روس نے واضح کیا ہے کہ ولادیمیر پوتن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کیلئے تیار ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب مذاکرات کا مقصد حتمی امن معاہدہ ہو۔ کیف نے بھی بات چیت پر آمادگی ظاہر کی، مگر ذمہ داری ماسکو پر ڈال دی۔
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 10:07 PM IST | Moscow
روس نے واضح کیا ہے کہ ولادیمیر پوتن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کیلئے تیار ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب مذاکرات کا مقصد حتمی امن معاہدہ ہو۔ کیف نے بھی بات چیت پر آمادگی ظاہر کی، مگر ذمہ داری ماسکو پر ڈال دی۔
کریملن نے بدھ کو ایک اہم بیان میں کہا کہ ولادیمیر پوتن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے براہِ راست ملاقات کیلئے تیار ہیں، تاہم اس کیلئے واضح شرط رکھی گئی ہے کہ یہ ملاقات صرف امن معاہدوں کو حتمی شکل دینے کیلئے ہو۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ پوتن پہلے بھی کئی بار ملاقات کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، لیکن اصل سوال ملاقات کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اہم بات یہ ہے کہ ملاقات نتیجہ خیز ہو اور اس کا مقصد صرف معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہو۔‘‘ پیسکوف کے مطابق، اس سطح کی ملاقات سے قبل ’’سنجیدہ اور ٹھوس تیاری‘‘ ضروری ہے، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے یوکرین کی جانب سے ’’سیاسی عزم کی کمی‘‘ پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حج کے دوران ہزاروں پروازیں اور عازمین کو سہولیات میسر
دوسری جانب، ولادیمیر زیلنسکی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یوکرین کسی بھی وقت اور کسی بھی فارمیٹ میں مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کی بحالی ’’صرف کیف کے اختیار میں نہیں۔‘‘ زیلنسکی نے ممکنہ مذاکراتی مقامات کے طور پر ترکی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کا ذکر کیا، جہاں ماضی میں بھی روس یوکرین بات چیت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین روس اور بیلاروس کے علاوہ کسی بھی ملک میں مذاکرات کیلئے تیار ہے اور سہ فریقی بات چیت دوبارہ شروع ہونی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہندوستانی تارکین وطن جرمنی اور ہندوستان کے درمیان ایک مضبوط پل ‘‘
خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس یوکرین جنگ کو دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور مختلف ادوار میں امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم، حالیہ عالمی کشیدگی، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی صورتحال، نے ان کوششوں کو متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ’’صرف معاہدے کیلئے ملاقات‘‘ کی شرط دراصل مذاکراتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جبکہ یوکرین کی کھلی آمادگی عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ فی الحال دونوں فریق بیانات کی حد تک آمادہ نظر آتے ہیں، مگر عملی پیش رفت کیلئے سفارتی سرگرمیوں اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہوں گے۔