Updated: January 10, 2026, 10:05 PM IST
| Vatican City
غزہ، وینزویلا اور یوکرین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پوپ لیو نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر جنگ کو معمول کے طور پر قبول کرتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت پر مبنی سفارت کاری بین الاقوامی قانون اور پرامن بقائے باہمی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
پوپ لیو چہاردہم۔ تصویر: آئی این این
جمعہ کو ہولی سی سے تسلیم شدہ سفارتی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے عالمی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ غزہ، وینزویلا اور یوکرین میں حالیہ پیش رفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’جنگ دوبارہ رائج ہو گئی ہے‘‘ اور دنیا میں ’’جنگ کا جوش بڑھ رہا ہے۔‘‘ پوپ کے مطابق، دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم کیا گیا وہ اصول، جس کے تحت کسی ملک کو دوسرے ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کے لیے طاقت کے استعمال سے روکا گیا تھا، اب شدید طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مکالمہ اور سفارت کاری کی جگہ تیزی سے ایسی حکمتِ عملی لے رہی ہے جسے انہوں نے ’’طاقت پر مبنی سفارت کاری‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر اسرائیلی حملے، ۲۴؍ گھنٹوں میں ۱۴؍ فلسطینی شہید
انہوں نے متنبہ کیا کہ امن کی تلاش کو ہتھیاروں اور بالادستی کے دعوؤں سے مشروط کرنا قانون کی حکمرانی کے لیے خطرناک ہے جبکہ قانون کی حکمرانی ہی پرامن شہری بقائے باہمی کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق، ایسے رویے نہ صرف عالمی استحکام بلکہ انسانی وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ امریکہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے پوپ نے پرامن حل پر زور دیا اور کہا کہ وینزویلا کے عوام کی مرضی کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انسانی اور شہری حقوق کے تحفظ کے ساتھ استحکام اور ہم آہنگی پر مبنی مستقبل کو یقینی بنایا جائے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ اکتوبر کی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں شدید انسانی بحران برقرار ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن اور انصاف پر مبنی مستقبل کی ضمانت دینے کی ضرورت کو دہرایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہریوں کو اپنی سرزمین پر امن سے رہنے کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر احتجاج بھڑکانے کا الزام، کشیدگی میں اضافہ؛ ٹرمپ کا سخت انتباہ
بین الاقوامی انسانی قانون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ اس کے اصول دنیا بھر کی ریاستوں کے عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپتالوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، گھروں اور روزمرہ زندگی کے لیے ضروری مقامات کی تباہی بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر پوپ نے کہا کہ انسانی وقار اور زندگی کے تقدس کا تحفظ کسی بھی محض قومی مفاد سے کہیں زیادہ اہم ہے اور عالمی برادری کو اسی اصول کو رہنما بنانا چاہیے۔