Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی میں احتجاج کرنے والے طلبہ اور تنظیموں کو ہراساں کرنے کا پولیس پر الزام

Updated: July 23, 2026, 3:48 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بقول جنتر منتر احتجاج میں شامل ہونے کیلئے ہم نے آن لائن رجسٹریشن کرنا شروع کیاتو پولیس ہم پر نگاہ رکھنے لگی اور فون کرکے ہراساں کررہی ہے ۔ایک اور طلبہ تنظیم کے رکن نے بتایا کہ ۲۳؍جولائی کومہاراشٹر بند کے پیغام کو سوشل میڈیا پر ڈالنے پر نامعلوم نمبروں سے دھمکی دی جارہی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

نیٹ پیپر لیک ، مرکزی وزیرتعلیم کے استعفے اور کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنان اور طلبہ پر جنتر منتر پر پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف ممبئی میں طلبہ تنظیموں اور دیگر سماجی تنظیموں کے ذریعہ احتجاج کیا گیا ۔ اس معاملے میں   پولیس اور  نامعلوم افراد کے ذریعہ فون پر طلبہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے ۔

اس ضمن میں طلبہ تنظیموں نے پولیس اور نامعلوم افراد پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے سبب طلبہ کی خودکشی معاملہ میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شامل ہونے اور طلبہ کووہاٹس ایپ اورسوشل میڈیا کے ذریعہ اکٹھا کرنا شروع کیا گیا ، اس وقت سے پولیس   نہ صرف ہماری مسلسل نگرانی کررہی ہے بلکہ آزاد میدان ،دادر شیواجی پارک، چیتیہ بھومی کے  احتجاج میں شامل بیشتر طلبہ کونامعلوم افراد فون کرکے دھمکا رہے ہیں ۔   پولیس بھی فون کرکے مسلسل پولیس اسٹیشن آنے پر مجبور کرکے یا گھروں پر پہنچ کر طلبہ کو ہراساں کررہی ہے ۔پولیس کے اس رویہ سے جہاں طلبہ خوفزدہ ہورہے ہیں وہیں انہیں کیس درج کئے جانے کے سبب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور مستقبل میں اس کا منفی اثر پڑنے کی فکر بھی ستا رہی ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں تیسرے دن بھی مظاہرے

اس تعلق سےآل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف )مہاراشٹر کے صدر ویبھو چوپکر نے بتایا کہ ’’ طلبہ اور طلبہ تنظیموں پر نگرانی اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے۲۰؍جولائی کو ہونے والے ’چلو سنسد‘ ریلی کا نعرہ دیا او رجسٹریشن کیلئے طلبہ کو  ایک گوگل فارم جاری کیا۔ ہم لوگ ان طلبہ سے بھی رابطہ  میں تھے جو دہلی جانا چاہتے تھے لیکن جیسے ہی رجسٹریشن کا عمل شروع ہوا ،مجھے مقامی پولیس اسٹیشن اور یہاں تک کہ اینٹی نکسل اسکواڈکی جانب سے فون آنے لگےاورمجھ سے الٹے سیدھے سوالات پوچھے جانے لگے ۔ یہی نہیں پولیس شہر اور ریاست کے الگ الگ حصوں سے دہلی بھیجے گئے  ۳۰۰؍ طلبہ کا ریکارڈ طلب کرتی رہی ہے اور شہر میں احتجاج کرنے والے طلبہ جنہوںنے پوسٹرس، بینرس اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ، کی شناخت کرنے میں بھی مصروف ہے ۔‘‘

اس تعلق سے ایم اے گریجویٹ دپتی شیلار نے بتایا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو احتجاج میں شامل ہونے کے بعد سے   نامعلوم افراد اور نامعلوم نمبروں سے فون پرمسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں ساتھ ہی مختلف پولیس اسٹیشنوں سے بھی بار بارفون کیا جارہا اور ہراساں کیا جارہا ہے ۔طلبہ تنظیم کے ایک رکن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ۲۳؍ جولائی کو ونچت بہوجن اگھاڑی کے لیڈر پرکاش امبیڈکر کے ’مہاراشٹر بند‘ میں شامل ہونے کیلئے جب طلبہ تنظیم کے کارکنان نے سوشل میڈیا اور وہاٹس ایپ پر اس کی حمایت کرنے کا پیغام پہنچانا شروع کیا تو اس پر بھی کئی پولیس اسٹیشنوں سے طلبہ کو فون کرکے احتجاج میں شامل نہ ہونے اور شامل ہونے پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی: طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ غلط تھا: پولیس وین کے سامنے ڈٹ جانے والی خاتون

پولیس کے ذریعہ طلبہ پر ایف آئی آر درج کرنے اور پولیس اسٹیشن بلا کر نوٹس دیئے جانے کے بجائے ان کے موبائل فون پر نوٹس بھیجنے کے تعلق سے طالبہ سامیا کروڈے نے کہا کہ ’’ پولیس نے ان ہزاروں طلبہ کے خلاف کیس درج کیا ہے جنہوںنے نیٹ پیپر لیک، تعلیمی بد عنوانی اور مرکزی وزیر تعلیم کے خلاف احتجاج کیا ۔ احتجاج کرنا ان کا آئینی حق ہے تو پھر کن بنیادوں پر پولیس نے ہمارے خلاف کیس درج کیا ہے ۔ شیواجی پارک پولیس نے جن ہزاروں طلبہ کو کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا تھا ، رات میں ۲؍ اور تین بجے کے درمیان نوٹس جاری کیا ہے جبکہ نوٹس پولیس اسٹیشن بلا کر  دینے کا قاعدہ ہے ۔‘‘چیتنیہ پاٹل نامی طالبہ کا کہنا ہے کہ ہمارا گناہ یہ تھا کہ ہم نے بد عنوان وزیر تعلیم اور پیپر لیک کے سبب طلبہ کی اموات پر پُرامن احتجاج کیا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK