• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیرس: دنیا بھر میں وقت کا نظام بدلنے کی تیاری، لیپ سیکنڈ ختم کرنے پر غور

Updated: October 16, 2026, 10:03 PM IST | Paris

دنیا بھر میں گھڑیوں کے وقت کو زمین کی گردش سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے ’لیپ سیکنڈ‘ کو ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پیرس کے قریب ورسائی میں ہونے والے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، اس تبدیلی سے روزمرہ زندگی پر خاص اثر نہیں پڑے گا، تاہم تکنیکی نظاموں کی خرابیوں میں کمی آسکتی ہے، جبکہ طویل مدت میں گھڑیوں اور زمین کی گردش کے درمیان فرق بڑھ سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پیرس کے قریب ورسائی میں جمعرات کو وقت کی پیمائش سے متعلق ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں ایسا فیصلہ کیا جا سکتا ہے جو زمین پر وقت کے نظام کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کردے۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کیا ’’لیپ سیکنڈ‘‘ (Leap Second) کو ختم کردیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہماری گھڑیوں کے وقت کا زمین کی گردش کے ساتھ براہِ راست تعلق ختم ہوجائے گا اور وقت کی پیمائش کے مختلف نظاموں میں نئی ترتیب قائم کی جائے گی۔ اسے یوں سمجھے کہ زمین اپنے محور پر ایک چکر تقریباً ۲۴؍ گھنٹوں میں مکمل کرتی ہے اور دنیا بھر کی گھڑیوں میں وقت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ تاہم، زمین کی گردش میں کبھی کبھار معمولی اتار چڑھاؤ آتا ہے اور اس کی رفتار بھی بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کے ماہرین ہر چند سال بعد گھڑیوں میں ایک اضافی سیکنڈ شامل کرتے رہے ہیں تاکہ گھڑیوں کا وقت اور زمین کی گردش ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ آخری مرتبہ ایسا ۲۰۱۶ء میں کیا گیا تھا۔ تاہم، بعض صنعتوں کا کہنا ہے کہ جہاں وقت کی پیمائش ملی سیکنڈ کی حد تک درست ہونا ضروری ہے، وہاں لیپ سیکنڈ مسائل پیدا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ روس ڈیزل معاہدے کے ساتھ تاریخ کے غلط رخ پر ہیں: زیلنسکی

عالمی معیاری وقت کیا ہے؟

کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم (UTC) دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کا معیاری نظام ہے۔ یہ انتہائی درست ایٹمی گھڑیوں پر مبنی ہے، جو ایٹموں کی ارتعاشی حرکات کو ناپ کر وقت کا تعین کرتی ہیں۔ تاہم، ایٹمی گھڑیوں کے وقت اور زمین کی گردش میں فرق پایا جاتا ہے۔ لیپ سیکنڈ اسی فرق کو متوازن کرنے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ ۱۹۷۲ء میں لیپ سیکنڈ شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر ۲۷؍ لیپ سیکنڈ شامل کیے جا چکے ہیں۔ آخری مرتبہ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ عموماً لیپ سیکنڈ دسمبر یا جون کے اختتام پر شامل کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) نے لیپ سیکنڈ کی ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین کی گردش کی رفتار مستقل نہیں رہتی۔ اس رفتار میں بتدریج کمی کے باعث شمسی وقت کے اوسط سیکنڈ کا دورانیہ ایٹمی سیکنڈ کے مقابلے میں آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔

لیپ سیکنڈ سے مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

بعض صنعتوں اور تکنیکی نظاموں کے لیے وقت کی انتہائی درست پیمائش ضروری ہوتی ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات پیش آچکے ہیں جب لیپ سیکنڈ کے اضافے نے بڑے مسائل پیدا کیے۔ ۲۰۱۲ء میں لیپ سیکنڈ کے باعث سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’لنکڈ اِن‘ اور ’ریڈٹ‘ کی خدمات متاثر ہوئیں، جبکہ اسی سال آسٹریلوی فضائی کمپنی ’قنطاس‘ کے ٹکٹوں کی بکنگ کا نظام بھی متاثر ہوا۔ آسٹریلوی سیکیورٹیز اینڈ انویسٹمنٹس کمیشن نے ۲۰۱۵ء میں اس حوالے سے خبردار کیا تھا۔ میٹا نے بھی ۲۰۲۲ء میں کہا تھا کہ ہر لیپ سیکنڈ ہارڈویئر انفراسٹرکچر سنبھالنے والے افراد کے لیے ’’بڑے دردِ سر‘‘ کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کے احتجاج میں شدت، ایک ہزار ۲۶۰؍ افراد گرفتار، ۸۶؍ فیصد نابالغ

انٹرنیشنل بیورو آف ویٹس اینڈ میژرز نے ۲۰۲۲ء میں فیصلہ کیا تھا کہ ۲۰۳۵ء تک لیپ سیکنڈ کا نظام ختم کردیا جائے گا۔ تاہم، روس چاہتا ہے کہ اس کی آخری تاریخ بڑھا کر ۲۰۴۰ء کردی جائے، کیونکہ روس کے سیٹیلائٹ نیویگیشن نظام ’گلوناس‘ (GLONASS) میں لیپ سیکنڈ استعمال ہوتا ہے اور سیٹیلائٹ نظام کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ اس معاملے پر ۶۹؍ رکن ممالک کے نمائندے ووٹنگ کے لیے اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان کے سامنے یہ فیصلہ کرنے کا معاملہ ہے کہ آیا ۲۰۲۷ء تک لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے کی سمت پیش رفت کی جائے۔

اجلاس میں کن امور پر غور ہوگا؟

اجلاس میں بنیادی طور پر تین نکات زیرِ بحث آئیں گے۔ پہلا یہ کہ کیا ایٹمی گھڑیاں اب بھی وقت کی پیمائش کا سب سے درست ذریعہ ہیں، جبکہ اب آپٹیکل فریکوئنسی کی مدد سے اس سے بھی زیادہ درست پیمائش ممکن ہو رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ کیا لیپ سیکنڈ کو ختم کردیا جائے۔ تیسرا یہ کہ زمین پر وقت کی پیمائش کو چاند کے لیے ناسا کے تیار کردہ نئے معیاری وقت کے نظام کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ڈل جھیل میں موٹر بوٹس اور ایندھن سے چلنے والی جیٹ اسکیز پر پابندی لگائی

لیپ سیکنڈ ختم ہونے سے روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق، لیپ سیکنڈ ختم ہونے کی صورت میں فلکیاتی مشاہدات کے لیے عالمی معیاری وقت (UTC) کے ساتھ ہم آہنگ ہونے والے پرانے آلات، سافٹ ویئر اور ٹائم اسٹیمپس میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ تاہم، عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے برعکس، لیپ سیکنڈ ختم کرنے سے تکنیکی نظاموں میں سافٹ ویئر کی خرابیوں اور نظام بند ہونے جیسے مسائل کم ہوسکتے ہیں۔ البتہ طویل مدت میں زمین کی گردش اور گھڑیوں کے وقت کے درمیان فرق بڑھنے لگے گا۔ اندازے کے مطابق، ۲۱۰۰ء تک گھڑیاں زمین کی گردش کے مقابلے میں ۵۴؍ سیکنڈ آگے ہوسکتی ہیں۔ تقریباً ۲؍ ہزار سال بعد یہ فرق نمایاں طور پر بڑھ جائے گا، جس کے نتیجے میں سورج نکلنے اور غروب ہونے کے اوقات گھڑیوں کے وقت سے مختلف دکھائی دے سکتے ہیں اور انسانی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے ساتھ ان کی ہم آہنگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK