Updated: October 24, 2026, 10:10 PM IST
| Tel Aviv
ایک پول سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو اتحاد۳؍ سیٹیں کھو رہا ہے، جبکہ اپوزیشن۴۸؍ کے مقابلے ۵۴؍ سیٹ سے آگے ہے، آئزن کوٹ وزیر اعظم کے ترجیحی امیدوار کے طور پر۴۱؍ فیصد کے مقابلے ۴۹؍ فیصد حمایت کے ساتھ نیتن یاہو پر برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
جمعہ کو شائع ہونے والے حالیہ اسرائیلی رائے شماری میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے بلاک کو آئندہ قانون ساز انتخابات سے قبل تین نشستیں گنوانے کا اشارہ ملا، جو یہودی اپوزیشن بلاک کے۵۴؍ کے مقابلے میں۴۸؍ نشستوں پر گر گیا۔پول کے نتائج معاریو اخبار نے۲۷؍ اکتوبر کو طے شدہ انتخابات سے چار دن قبل شائع کیے تھے۔متوقع نتائج کی بنیاد پر کوئی بھی بلاک حکومت بنانے کے قابل نہیں ہوگا۔پول کے مطابق، نیتن یاہو کے بلاک نے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مزید تین نشستیں کھو دیں، جس میں اسے۵۱؍ نشستیں جیتنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج نے گولی مار کر۲؍ فلسطینیوں کوشہید کر دیا
مزید برآں پول میں پایا گیا کہ اگر آج انتخابات ہوتے تو نیتن یاہو کے بلاک کو۴۸؍ نشستیں ملیں گی، جن میں ان کی لیکوڈ پارٹی کے لیے۱۹؍، ایتامار بین گویر کی جیوش پاور پارٹی کے لیے سات، انتہائی قدامت پسند یونائیٹڈ توراہ جوڈازم پارٹی کے لیے سات، انتہائی قدامت پسند شاس پارٹی کے لیے آٹھ، اور بیزالیل اسموتریچ کی مذہبی صیہونیت پارٹی کے لیے سات نشستیں شامل ہیں۔یہودی اپوزیشن بلاک۵۴؍ نشستیں جیتے گا، جس میں گاڈی آئزن کوٹ کی یشار پارٹی کے لیے۲۱؍، نفتالی بینیٹ کی ٹوگیدر پارٹی کے لیے۱۵؍، یائر گولان کی ڈیموکریٹس پارٹی کے لیے۱۰؍، اور ایوگڈور لیبرمین کی اسرائیل بیتینو پارٹی کے لیے آٹھ نشستیں شامل ہیں۔جبکہ عرب پارٹیوں کو۱۴؍ نشستیں ملیں گی، جن میں سے نو یوسف جبارین کی قیادت میں جوائنٹ لسٹ کو اور پانچ منصور عباس کی قیادت میں یونائیٹڈ عرب لسٹ کو جائیں گی۔علاوہ ازیں ، یوآز ہینڈل کی قیادت میں ریزروسٹس پارٹی چار نشستیں جیتے گی، حالانکہ پول میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کس بلاک کی حمایت کرے گی۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے کنیسٹ کے۱۲۰؍ میں سے کم از کم۶۱؍ اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے۔یہودی اپوزیشن پارٹیوں کے زیادہ تر لیڈروں نے حکومت بنانے کے لیے عرب پارٹیوں کے ساتھ تعاون کو مسترد کر دیا ہے۔معاریو نے نیتن یاہو بلاک کی متوقع نشستوں میں کمی کو ’’یور اسرائیل‘‘ پارٹی کی ناکامی سے منسوب کیا، جس کی قیادت عوفر ونٹر کر رہے ہیں، جو حالیہ ہفتوں میں پولز میں چار نشستیں جیتنے کے بعد انتخابی حد کو عبور کرنے میں ناکام رہی۔حالیہ دنوں میں، ونٹر کو اس بنیاد پر کہ ان کی مسلسل امیدواری دائیں بازو کے ووٹوں کو نقصان پہنچائے گی جو بصورت دیگر نشستیں جیتنے کا زیادہ امکان رکھنے والی پارٹیوں کو جا سکتے ہیں نیتن یاہو کے کیمپ کی جانب سے دوڑ سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: خاندان کے ۳۱۰؍ افراد کھو دیے، یتیموں کا سہارا بن گئیں مریم الحساینہ
وزیر اعظم کے لیے ترجیحات
بعد ازاں پول نے دکھایا کہ آئزن کوٹ وزیر اعظم کے ترجیحی امیدوار کے طور پر، نیتن یاہو کے۴۱؍فیصد کے مقابلے میں۴۹؍ فیصد حمایت کے ساتھ نیتن یاہو پر اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔بینیٹ نے بھی نیتن یاہو پر برتری حاصل کی، موجودہ وزیر اعظم کے۴۳؍فیصد کے مقابلے میں۴۵؍ فیصد حمایت حاصل کی۔ذہن نشین رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم کا انتخاب براہ راست عوام نہیں کرتے۔یہ عہدہ اس امیدوار کو جاتا ہے جو ایسی حکومت بنا سکے جو کنیسٹ کے کم از کم۶۱؍ اراکین کی حمایت حاصل کر لے۔
ایک اور انتخاب کا امکان
اگر موجودہ تعطل برقرار رہا تو اسرائیل کو ایک اور دور کے انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب تک کہ اتحاد حکومت یا عرب قانون سازوں کی جانب سے باہر سے حمایت یافتہ تنگ بنیادوں والی حکومت نہ بن جائے۔معاریو کے مطابق،۶۰؍ اسرائیلی اتحاد حکومت کو ترجیح دیتے ہیں اگر کنیسٹ انتخابات میں کوئی واضح نتیجہ نہ نکلے۔ان میں سے۳۳؍ فیصد’’چینج بلاک‘‘ کے کسی شخصیت کی قیادت والی حکومت کے حق میں ہیں، جبکہ۱۹؍ فیصد چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو اس کی قیادت کریں۔ مزید۸؍فیصد نے کہا کہ انہیں دلچسپی نہیں ہے۔
اخبار نے مزید کہا کہ۲۳؍فیصد نے کوئی فیصلہ کن نتیجہ نہ نکلنے کی صورت میں ایک اور انتخاب کے انعقاد کے حق میں رائے دی، جو پچھلے پول میں۲۷؍ فیصد سے کم ہے، جبکہ۱۷؍ نے کہا کہ وہ نہیں جانتے۔ آؤٹ لیٹ نے بتایا کہ یہ پول نجی لازار ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے۵۸۰؍ اسرائیلیوں کے بے ترتیب نمونے کے درمیان کرایا، جس میں غلطی کا مارجن۳؍ اعشاریہ ۷؍ فیصد پوائنٹس ہے۔