ادویات کی آن لائن فروخت ،اس میں خریداروں کو بڑی رعایت اور دواؤں کے نسخوں کی تصدیق کے بغیر ادویات بیچنے کے خلاف میڈیکل مالکان کا یکروزہ علامتی احتجاج۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
آن لائن ادویات کی فروخت ، ای فارمیسی پلیٹ فارمز سے دوائوں کی خریداری پر بڑی رعایت اور آن لائن دواؤںکے نسخے کی درست تصدیق کے بغیر ادویات کی مبینہ فروخت سے شہریوں کی صحت سے کھلواڑ کرنے کے خلاف بدھ کو شہر و مضافات میں بیشتر میڈیکل اسٹورز بند رہے جس کی وجہ سے مریضوں اور متعلقین کو دوائیں حاصل کرنے میں دشواری ہوئی جبکہ کچھ میڈیکل والوں نے کاروبار جاری رکھا لیکن دیگر میڈیکل والوں نے ان کی دکانوں پر جاکر ان سے کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی ۔
اس دوران تھانے ڈسٹرکٹ میڈیکل ایسوسی ایشن کے اراکین نے بدھ کو تھانے ڈسٹرکٹ کلکٹر کے دفتر کے باہر پُرزور مظاہرہ کیا ۔ اراکین نے مذکورہ مطالبات پورا کرنے کیلئے زبردست احتجاج کیا اور غیر منظم آن لائن ادویات کی فروخت کے بڑھتے رجحان پر سخت اعتراض کیا ۔ اس تعلق سے تنظیم نے خاص طور پر ۲؍ سرکاری نوٹیفکیشن جی ایس آر ۲۲۰؍(ای) اور جی ایس آر ۸۱۷؍(ای) پر ناراضگی ظاہر کی، ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ آن لائن ادویات کے پلیٹ فارم کو مکمل طور پر متعین قانونی فریم ورک کے بغیر کام کرنے کی اجازت دینے میں خامیاں ہیں ۔اس کےعلاوہ بڑی کمپنیوں کی جانب سے آن لائن ادویات کی خریداری پر بھاری رعایت سے جو ۲۰؍سے ۵۰؍فیصد تک دی جا رہی ہے ، چھوٹے میڈیکل والوں کیلئےان سے مقابلہ کرنا مشکل کر دیا ہے ۔
مظاہرین نے کہا کہ ’’ بھاری چھوٹ دینے سے میڈیکل اسٹورز کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ دوائوں کی آن لائن خریداری صحت عامہ کیلئےخطرات پیدا کر رہی ہے ۔ فارما سسٹ نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے نسخوں (پرسکرپشن) کی درست تصدیق کے بغیر ادویات کی مبینہ فروخت پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے ڈرگ قوانین کے سخت نفاذ کا مطالبہ کیا ۔شہرومضافات میں بدھ کو جہاں بیشتر میڈیکل اسٹورز بند رہے وہیں کچھ میڈیکل والوںنے اپنا کاروبار جاری رکھا ۔ فارس روڈ ،شکھلاجی اسٹریٹ میں دوتین میڈیکل اسٹورز کچھ فاصلے پر واقع ہیں، ان میں سے ۲؍میڈیکل بند تھے جبکہ ایک میڈیکل جو کھلا تھا، اس پر دوا خریدنے والے صارف اکٹھا دکھائی دیئے۔میڈیکل سوشل ورکر شعیب ہاشمی نے بتایا کہ ’’ سرکاری اسپتالوں میں موجود میڈیکل اسٹورز معمول کے مطابق جاری رہے لیکن زیر علاج مریضوںکے متعلقین جنہوں نے باہر سے دوا خریدنے کی کوشش کی ، انہیں پریشانی ہوئی ۔‘‘
اے آئی او سی ڈی کے جنرل سیکریٹری راجیو سنگھل کے مطابق ’’ احتجاج کا مقصد ای-فارمیسی کمپنیوں کے ذریعے ادویات کی غیر منظم آن لائن فروخت کی مخالفت کرنا ہے ۔ ہماری تنظیم نے خاص طور پر مذکورہ ۲؍ سرکاری نوٹیفکیشنز پر اعتراض کیا ہے ، ساتھ ہی مبینہ طور پر آن لائن پلیٹ فارمز پر دوائوں کاجعلی یا غلط نسخوں کے مبینہ استعمال پر تشویش ظاہرکی اور ای فارمیسیوں کیلئے سخت ضابطے کا مطالبہ کیا ہے ۔‘‘
اس دوران کلیان میںبدھ کی صبح ۱۱ بجے میڈیکل ایسوسی ایشن کے عہدیدارن نے کلیان کے تحصیلدار کو میمورنڈم دے کر آن لائن اور ای فارمیسی کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا۔ اس موقع پر کلیان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ساگر کلکرنی نے کہا کہ ملک میں ای فارمیسی کے نام پر ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ انہوں نےچونکا دینے والا انکشاف یہ بھی کیا کہ جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کا غلط استعمال کرتے ہوئے دواؤں کے جعلی بل اور ڈاکٹروں کے فرضی نسخے تیار کیے جا رہے ہیں جو عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس ملک گیر بند کا اچھا خاصا اثر کلیان، ڈومبیولی اور ٹٹوالا میں دیکھنے کو ملا۔ ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف، اہم بازاروں اور تجارتی شاہراہوں پر واقع تمام چھوٹی بڑی ادویات کی دکانیں صبح ہی سے بند رہیں۔ کلیان تعلقہ کے۲؍ ہزار سےزائد دوا فروشوں نے اس بند میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسٹور بند رکھے ۔