Updated: July 06, 2026, 9:51 PM IST
| London
برطانیہ میں انویکٹس گیمز سے متعلق مصروفیات کے لیے شہزادہ ہیری کی واپسی سے قبل بکنگھم پیلس اور ڈیوک آف سسیکس کے درمیان رہائش کے انتظامات پر اختلاف سامنے آ گیا ہے۔ ہیری کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے محل میں قیام کی پیشکش قبول کر لی تھی، جبکہ شاہی محل کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد یہ پیشکش مؤثر نہیں رہی۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہزادہ ہیری کے قانونی مقدمے پر بھی اہم عدالتی فیصلہ متوقع ہے۔
شہزادہ ہیری اور میگھن۔ تصویر: ایکس
برطانیہ میں سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں شہزادہ ہیری کی متوقع آمد سے قبل بکنگھم پیلس اور ڈیوک آف سسیکس کے درمیان رہائش کے انتظامات پر اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جس نے شاہی خاندان اور ہیری کے تعلقات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت پیدا ہوا جب شہزادہ ہیری کے نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے لندن کے دورے کے دوران بکنگھم پیلس میں قیام کی پیشکش قبول کر لی تھی۔ تاہم، شاہی محل نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہیری محل میں قیام نہیں کریں گے کیونکہ ان کی جانب سے پیشکش قبول کرنے کی تصدیق مقررہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد موصول ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیائی پلمبر ہندوستانی انجینئرس سے زیادہ پیسہ اور عزت کماتے ہیں !
اطلاعات کے مطابق بکنگھم پیلس نے شہزادہ ہیری کو شاہی رہائش گاہ میں قیام کی پیشکش کی تھی، تاہم ان سے کہا گیا تھا کہ وہ گزشتہ ہفتے کے اختتام تک اپنے منصوبوں کی باضابطہ تصدیق کریں۔ محل کے حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد اور رسمی منظوری نہ ملنے پر رہائش کے انتظامات ختم کر دیے گئے، جس سے متعلق شہزادہ ہیری کو ہفتے کی شام آگاہ کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ شہزادہ ہیری رواں ہفتے لندن اور برمنگھم میں انویکٹس گیمز سے متعلق مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔ یہ تقریبات زخمی، بیمار اور معذور سابق فوجیوں کے لیے منعقد ہونے والے بین الاقوامی کھیلوں کے اگلے ایڈیشن کے آغاز میں ایک سال باقی رہنے کی مناسبت سے منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان کا یہ دورہ اسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے خلاف دائر قانونی مقدمے میں ہائی کورٹ کے متوقع فیصلے کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برآمدات میں کمی کی وجہ سے پاکستان کا مالیاتی تجارتی خسارہ ۵ء۳۹؍ بلین ڈالرتک پہنچا
ابتدائی منصوبے کے مطابق شہزادہ ہیری اپنی اہلیہ میگھن مارکل اور بچوں پرنس آرچی اور شہزادی للیبیٹ کے ہمراہ برطانیہ آنے والے تھے، تاہم سیکوریٹی خدشات کے باعث بعد میں یہ منصوبہ تبدیل کر دیا گیا۔ شہزادہ ہیری کے ترجمان نے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے بکنگھم پیلس کی جانب سے دی جانے والی ان بریفنگز سے آگاہ ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ڈیوک نے شاہی رہائش گاہ میں قیام کی پیشکش قبول نہیں کی۔ ترجمان کے مطابق، RAVEC کی جانب سے شہزادہ ہیری کے خاندان کو سرکاری سیکوریٹی فراہم نہ کرنے کے فیصلے کے بعد انہوں نے متبادل حفاظتی انتظامات مکمل کرنے میں کئی دن صرف کیے۔
یہ بھی پڑھئے: سروے کے مطابق زیادہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ سے واپس آ رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ متبادل انتظامات مکمل ہونے کے بعد ہی شہزادہ ہیری گزشتہ ہفتے کے اختتام پر رہائش کی پیشکش باضابطہ طور پر قبول کرنے کے قابل ہوئے۔ ہیری کی ٹیم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر محل کو ان کے فیصلے سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا تو پیشکش واپس لینے کی وجہ کیا تھی۔ ترجمان کے مطابق، ’’یہ مایوس کن ہے کہ رہائش کی پیشکش باضابطہ طور پر قبول کیے جانے کے باوجود اسے واپس لے لیا گیا، حالانکہ بکنگھم پیلس کو گزشتہ جمعرات ہی سے صورت حال کا علم تھا۔‘‘ دوسری جانب شاہی محل کے حکام کا کہنا ہے کہ شاہی رہائش گاہوں میں مہمانوں کی میزبانی کے لیے سیکوریٹی، لاجسٹکس اور عملے کے انتظامات پیشگی منصوبہ بندی کے متقاضی ہوتے ہیں، اسی لیے مقررہ مدت کے بعد رہائش فراہم کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ نیا تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہزادہ ہیری اور شاہی خاندان کے درمیان تعلقات پہلے ہی کئی برسوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔