Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈ کپ: تعلق کسی اور ملک سے، نمائندگی کسی اور ملک کی!

Updated: June 05, 2026, 3:23 PM IST | Washington

عالمی کپ میں کھیلنے والے ۲۳ء۲؍فیصد ایسے کھلاڑی ہیں جن کی پیدائش کسی اور ملک میں ہوئی ہے اور وہ کسی اور ملک کیلئے کھیل رہے ہیں۔

Riyad Mahrez (right) was born in France and plays for Algeria, while Achraf Hakimi was born in Spain and is representing Morocco at the World Cup. Photo: INN
ریاض محریز (دائیں) فرانس میں پیدا ہوئے اور الجیریا کیلئے کھیلتے ہیں جبکہ اشرف حکیمی اسپین میں پیدا ہوئے اور ورلڈ کپ میں مراکش کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ایک ہزار ۲۴۸؍ کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب دلانے کی کوشش کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ ان میں سے ۲۸۹؍ کھلاڑی ان ممالک کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے ۔ یہ کھلاڑی کسی اور ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور اب وہ کسی اور ملک کی طرف سے عالمی کپ میں شرکت کریں گے۔یہ وسیع تبدیلی قومی ٹیموں کی بڑھتی ہوئی گلو بلائزیشن اور انٹرنیشنل فٹ باال فیڈریشن (فیفا) کے اہلیت کے قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ جو کھلاڑیوں کو فائدہ بھی پہنچا رہی ہے۔

اس مرتبہ فیفا ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کی نمائندگی پر نظر ڈالیں تو ان میں سے ۲۳ء۲؍ فیصد کھلاڑی ایسے ہیں جن کی پیدائش کسی ملک میں ہوئی اور وہ کسی اور ملک کی شہریت حاصل کر کے اس کی نمائندگی کریںگے۔ ۲۰۰۹ءمیں منظور ہونے والے بہاماس ایکٹ نے حالیہ برسوں میں مزید لچک فراہم کی ہے، جس کے تحت کھیل کے قوانین کے مطابق اب کھلاڑیوں کو مخصوص حالات میں اپنی قومی ٹیم تبدیل کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ انہوں نے اپنی اصل قومی ٹیموں کیساتھ کچھ آفیشل میچوں میں حصہ نہ لیا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: پیٹ کمنز کا آسٹریلیا کے ریکارڈ مصروف ترین سیزن میں تمام ٹیسٹ میچ کھیلنے کا عزم

تارکین وطن عرب قومی ٹیموں کیلئے نئی توانائی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔عرب اور افریقی فٹ بال بھی اس تحریک سے اچھوتے نہیں رہے بلکہ، صلاحیتوں کی یہ الٹی ہجرت مسابقتی قومی ٹیموں کی تشکیل میں ایک بنیادی ستون بن گئی جو تارکین وطن کھلاڑیوں کی اپنے آبائی ممالک کی نمائندگی کرنے کی خواہش سے متاثر تھی۔الجیریا کی قومی ٹیم اس نظریے کی علامت ہے، جس میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے ۱۶؍ کھلاڑی شامل ہیں، جن میں سب سے بڑا گروپ فرانس کے ۱۳؍ کھلاڑیوں کا ہے، جس میں اسٹار کھلاڑی ریاض محریز اور حوسیم عوار بھی شامل ہیں۔ یہ ہجرت صرف فرانسیسی کلبوں تک ہی محدود نہیں تھی۔ اس میں ابھرتے ہوئے جرمن ٹیلنٹ ابراہیم مازا، رامز زیروکی (نیدرلینڈس میں پیدا ہوئے) اور رفیق بلغالی (بلجیم میں پیدا ہوئے) بھی شامل ہیں۔ 

مراکش کی قومی ٹیم کی بات کی جائے تو اس نے یورپی شہروں (فرانس، اسپین،بلجیم، نیدر لینڈس) اور یہاں تک کہ کینیڈا میں پیدا ہونے والے ۱۹؍کھلاڑیوں پر مبنی اپنی تاریخی حکمت عملی کو جاری رکھا۔ ان میں اشرف حکیمی اور براہیم دیاز (دونوں اسپین میں پیدا ہوئے) اور ہونہار ٹیلنٹ ایوب بوعدی (فرانس میں پیدا ہوئے) نمایاں ہیں۔اسی طرح  تیونس کی ٹیم میں یورپ میں پیدا ہونے والے ۱۵؍کھلاڑی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا اور سعودی عرب میں پیدا ہونے والے ۲۔۲؍ کھلاڑی بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بگ بیش لیگ کی نجکاری: کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو کا اہم قدم

ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے تمام ممالک میں سے صرف ۹؍ ٹیمیں ایسی ہیں جن کے تمام کھلاڑیوں کی پیدائش ان کے اپنے ممالک کی حدود میں ہوئی ہے۔ یہ ٹیمیں مصر، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، آسٹریا، برازیل، کولمبیا، پنامہ، چیک جمہوریہ اور سویڈن ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK