Updated: March 12, 2026, 9:59 AM IST
| Washington
سائنسدانوں اور ماحولیاتی گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اس خیال پر درآمد کرنا سنگین خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ محققین کا کہنا ہے کہ رات کے وقت مصنوعی روشنی ’سرکاڈین ردھم‘ (انسانوں اور جانوروں میں نیند اور طرزِ عمل کو کنٹرول کرنے والے قدرتی حیاتیاتی چکر) کو درہم برہم کر سکتی ہے۔
امریکی اسٹارٹ اپ کی زمین پر سورج کی روشنی منعکس کرنے کے لئے مدار میں ہزاروں آئینے نصب کرنے کی پرعزم تجویز سامنے آنے کے بعد سائنسدانوں کے درمیان نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس منصوبے کے ماحولیاتی اور فلکیاتی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہوگے۔
کیلیفورنیا کی کمپنی ’ریفلیکٹ آربیٹل‘ (Reflect Orbital) پروٹوٹائپ مرر سیٹلائٹ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو زمین پر مخصوص مقامات کی طرف سورج کی روشنی موڑنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ کمپنی نے سیٹیلائٹ کی منظوریوں کی نگرانی کرنے والی امریکی ایجنسی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کو لائسنس کے لیے درخواست دی ہے۔
تجویز کے مطابق، پہلے تجرباتی آئینے کی پیمائش تقریباً ۶۰ فٹ (۳ء۱۸ میٹر) ہوگی اور یہ زمین سے تقریباً ۴۰۰ میل (۶۴۰ کلومیٹر) اوپر مدار میں گردش کرے گا۔ نصب کئے جانے کے بعد، یہ کھلے گا اور تقریباً تین میل (۸ء۴ کلومیٹر) چوڑے زمینی رقبے پر سورج کی روشنی منعکس کرے گا، جو زمین سے چاند کے برابر روشنی کے ایک چمکدار نقطے کی طرح نظر آئے گا۔
یہ بھی پڑھئے: چیٹ جی پی ٹی صحت سے جڑے سنگین معاملات میں ہنگامی حوالہ جات سے محروم ہے؛ احتیاط کرنا ضروری: تحقیق
ریفلیکٹ آربیٹل کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سولر پاور پلانٹس کو چوبیس گھنٹے چلانے، آفت زدہ علاقوں کو روشن کرنے اور اسٹریٹ لائٹنگ کی ضرورت کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ کمپنی کے سی ای او بین نوواک نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی، شمسی توانائی حاصل کرنے کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ یعنی رات کے وقت سورج کی روشنی کی عدم موجودگی، پر قابو پا کر ناقابل تجدید ایندھن سے نجات کی عالمی کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
کمپنی کے طویل المدتی منصوبے کے تحت ۲۰۲۷ء تک دو مزید پروٹوٹائپ لانچ کئے جائیں گے اور ۲۰۲۸ء کے آخر تک اس تعداد کو غیر معمولی طور پر بڑھا کر ایک ہزار، ۲۰۳۰ء تک ۵ ہزار اور بالآخر ۲۰۳۵ء میں ۵۰ ہزار تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا تخمینہ ہے کہ وہ حکومتوں یا توانائی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایک گھنٹہ منعکس شدہ سورج کی روشنی کے لئے تقریباً ۵ ہزار ڈالر وصول کر سکتی ہے۔
تاہم، سائنسدانوں اور ماحولیاتی گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اس خیال پر درآمد کرنا سنگین خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ محققین کا کہنا ہے کہ رات کے وقت مصنوعی روشنی ’سرکاڈین ردھم‘ (انسانوں اور جانوروں میں نیند اور طرزِ عمل کو کنٹرول کرنے والے قدرتی حیاتیاتی چکر) کو درہم برہم کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کے متعلق تقریباً نصف خبروں میں تعصب : تحقیق
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی نیوروبائیولوجسٹ مارتھا ہاٹز ویٹاٹرنا نے خبردار کیا کہ مسلسل مصنوعی روشنی جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے چکر، ہجرت اور پودوں کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرینِ فلکیات کو یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ آئینے روشنی کی آلودگی میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں اور زمین سے کی جانے والی مشاہداتی تحقیق میں مداخلت کرسکتے ہیں۔ گیسپر بیکوس نے کہا کہ چمکدار سیٹلائٹس فلکیاتی تحقیق میں نمایاں خلل ڈال سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تنظیم ’ڈارک اسکائی انٹرنیشنل‘ نے بھی اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی روشنی مصنوعی نائٹ لائٹنگ کی ایک نئی شکل متعارف کرائے گی جس کے ماحولیاتی نظام اور عوامی تحفظ پر دور رس نتائج ہوسکتے ہیں۔