Updated: January 13, 2026, 3:20 PM IST
| Canberra
آسٹریلیا کے معروف ایڈیلیڈ آرٹس فیسٹیول میں ایک آسٹریلوی فلسطینی مصنفہ کو پروگرام سے ہٹانے کے فیصلے کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً ۵۰؍ مصنفین نے احتجاجاً فیسٹیول سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس تنازعے کے بعد فیسٹیول بورڈ کے تین ارکان اور چیئرپرسن نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ آزادیٔ اظہار، سینسرشپ اور نسلی امتیاز پر ملک گیر بحث چھڑ گئی ہے۔
ایڈیلیڈ فیسٹیول کی ڈائریکٹر لوئس ایڈلر۔ تصویر: ایکس
آسٹریلیا کے ایک اعلیٰ درجے کے ادبی و ثقافتی ایونٹ ایڈیلیڈ فیسٹیول کو اس وقت سے شدید تنقید کا سامنا ہے جب فیسٹیول انتظامیہ نے ایک آسٹریلوی فلسطینی مصنفہ کو پروگرام سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام کے خلاف ردِعمل میں درجنوں مصنفین نے احتجاجاً فیسٹیول سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ ایڈیلیڈ فیسٹیول بورڈ نے گزشتہ جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر رندا عبدالفتاح کو فروری میں ہونے والے رائٹرز ویک کے پروگرام سے خارج کر رہا ہے۔ بورڈ کے مطابق، بونڈی بیچ میں ہونے والے حالیہ واقعے کے بعد ایسے ’’حساس حالات‘‘ میں پروگرام جاری رکھنا ثقافتی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر رندا عبدالفتاح جو میکویری یونیورسٹی میں اسلاموفوبیا اور فلسطین سے متعلق امور پر تحقیق کرتی ہیں، نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کے وکلاء کی جانب سے فیسٹیول کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ یہ اقدام ’’فلسطین مخالف نسل پرستی اور کھلی سینسرشپ کا ایک عامیانہ مظاہرہ‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نکولس مادورو بلند حوصلہ کے ساتھ صورتحال کا سامنا کررہے ہیں‘‘
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس فیصلے کے خلاف کم از کم ۵۰؍ مصنفین نے فیسٹیول سے علاحدگی اختیار کر لی ہے۔ بائیکاٹ کرنے والوں میں معروف مصنفہ کیتھی لیٹی بھی شامل ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ عبدالفتاح کو پلیٹ فارم سے ہٹانا ’’تفرقہ انگیز اور واضح طور پر امتیازی پیغام‘‘ دیتا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آسٹریلوی فلسطینی آوازوں کو سامنے لانا ’’ثقافتی طور پر غیر حساس‘‘ سمجھا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ یہ تنازع ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب ۱۴؍ دسمبر کو سڈنی کے بونڈی بیچ پر ایک یہودی ہنوکا تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ۱۵؍ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں سام دشمنی کے خلاف سخت ردِعمل اور بحث شروع ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ تعطل کا شکار، جنگ کا پھر خطرہ
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، ایڈیلیڈ فیسٹیول نے پیر کو اعلان کیا کہ بورڈ کے تین ارکان اور چیئرپرسن نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ فیسٹیول کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جولین ہوبا نے کہا کہ بورڈ کے فیصلے پر ’’اہم کمیونٹی ردِعمل‘‘ سامنے آیا اور ادارہ اس وقت ’’ایک پیچیدہ اور غیر معمولی لمحے‘‘ سے گزر رہا ہے۔ بونڈی بیچ حملے کے بعد، یہودی کمیونٹی گروپس اور اسرائیلی حکومت نے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانی پر تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ حکومت سام دشمن حملوں میں اضافے کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان حلقوں نے غزہ میں اسرائیل کی ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی صدر ٹرمپ نے ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیا
وزیر اعظم انتھونی البانی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ایک رائل کمیشن آسٹریلیا میں فائرنگ کے واقعات، سام دشمنی اور سماجی ہم آہنگی کے مسائل کا جائزہ لے گا۔ پیر کو انہوں نے یہ بھی کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت قوانین کی منظوری کے لیے اگلے ہفتے پارلیمنٹ کو دوبارہ طلب کیا جائے گا۔ اسی روز، نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس نے نئے قوانین کا اعلان کیا، جن کے تحت مقامی کونسلوں کو غیر قانونی طور پر چلنے والے نماز ہالوں کی بجلی اور پانی منقطع کرنے اور ’’نفرت پھیلانے والوں‘‘ پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائنا نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا منصوبے روک دیا
مغربی سڈنی کے علاقے فیئرفیلڈ، جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے، کے میئر فرینک کاربون نے ان قوانین پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کو غلط طور پر سمجھا جا رہا ہے اور نفرت انگیز تقاریر کے تعین کی ذمہ داری مقامی کونسلوں پر نہیں ڈالی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق، ’’آزادیٔ اظہار ایک بنیادی حق ہے، جب تک کہ اس کا استعمال پُرامن طریقے سے کیا جائے۔‘‘