Inquilab Logo Happiest Places to Work

بحری قزاقی میں عالمی سطح پر ۱۷؍ فیصد اضافہ: اقوام متحدہ کا ۴۴؍ اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ

Updated: July 07, 2026, 10:10 PM IST | New York

اقوام متحدہ کے بحری ادارے کے مطابق بحری قزاقی اور مسلح بحری ڈکیتی میں عالمی سطح پر ۱۷؍ فیصد اضافہ ہواہے، جبکہ اس نے صومالی سمندر میں قزاقوں اور مسلح ڈاکوؤں کے زیر حراست۴۴؍ بحری اہلکاروں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری بین الاقوامی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او )نے خبردار کیا ہے کہ۲۰۲۴ء اور۲۰۲۵ء کے درمیان سمندر میں قزاقی اور مسلح ڈکیتی کے واقعات میں عالمی سطح پر۱۷؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس نے صومالی سمندر میں قزاقوں اور مسلح ڈاکوؤں کے زیر حراست۴۴؍ بحری اہلکاروں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری بین الاقوامی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔یہ بحری اہلکار تین اغوا شدہ جہازوں، ایم ٹی آنر۲۵؍، یوریکا، اور سوارڈ ،پر سوار ہیں، جنہیں اپریل اور مئی کے درمیان صومالیہ کے ساحل اور خلیج عدن سے علاحدہ واقعات میں ضبط کیا گیا تھا۔لندن میںتنظیم کونسل سے خطاب کرتے ہوئے، اس کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز نے کہا کہ’’ مغویہ اہلکاروں کے پاس خوراک اور پانی کی شدید قلت ہو رہی ہے جبکہ وہ تشدد کے مستقل خطرے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ڈومنگیز نے کہا، یہ واقعات اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ بحری اہلکاروں کے لیے قزاقی اور مسلح ڈکیتی کا خطرہ کم نہیں ہوا ہے اور اس کے لیے ہوشیاری اور مربوط کارروائی جاری رکھنا ضروری ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی جنگ سے لبنان کو ۴؍ ارب ڈالر تک کا نقصان، بیروت کا ابتدائی تخمینہ جاری

بعد ازاں انہوں نے زور دے کر کہا، میں ان کی محفوظ رہائی کو یقینی بنانے کے لیے آپ کی حمایت چاہتا ہوں۔‘‘ڈومنگیز نے آئی ایم او  کی رکن ریاستوں، ساحلی ریاستوں، علاقائی تنظیموں اور جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ مل کر یرغمالیوں کی رہائی اور ان کی مصائب کا خاتمہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے جہاز مالکان اور آپریٹرز پر بھی زور دیا کہ وہ بحری سلامتی کے لیے بہترین انتظامی طریقوں پر عمل درآمد کریں اور زیادہ خطرناک سمندر سے گزرنے سے پہلے خطرے کا  مکمل جائزہ لیں۔

یہ بھی پڑھئے: شام میں فرانسیسی صدر میکرون کے ہوٹل کے قریب زوردار دھماکہ

واضح رہے کہ یہ اپیل بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں قزاقی اور مسلح ڈکیتی کے دوبارہ عروج کے دوران سامنے آئی ہے۔ آئی ایم او کے مطابق، صرف گزشتہ تین مہینوں میں اس خطے میں بحری قزاقی کی۲۴؍ کوششیں اور وارداتیں درج کی گئی ہیں، جن میں بحری اہلکاروں کے خلاف خطرناک ہتھیاروں اور بڑھتے ہوئے تشدد کا استعمال شامل ہے۔تنظیم نے کہا کہ عالمی سطح پر،۲۰۲۴ء اور۲۰۲۵ء کے درمیان سمندر میں قزاقی اور مسلح ڈکیتی کے درج شدہ واقعات میں۱۴۶؍ سے بڑھ کر۱۷۱؍ ہونے کے ساتھ۱۷؍ فیصد اضافہ ہوا۔ آئی ایم او  نے کہا کہ وہ جبوتی کوڈ آف کنڈکٹ، اس کی جدہ ترمیم، اور دیگر بحری سلامتی کے اقدامات کے ذریعے علاقائی انسداد قزاقی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد اہم بین الاقوامی جہاز رانی کےراستوں کی حفاظت کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK