دو گروپ میں جھڑپ کے بعد پولیس نے حالات پر قابو پالینے کا دعویٰ کیا۔ تصادم میں چند لوگ زخمی جن میں۳؍ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 3:27 PM IST | Nadeem Asran | Parel
دو گروپ میں جھڑپ کے بعد پولیس نے حالات پر قابو پالینے کا دعویٰ کیا۔ تصادم میں چند لوگ زخمی جن میں۳؍ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر رات۹؍ بجے سے ۳؍ بجے کے درمیان چنچپوکلی سے لال باغ اورپریل علاقے میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب جلوس سے لوٹنے والوں پر شرپسندوں نے حملہ کر دیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق ۵۰؍ سے ۶۰؍ افراد پر مشتمل بائیک سواروں کے گرو پ اور لال باغ میں مقیم ۳۰؍ سے ۴۰؍ افراد کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوگئی جب جلوس سے لوٹتے وقت بائیک پر سوار نوجوان لال باغ اور پریل کے درمیان ڈاکٹر بی اے روڈ پرلکشمی کاٹیج کے قریب نعرۂ تکبیر لگاتے گزرنے لگے۔ دو گروپ میں جھڑپ کے دوران چند نوجوانوں کے علاوہ پولیس کے ۳؍ اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔ ۳؍ افراد پرپُرامن ماحول کو خراب کرنے کا کیس درج کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایئر پورٹ کی اجازت سے زیادہ اونچائی پر اوورہیڈکیبل، میٹرو ۷؍اے کا کام رُک گیا
بدھ کو لال باغ علاقے میں تشدد اور مار پیٹ سے متعلق پولیس نے بتایا کہ رات تقریباً ۹؍ اور ساڑھے ۹؍ بجے کے درمیان لال باغ، پریل سے موٹرسائیکلوں سے گزرتے وقت ۵۰، ۶۰؍ نوجوانوں پر مشتمل گروپ نعرہ لگانے لگا۔ اسی درمیان اس علاقے میں موجود ۳۰؍ سے ۴۰؍ نوجوانوں نے اس پر اعتراض کیا۔ ان میں لفظی تکرار ہوئی اور نوبت ہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔ جھڑپ میں متعدد لوگ زخمی ہوگئے جن میں ۳؍ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ۔ تصادم ہونے کے بعد پولیس نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے حالات پر قابوپا لیا۔ اس ضمن میں تین ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ دو ایف آئی آر بھوئیواڑہ پولیس میں ، ایک ایف آئی آر حملہ میں زخمی رفیع احمد قدوائی مارگ کے سینئر پولیس انسپکٹر ونود تاؤڑے کی شکایت پر کالا چوکی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے۔ سینئرآفیسر اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب ایک بائیک سوار نے انہیں ٹکر مار دی تھی۔
یہ بھی پڑھے: بھیونڈی: جی ایس ٹی کے مجوزہ نئے ضوابط سے ٹیکسٹائل صنعتکاروں میں تشویش
اس واقعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کرتا پائجامہ پہنے لوگوں پر شر پسند عناصر حملہ کرتے ہوئے صاف نظر آرہے ہیں۔ اس حملے میں زخمی ہونے والے ۳؍ نوجوانوں کو کے ای ایم اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ پولیس نے افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے حالت کو قابو میں کرنے اور کئی لوگوں کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔