Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا وجے وڈیٹیوار بھی مہایوتی کے رابطے میں ہیں؟ اُودے سامنت کے بیان سے کھلبلی

Updated: June 27, 2026, 10:43 AM IST | Nagpur

ریاستی وزیر نے کہا ’’وڈیٹیوار اگر ایکناتھ شندے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو سب سے زیادہ خوشی مجھے ہوگی‘‘ ویڈیٹیوار نے تمام خبروں کو مسترد کیا۔

Vijay Wadetiwar accuses Uday Samant of defamation politics (File photo)
وجے وڈیٹیوار نے اُودئے سامنت پر بدنامی کی سیاست کا الزام لگایا (فائل فوٹو)

’’وجے وڈیٹیوارہم سب کے اچھے دوست ہیں۔ ایکناتھ شندے کے بھی قریبی دوست ہیں۔ وِدربھ کا ایک ایسا طاقتور لیڈر جس کی جڑیں عوام کے درمیان مضبوطی سے پیوست ہیں، ایکناتھ شندے کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو مجھے سب سے زیادہ خوشی ہوگی۔‘‘ ریاستی وزیر اُودئے سامنت کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا مہاراشٹر میں دوبارہ کوئی سیاسی زلزلہ آنے والا ہے؟ کیا پھر کوئی آپریشن ٹائیگر  ہونے والا ہے؟

یاد رہے کہ حال ہی میںشیوسینا( ادھو) کے۶؍  اراکین پارلیمان  ادھو ٹھاکرے کا ساتھ چھوڑ کرشیوسینا (شندے) میں شامل ہوئے ہیں۔ اس عمل کو ’ آپریشن ٹائیگر ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس کے بعد خود ایکناتھ شندے نے اشارہ دیا تھا کہ’ آپریشن ٹائیگر‘ کا دوسرا مرحلہ بھیہو گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آپریشن ٹائیگر کا اگلا مرحلہ کانگریس کے ساتھ ہوگا۔ اب اُودے سامنت  کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں پھرکھلبلی مچا دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’نیٹ پیپر لیک کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں‘‘

اُودئے سامنت نے کہا کہ’’ وجے وڈیٹیوار نے پارٹی میں شامل ہونے کے تعلق سے ہم سے کوئی بات نہیں کی ہے لیکن میں نے وجے وڈیٹیوار کے ساتھ کام کیا ہے۔ اگر وہ ایکناتھ شندے سے گفتگوکے بعد قیادت قبول کرنے کو تیار ہیں تو کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو  انہیں نہ چاہتا ہو۔ ‘‘ وزیر برائے صنعت نے کہا کہ اگر اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہوئی ہے تو مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ میں اس وقت ودربھ میں ہوں ممکن ہے      ممبئی کوئی پیش رفت ہوئی ہو۔ میرا ناگپور اور امراوتی میں پروگرام ہے۔ اس سوال پر کہ کیا اگلا آپریشن ٹائیگر کانگریس سے متعلق ہوگا، اُودے سامنت نے کہا کہ اگر مہا وکاس اگھاڑی میں شامل کسی بھی پارٹی کا لیڈر شیو سینا (شندے) میں آتا ہے تو ہم اس کا استقبال کریں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سرکاری اسپتال کے ۵؍ ڈاکٹروں کا بیک وقت استعفیٰ

 بدنامی کی سیاست بند کرو!

  اُودئے سامنت کے اس بیان کو خود وجے وڈیٹیوار نے پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ایکس( ٹویٹر) پر ’’بدنامی کی سیاست بند کرو!‘‘ کے عنوان سے ایک پوسٹ کی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے ’’میں کانگریس پارٹی کا وفادار کارکن ہوں۔ میں نے پارٹی کی طرف سے دی گئی ہر ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھایا اور عوام کے مسائل کیلئے مسلسل جدوجہد کی ہے۔ جب میں مہایوتی حکومت کی ناکامی پر آواز اٹھاتا ہوں تو کچھ لوگ میرے بارے میں جھوٹی اور گمراہ کن افواہیں پھیلاتے ہیں۔ شندے گروپ میں جانے والے ہیں کیا؟ پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں کیا؟ کیا آپ کی کسی سے ملاقات ہوئی ہے؟ ایسی بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’کچھ صحافی بھی بغیر کسی حقائق کے ایسے سوالات پوچھ کر کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صحافت نہیں فساد ہے۔ وجے ودیٹیوار نے پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ لوگوں کی توجہ سوالات سے ہٹانے کی کوشش ہے۔اقتدار کیلئے نظریات سے سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میرا موقف واضح ہے، میں کانگریس پارٹی کا وفادار کارکن ہوں اور کانگریس کے نظریات سے میری وابستگی برقرار ہے۔ عہدے یا اقتدار کیلئے نظریات سے سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ یاد رہے کہ وجے وڈیٹیوار کا سیاسی سفر شیوسینا ( غیر منقسم) کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK