اسرائیل کی غزہ پر جنگ اور مسلسل غیرقانونی یہودی بستیوں کی توسیع کے نتیجے میں۲۰؍ لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں۔ادارے کے مطابق، اسرائیل کی غزہ کی جنگ نے تقریباً۲۲؍ لاکھ میں سے تقریباً ۲۰؍ لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے جو جنگ سے قبل اس علاقے میں رہتے تھے۔ اب ان میں سے اکثر خیموں، پناہ گاہوں اور اسکولوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ادارے نے مزید بتایا کہ حالیہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے شمالی مغربی کنارے میں کیمپوں سے بھی تقریباً۴۰؍ ہزار فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔جبکہ بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی غیرقانونی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوروویژن ۲۶ء: اسرائیل کی شرکت پر ویانا میں سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا
بیان کے مطابق۲۰۲۵ء کے آخر تک غیرقانونی یہودی بستیوں اور فوجی اڈوں کی تعداد۶۴۵؍ تک پہنچ گئی۔ اس میں۱۵۱؍ غیرقانونی بستیاں،۳۵۰؍ بستیوں کے چھوٹے مراکز اور۱۴۴؍ دیگر مقامات شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ۲۰۲۴ء کے آخر تک مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کی تعداد تقریباً ۷۷۸۵۶۷؍تھی، جن میں سے۴۲؍ اعشاریہ ۸؍ فیصد مقبوضہ مشرقی یروشلم میں آباد ہیں۔اس کے علاوہ ادارے نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے۲۰۲۵ء میں قبضے کے احکامات، ضبطی اور ’’ریاستی زمین‘‘ کے اعلانات کے ذریعے فلسطینیوں کی ایک ہزار ۳۷۷؍ایکڑ سے زیادہ زمین ضبط کر لی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ، یوم مادر: بھوک، سوگ اور لاپتہ بچے، فلسطینی ماؤں کا دن بے یقینی کے سائے میں
علاوہ ازیں اس دوران ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج اور یہودی آبادکاروں کے ۶۱؍ ہزار سے زائد حملے بھی درج کئے گئے، جس کے نتیجے میں۸۱؍ ہزار سے زیادہ درخت جڑ سے اکھاڑ کر گرائے گئے، جن میں زیادہ تر زیتون کے درخت تھے۔مزید برآںادارے نے کہا کہ اسرائیلی حکام مغربی کنارے بھر میں تقریباً ۹۰۰؍ فوجی چوکیوں اور پھاٹکوں کے ذریعے فلسطینیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے باشندوں کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے اور زرعی اور چراگاہی زمین کے بڑے علاقوں تکپہنچنے میں رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے۔
غزہ کے بارے میں ادارے نے بتایا کہ اسرائیل کی جنگ نے۱۰۲۰۰۰؍ سے زیادہ عمارتیں مکمل طور پر تباہ کر دی ہیں اور۳۳۰۰۰۰؍ سے زائد رہائشی اکائی کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچایا ہے، ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے، صحت کی سہولیات اور اسکولوں کی وسیع پیمانے پر تباہی کی گئی۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں دو سالہ جارحیت میں۷۲؍ سے زائد فلسطینیوں (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں) کو شہید کیا اور۱۷۲۰۰۰؍ سے زیادہ کو زخمی کیا ہے۔