Inquilab Logo Happiest Places to Work

’دی اوڈیسی‘ نے مراکش کی سیاحت کو نئی زندگی دی، تاریخی مقامات عالمی توجہ کا مرکز

Updated: July 20, 2026, 10:03 PM IST | Morocco

کرسٹوفر نولن کی فلم The Odyssey کی عالمی ریلیز کے بعد نہ صرف باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کررہی ہے بلکہ مراکش کی سیاحت کو بھی غیرمعمولی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ فلم کے اہم مناظر مراکش کے تاریخی شہروں، صحرائی مناظر اور قدیم طرزِ تعمیر میں فلمائے گئے، جس کے بعد دنیا بھر کے ناظرین ان مقامات کے بارے میں جاننے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فلم مراکش کو عالمی فلم سازی اور سیاحتی نقشے پر مزید مضبوط مقام دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Several key scenes of "The Odyssey" were filmed in the deserts of Morocco. Photo: INN
’’دی اوڈیسی ‘‘ کے کئی اہم مناظر مراکش کے صحراؤں میں فلمائے گئے ہیں۔تصویر: آئی این این

ہدایت کار کرسٹوفر نولن کی نئی فلم The Odyssey نے عالمی ریلیز کے بعد صرف سنیما گھروں تک ہی اپنی مقبولیت محدود نہیں رکھی بلکہ مراکش کی سیاحت کو بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ۱۷؍  جولائی کو ریلیز ہونے والی اس فلم میں مراکش کے دلکش صحرائی مناظر، تاریخی عمارتیں اور قدیم طرزِ تعمیر کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر کے ناظرین ان حقیقی مقامات کے بارے میں جاننے کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں۔ فلم کی ریلیز کے محض دو روز بعد ہی مراکش بین الاقوامی سطح پر موضوعِ گفتگو بن گیا، کیونکہ فلم کے متعدد اہم مناظر ملک کے مختلف علاقوں میں عکس بند کیے گئے ہیں۔ فلم میں مراکش کے قدرتی اور تاریخی مقامات کو قدیم دنیا کی عکاسی کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جس سے اس کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو عالمی سطح پر نئی پہچان ملی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پروویڈنٹ فنڈ: سب کیلئے پنشن کی راہ ہموار کرنے والی اسکیم متعارف کرانے کی تیاری

پروڈکشن سے متعلق جاری کردہ معلومات کے مطابق The Odyssey کی شوٹنگ پانچ ممالک میں کی گئی، جن میں مراکش، یونان، اٹلی، آئس لینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ ان ممالک میں مراکش کو مرکزی حیثیت حاصل رہی، جہاں قدیم شہر ٹرائے کی فضا کو دوبارہ تخلیق کیا گیا اور کہانی کے کئی اہم مناظر یہیں فلمائے گئے۔ بین الاقوامی سفری رسائل اور ویب سائٹس نے بھی فلم کی ریلیز کے بعد خصوصی سفری گائیڈ لائنس شائع کی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ مراکش کے سنہری ریتیلے ٹیلوں، تاریخی قلعوں اور قدیم بستیوں نے ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ داستان کو پردۂ سیمیں پر حقیقت کا روپ دینے میں کس طرح اہم کردار ادا کیا۔
مراکش کی حکومت کئی برسوں سے بڑی بین الاقوامی فلموں کی شوٹنگ کے لیے خصوصی مالی مراعات اور سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ حکام کا مقصد ملک کو عالمی فلم سازی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر مستحکم کرنا اور فلمی سیاحت کے ذریعے طویل المدتی اقتصادی فوائد حاصل کرنا ہے۔ واضح رہے کہ The Odyssey تقریباً تین ہزار سال قدیم یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ نظم پر مبنی ہے، جسے کرسٹوفر نولن نے جدید سنیما کی تکنیک کے ساتھ بڑے پردے پر پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۵؍ ممالک پر امریکی ٹیریف کے حق میں ۶۰؍ سینیٹرز!

فلم میں میٹ ڈیمن، اینی ہیتھ وے، زینڈایا، ٹام ہالینڈ، رابرٹ پیٹنسن اور شارلیز تھیرون سمیت کئی معروف ہالی ووڈ اداکار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کہانی اوڈیسیئس کے گرد گھومتی ہے، جو ٹروجن جنگ کے اختتام کے بعد اپنے وطن اتھاکا واپس پہنچنے کے لیے دس برس پر محیط خطرناک اور پُرآزمائش سفر اختیار کرتا ہے۔ فلم میں جنگ اور ماضی کے واقعات کو فلیش بیک تکنیک کے ذریعے پیش کیا گیا ہے، جبکہ مشہور لکڑی کے گھوڑے کی حکمتِ عملی کو بھی تفصیل سے دکھایا گیا ہے، جس کے ذریعے یونانی فوج نے ٹرائے میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اوڈیسیئس کے طویل سفر کے دوران اس کے ساتھیوں کو بے شمار خطرناک آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ایک آنکھ والا دیو سائیکلوپس، سورج دیوتا اور جادوگرنی سرسے (Circe) جیسے کردار شامل ہیں، جو اس کلاسیکی داستان کو سنسنی، مہم جوئی اور دیومالائی عناصر سے بھرپور بنا دیتے ہیں۔ فلمی ماہرین کا خیال ہے کہ The Odyssey نہ صرف ہومر کی لازوال داستان کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ مراکش کو عالمی فلمی سیاحت کی نئی منزل کے طور پر بھی مزید مقبول بنائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK