ایس آئی آر اور دیگر غیر تدریسی کاموں کےدوران اسکول نہ آنےوالے بچوں کے سروے کی ہدایت کی تعلیمی تنظیموں نے پُرزور مخالفت کی۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 1:38 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
ایس آئی آر اور دیگر غیر تدریسی کاموں کےدوران اسکول نہ آنےوالے بچوں کے سروے کی ہدایت کی تعلیمی تنظیموں نے پُرزور مخالفت کی۔
مہاراشٹر اسٹیٹ ڈائریکٹوریٹ آف پرائمری ایجوکیشن( ایم ایس ڈی پی ای) نے اساتذہ کیلئے ایک نیافرمان جاری کیا ہے جس کے مطابق ایس آئی آر اور دیگر غیر تدریسی خدمات کے ساتھ ۱۵؍سے ۳۰؍ جولائی کے درمیان اساتذہ کو ڈراپ آؤٹ طلبہ کا سروے کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے جس سے تعلیمی تنظیمیں برہم ہیں اور سروے کا فرمان واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔
ایم ایس ڈی پی ای نے ۱۵؍ جولائی سے ۳۰؍جولائی تک ریاست میں اسکول نہ آنے والے، ارریگولر اور مہاجر مزدوروں کے بچوں کے سروے کا اعلان کیا ہے۔تعلیمی یونینوں نے ایم ایس ڈی پی ای کے اس فرمان کی سخت مخالفت کی ہےکیونکہ ویسے بھی ایس آئی آر کی وجہ سے اساتذہ پر کام کا اضافی بوجھ بڑھا ہے۔اس لئے یونینوں نے سروے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں بائیکاٹ کا انتباہ بھی دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے: آلودہ پانی کی سپلائی کے خلاف مورچہ
محکمہ تعلیم کی اس مہم سے اساتذہ میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ چیف الیکشن کمیشن نے ۳؍جولائی ۲۰۲۶ء کو واضح ہدایات دی ہیں کہ اساتذہ کو کوئی اور غیر تعلیمی کام نہ دیا جائے۔ محکمہ تعلیم کا سروے سےمتعلق دی جانےوالی ہدایت الیکشن کمیشن کے احکامات کے منافی ہے۔فی الحال زیادہ تر اساتذہ بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے طور پر ووٹر لسٹ کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ تدریسی کام کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے کیونکہ نیا تعلیمی سیشن شروع ہو چکا ہے۔ اساتذہ کی یونینوں کا موقف ہے کہ اسکول سے دوررہنے بچوں کا سروےٹیچروں پرمسلط کرنے سے طلبہ کی پڑھائی کا کافی نقصان ہو گا۔
بارش کے موسم میں دیہی، پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں گھروں میں جا کر سروے کرنا انتہائی پرخطر اور عملی طور پر مشکل ہے۔ مہاجر خاندانوں تک پہنچنا اور بھی مشکل ہے۔ اگرچہ اسکول نہ آنے والے بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا ارادہ اچھا ہے لیکن مطالبہ کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سروے کو فوراً روک دیا جائے۔
اساتذہ کی یونینوں نے ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن کو ایک مکتوب بھیج کر اس فیصلے کو فوری واپس لینے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ کو صرف تعلیمی کام پر توجہ دینے کا موقع دیا جائے۔ توقع ہے کہ محکمہ تعلیم جلد از جلد اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: جوگیشوری ٹرمنس آئندہ سال شروع ہونے کی امید
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹر ی ساجد نثار نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ مذکورہ فرمان سےمتعلق ہم نے ڈائریکٹر آف پرائمری ایجوکیشن اور الیکشن کمیشن کو ایک مکتوب روانہ کیاہے جس میں ٹیچروںکی موجودہ حالت زار کا حوالہ دیاگیاہے ۔ اساتذہ ان دنوں ایک نہیں بلکہ کئی ذمہ داریاں نبھا رہےہیں جن میں تدریسی سے زیادہ غیر تدریسی کام ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہاہے ۔ابھی ان تمام کاموں پر قابوپانا باقی ہے ،اس دوران ڈراپ آئوٹ طلبہ کےسروے کی مزید ذمہ داری اساتذہ کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہےکہ ڈائریکٹر آف پرائمری ایجوکیشن اپنے فیصلہ کو فوری طورپر واپس لے ورنہ ہم اس کا بائیکاٹ کرنےکیلئے تیار ہیں۔‘‘