Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولیس کے ذریعے مظاہرین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری

Updated: July 29, 2026, 10:51 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں ۷۰۰؍ سے زائد طلبہ کے خلاف درج ۱۷؍ایف آئی آر کے سلسلے میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تکنیکی جانچ کی بنیاد پر طلبہ کو طلب کرکے پوچھ تاچھ کے نام پر گھنٹوں پولیس اسٹیشن میں بٹھایا جارہا ہے۔ پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اے آئی کی مدد سے کاکروچ جنتا پارٹی نے ۴۰۰؍ سے زائدگمراہ کن مشمولات سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا ہے۔

Protesters allege that the police have also threatened to impose stricter measures. (File photo)
مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے مزید سخت دفعات عائد کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ (فائل فوٹو)

 نیٹ پیپر لیٖک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی ( سی جے پی) کے  احتجاج کی حمایت میں ملکی سطح پرطلبہ ، سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نےبھی زبردست احتجاج کیا تھا  جس  سے مرکزی حکومت پر دباؤ پڑا اورمظاہرین کے مطالبے کے پر مرکزی   وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا ساتھ ہی حکومت نے   اس شرط کو بھی مان لیا تھا کہ احتجاج میں طلبہ و مظاہرین کے خلاف درج کردہ سبھی کیس   واپس لے لے جائیں گے لیکن مرکزی حکومت کی اس یقین دہانی کے باوجود ممبئی پولیس کا طلبہ اور دیگر مظاہرین کو   ہراساں کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ 

طلبہ کے خلاف درج کردہ کیس اور جانچ کے نام پر نہ صرف ممبئی میں طلبہ کو یکے بعد دیگرے پولیس اسٹیشن طلب کیا جارہا ہے بلکہ ریاستی سطح پر مہاراشٹر سائبر سیل کے ذریعہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے وہاٹس ایپ ، ایکس   اور دیگر سوشل میڈیا پر نیٹ پیپر لیٖک کے خلاف چلائی گئی مہم اور اس سلسلہ میں اپ لوڈ کئے جانے والے ۴۰۰؍سے زائد متنازع پوسٹ کو گمراہ کن اور نظم و نسق میں خلل ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا میں دوسری منزلہ کی چالی کا حصہ پہلے منزلہ پر گرا، ۱۵؍سالہ لڑکی کی موت

پیپر لیکٖ کے خلاف ہونے والے احتجاج سے متعلق شیواجی پارک پولیس اسٹیشن کے علاوہ چمبور، وڈالا ، مانخورد  اور دیگر علاقوں میں بھی طلبہ و شہریوں نے احتجاج کیا تھا جس کے بعد تقریباً ۱۲؍ سو سے زائد افراد کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ۲۰؍ سے زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ سب سے زیادہ ۱۷؍ ایف آئی آر شیواجی پارک میں درج کی گئی ہے اور ۷؍ سو سے زیادہ طلبہ اور مظاہرین کو ملزم بنایا گیا ہے ۔

مرکزی حکومت کے نیٹ پیپر لیٖک احتجاج میں شامل ہونے والے  افراد کے خلاف درج کردہ کیس واپس لینے کی شرط منظور کر لی ہے لیکن شیواجی پارک پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کی  فوٹیج اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے نہ صرف  طلبہ و مظاہرین کو پولیس اسٹیشن طلب کر رہی ہے بلکہ تفتیش اور پوچھ تاچھ کے نام پر گھنٹوں پولیس اسٹیشن میں بٹھا کر انہیں ذہنی طورپر ہراساں کررہی ہے ۔ مظاہرین اور طلبہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پولیس نے مزید سخت دفعات عائد کرنے کی بھی دھمکی دی ہے ۔ 

سی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے

مہاراشٹر سائبر سیل سی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جائزہ لے رہی ہے ۔ مہاراشٹر سائبر سیل نے سی جی پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعہ ۴؍ سو سے زائدایک منظم اور گمراہ کن اور متنازع پیغامات عام کرنے کا الزام لگایا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس سے نہ صرف نظم و نسق میں خلل پڑا ہے بلکہ شہری زندگی اور عوامی ٹرانسپورٹ بھی بری طرح متاثر ہوا تھا ۔

یہ بھی پڑھئے: پنویل میونسپل کارپوریشن اپنی حدود میں ایک ہزار سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گی

بیرون ملک سے ۱۰۰؍ سے زائدقابل اعتراض پوسٹ

پولیس نے   احتجاج کیلئے اے آئی سے تیار کردہ مشمولات کا بھی استعمال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مہاراشٹرسائبر سیل کے بقول اسے ریاستی اور شہری ہی نہیں بلکہ ملکی سطح پر انسٹا گرام ، فیس بک ، ایکس اور یو ٹیوب کے علاوہ دیگر پلیٹ فارم کا سہارا لیا گیا ہے اور تقریباً ۴۲۹؍ قابل اعتراض پوسٹ ڈالے گئےساتھ ہی یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا قابل اعتراض اور گمراہ کن مشمولات کو اپ لوڈ کرنے کیلئے ۱۰۰؍ سے زائد پوسٹ بیرون ملک سے کی گئی ہیں ۔مہاراشٹر پولیس نے سی جے پی کے ذریعہ کئے جانے والے احتجاج میں بیرون ملک کے سماج دشمن عناصر خصوصی طور پر پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ میں بیٹھے لوگوں کی مدد لئے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔مہاراشٹر سائبر سیل کے ایک سینئر افسر کے بقول مذکورہ اکاؤنٹس کی باریک بینی سے جانچ کی جارہی ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری بھی کی جارہی ہے ۔اس کے علاوہ پولیس نے قابل اعتراض پوسٹ کو ہٹانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK