Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروویڈنٹ فنڈ: سب کیلئے پنشن کی راہ ہموار کرنے والی اسکیم متعارف کرانے کی تیاری

Updated: July 20, 2026, 11:17 AM IST | New Delhi

نئی پنشن اسکیم کے تحت ای پی ایف فنڈ میں ماہانہ ادائیگی کے بعد ۶۰؍ سال کی عمر میں اس اسکیم کے تحت جمع شدہ رقم کو پنشن میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت غیر منظم شعبے اور منظم شعبے کے کارکنوں کیلئے ایک نئی پنشن اسکیم تیار کر رہی ہے، جس کے تحت وہ ماہانہ جمع کرائی جانے والی رقوم کو طویل مدتی سرکاری ضمانت یافتہ سیکوریٹیزمیںلگا کر ہر سال اس پر سود  ادا کرے گی۔ ایک سینئر سرکاری افسر نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ۶۰؍سال کی عمر پر اس اسکیم کے تحت جمع ہونےوالی اُس وقت کی  شرح سود کے مطابق پنشن میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

یہ اسکیم’ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے’’۳ء۰‘‘ اصلاحاتی مرحلے کا حصہ ہوگی۔ اس میں موجودہ اراکین اور وہ ملازمین بھی شامل ہوں گے جو ایمپلائز پنشن اسکیم(ای پی ایس)  کے دائرہ سے باہر ہیں۔ امکان ہے کہ یہ ’’طے شدہ زرتعاون‘‘ ماڈل پر مبنی ہوگی، جس میں ملازم، کمپنی، کم آمدنی والے کارکنوں کیلئےحکومت، گیگ اور پلیٹ فارم کارکنوں کے معاملے میں ایگریگیٹر کمپنیوں یا دیگر اداروں کی جانب سے بھی شراکت کی جا سکے گی۔ ای پی ایف او کی تجویز ہے کہ۵۵؍ سال کی عمر میں کارکن کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کی جمع پونجی کس مقصد کیلئےاستعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت تک یہ پروویڈنٹ فنڈ( پی ایف) کی طرح کام کرے گی اور رقم مسلسل جمع ہوتی رہے گی۔ ریٹائرمنٹ کے وقت اس رقم کو منظم نکاسی کے پلان میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ فائنل: دہلی میں کیفے اور ریستوران صبح۴؍ بجے تک کھلے رہیں گے

مجوزہ پنشن اسکیم کے تحت ہر رکن کا الگ پنشن اکاؤنٹ ہوگا۔ نظام ہر رکن کے منتخب کردہ پنشن ہدف اور ’’ٹارگٹ ریٹائرمنٹ سم‘‘(سبکدوشی کے وقت کیلئے طے شدہ رقم) کا از خود حساب لگائے گا۔ اراکین کو ذاتی ڈیش بورڈ فراہم کیا جائے گا، جس میں  وہ دیکھ سکیں گے کہ انہوں نے  یا ان کی طرف سے کتنی رقم جمع ہوئی ہے، حکومت کی جانب سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے اس میں کتنا اضافہ ہوا اور  ریٹائرمنٹ کے وقت کیلئے مقررہ ہدف کی جانب کتنی پیش رفت ہوئی ہے۔یہ نظام اس بات کا بھی تخمینہ پیش کردیگا کہ مطلوبہ پنشن کیلئے کتنی اور کتنی بار رقم جمع کرنی ہوگی۔ اگر رکن اپنا ہدف تبدیل کرے تو اس کے مطابق ماہانہ ادائیگی کا نیا حساب بھی لگایا جائے گا۔ ای پی ایف او کے ایک ملازم نے بتایا کہ ’’ہم اس اسکیم کو پروویڈنٹ فنڈ کی طرح بنانا چاہتے ہیں، جہاں ریٹائرمنٹ کے بعد صرف  اس میں ادائیگی بند ہو جاتی ہے لیکن جمع شدہ رقم برقرار رہتی ہے۔ اس کے بعد  جمعہ شدہ رقم سے منظم نکاسی  کے پروگرام کےتحت ماہانہ پنشن دی جائے گی۔ اگر آپ صرف سود کے برابر رقم نکالنا چاہیں تو اصل سرمایہ برقرار رہے گا۔اراکین کو اپنی پنشن یا ماہانہ نکاسی کی رقم خود طے کرنے کی سہولت بھی دی جائے گی۔  

یہ بھی پڑھئے: اسکائی روٹ ایرواسپیس کا وِکرم-۱ خلاء میں پہنچنے والا پہلا نجی اوربیٹل راکٹ بن گیا

اس خبر کو اختصار  سے یوں سمجھیں:

* ابھی ای پی ایف میں ملازم اور کمپنی ہر ماہ رقم جمع کرتے ہیں جو ریٹائرمنٹ پر سود سمیت مل جاتی ہے جبکہ ای پی ایس کے تحت محدود پنشن ملتی ہے مگر بہت سے لوگ اس کے دائرہ میں نہیں آتے۔

* حکومت اب ایک نئی پنشن اسکیم لانا چاہتی ہے جس میں ہر شخص کا الگ پنشن اکاؤنٹ ہوگا، اس میں مختلف ذرائع سے(ملازم، کمپنی، حکومت (کم آمدنی والوں کیلئے)، گیگ ورکرز کیلئے ایگریگیٹر کمپنیاں (جیسے اولا، اوبر، زومیٹو، سویگی وغیرہ)رقم جمع کریں گے۔ 

*  ۵۵؍ سال کی عمر میں آپ فیصلہ کر سکیں گے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی جمع شدہ رقم کس طرح استعمال کرناچاہتے ہیں۔ 

*  ۶۰؍ سال کی  عمر کے بعد آپ کے پاس دو بڑے متبادل ہو سکتے ہیں،  ہر ماہ صرف سود کے برابر رقم لیں، جس سے اصل سرمایہ محفوظ رہے یا زیادہ ماہانہ پنشن کیلئے اصل سرمایہ بھی آہستہ آہستہ استعمال کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK