ایڈ شیرن کی جانب سے غزہ جنگ اور میکلمور کو ٹور سے نکالے جانے کے تنازع پر اظہارِ خیال کے بعد پیئرز مورگن نے گلوکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مورگن نے کہا کہ شیرن ٹیلی پرامپٹر سے پڑھتے ہوئے ’’دباؤ میں آئی ہوئی کٹھ پتلی‘‘ جیسے دکھائی دیے۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 9:15 AM IST | London
ایڈ شیرن کی جانب سے غزہ جنگ اور میکلمور کو ٹور سے نکالے جانے کے تنازع پر اظہارِ خیال کے بعد پیئرز مورگن نے گلوکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مورگن نے کہا کہ شیرن ٹیلی پرامپٹر سے پڑھتے ہوئے ’’دباؤ میں آئی ہوئی کٹھ پتلی‘‘ جیسے دکھائی دیے۔
پیئرز مورگن نے فلاڈیلفیا میں ہونے والے ایڈ شیرن کے کنسرٹ کے دوران ’’ہجوم کے سامنے جھکنے‘‘ پر گلوکار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ شیرن نے اپنے کنسرٹ میں میکلمور کو اپنے ٹور سے نکالے جانے کے تنازع پر جذباتی انداز میں گفتگو کی تھی۔ یاد رہے کہ برطانوی گلوکار و نغمہ نگار نے سنیچر کو پہلی مرتبہ اس وقت اسٹیج پر خطاب کیا، جب میکلمور نے اعلان کیا تھا کہ انہیں فلسطین کے حق میں دیے گئے بیانات کے بعد شیرن کے ’لوپ ٹور‘ سے نکال دیا گیا ہے۔ ریپر کا دعویٰ تھا کہ کرافٹ گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور جِلٹ اسٹیڈیم کے مالک رابرٹ کرافٹ نے ذاتی طور پر شیرن کو فون کرکے کہا تھا کہ انہیں اس مقام پر پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعد ازاں شیرن نے کہا تھا کہ وہ غزہ جنگ پر عوامی بحث میں شامل نہیں ہوں گے اور میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ منتظم کا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: اسکولوں میں برقع پر پابندی کی تجویز، غیر ملکی طلبہ کی تعداد بھی محدود ہوگی
شیرن کے تمام باقی سپورٹ ایکٹس کے رواں ہفتے ٹور سے الگ ہونے کے بعد، گلوکار نے سنیچر کی رات ہونے والے کنسرٹ میں ٹیلی پرامپٹر سے پڑھتے ہوئے مداحوں سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے مشکل فیصلے کرنے اور کچھ غلطیاں کرنی پڑی ہیں۔ مجھے بہت افسوس ہے۔ میں اپنے مداحوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ شیرن نے مزید کہا، ’’میں اب اپنے احساسات کو مزید چھپا نہیں سکتا۔ اسرائیل میں جو کچھ ہوا اور ۷؍ اکتوبر کو میوزک فیسٹیول میں جو واقعہ پیش آیا، وہ خوفناک تھا اور اس نے صدیوں سے جاری یہودی تکلیف میں مزید اضافہ کیا۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تباہ کن، ناقابلِ جواز اور غیر متناسب ہے۔‘‘
اب براڈکاسٹر پیئرز مورگن نے شیرن کی اس تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلوکار ٹیلی پرامپٹر سے پڑھتے ہوئے ’’کسی دباؤ میں آئے ہوئے کٹھ پتلی‘‘ جیسے دکھائی دے رہے تھے۔ مورگن نے ایکس پر لکھا، ’’میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے بارے میں ایڈ شیرن کے مجموعی مؤقف سے اتفاق کرتا ہوں، یعنی ۷؍ اکتوبر کا واقعہ خوفناک تھا اور اسرائیل کا ردعمل غیر متناسب ہے، لیکن میری خواہش ہے کہ وہ ’ہجوم کے سامنے نہ جھکتے‘ اور عوامی طور پر یہ بات کہنے پر مجبور محسوس نہ کرتے، خاص طور پر ٹیلی پرامپٹر سے ایسے پڑھتے ہوئے جیسے کسی دباؤ میں آئے ہوئے کٹھ پتلی ہوں۔ انہیں بہتر مشیروں کی ضرورت ہے۔‘‘ شیرن کی معذرت پر دیگر شخصیات نے بھی تبصرہ کیا۔ پریزنٹر رچرڈ بیکن نے گلوکار کو ’’اچھے دل والا اچھا انسان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا کام اپنے انداز میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایک تنازع میں پھنس گئے اور حالات ان کے خلاف ہوگئے۔ ان کے مطابق یہ محض بدقسمتی تھی اور شیرن ایک شریف انسان ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کے ایف سی کی پارکنگ میں بچے کی پیدائش، والدین نے نام ’کرنل کوڈی‘ رکھ دیا
اس سے قبل سنیچر کو جیریمی کلارکسن نے بھی شیرن کا دفاع کیا۔ انہوں نے ’دی سن‘ میں اپنے کالم میں لکھا کہ شیرن نے حقیقتاً کچھ نہیں کہا، لیکن اس کے باوجود ان کے مداح آئندہ کنسرٹس کی ٹکٹیں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے تمام سپورٹ ایکٹس الگ ہوچکے ہیں اور ان کے بینڈ کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ پرفارم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ کلارکسن نے مزید لکھا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ شیرن فلسطین کے معاملے پر کھل کر اظہار خیال کریں، لیکن چونکہ وہ اس نوعیت کے شخص نہیں ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں نے انہیں تنہا کردیا ہے۔
سنیچر کے کنسرٹ کے دوران شیرن نے غزہ کی صورتحال پر اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’شہریوں اور بچوں کی جانوں کے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان اور تباہی نے میرا دل توڑ دیا ہے۔ مغربی کنارے میں جاری منظم ناانصافی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ مداحوں سے کیے گئے وعدے کی پاسداری کے لیے کنسرٹ میں شریک ہوئے، کیونکہ مداحوں سے کیا گیا وعدہ ان کی شخصیت کا ’’مرکزی حصہ‘‘ ہے۔ شیرن کے سپورٹ ایکٹس کے ٹور سے الگ ہونے کے باعث کنسرٹ کا وقت شام ساڑھے ۵؍ بجے کے بجائے رات ۸؍ بجے کردیا گیا۔ اسی دوران فلسطین کے حامی مظاہرین نے بھی وینیو کے باہر احتجاج کیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل ’سیٹرڈے نائٹ لائیو یو کے‘ کے ایک خاکے میں بھی شیرن کا مذاق اڑایا گیا۔ خاکے میں انہیں انسانوں اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے باوجود ’’دونوں طرف رہنے‘‘ والے شخص کے طور پر دکھایا گیا۔ خاکہ میں شیرن کا کردار ادا کرنے والی اینابیل مارلو نے کہا، ’’میں کسی ایک کا ساتھ نہیں دینا چاہتی۔ میں اپنے کسی مداح کو ناراض نہیں کرنا چاہتی، چاہے وہ انسان ہوں یا روبوٹ۔‘‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا، ’’میرے بہت سے ٹکٹ اسکیلپنگ بوٹس خریدتے ہیں۔ بعض اوقات تنازعات کے معاملے میں سب سے بہادر کام یہی ہوتا ہے کہ کچھ نہ کہا جائے۔‘‘ ایڈ شیرن کا اگلا کنسرٹ ہفتہ ۲۵؍ ستمبر کو میساچوسٹس کے کرافٹ کے جِلٹ اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔