Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب دھیریندر شاستری کا چھترپتی شیواجی کے تعلق سے گمراہ کن بیان

Updated: April 26, 2026, 11:02 AM IST | Ali Imran | Mumbai

ناگپور میں وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں بیان دیا کہ چھترپتی نے جنگوں سے تھک ہار کر حکومت سوامی رام داس کو سونپنے کی پیشکش کی تھی۔

Dhirendra Shastri is known for his controversial statements. (File)
متنازع بیانات کیلئے مشہور دھیریندر شاستری۔ (فائل)

اپنے اشتعال انگیز بیانات کیلئے مشہور دھیریندر کرشنا شاستری عرف باگیشور بابا نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلسل جنگوں سے تنگ آکر چھترپتی شیواجی نے اپنی حکومت اپنے استاد رام داس سوامی کے حوالے کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔  ان کے اس بیان پر مہاراشٹر بھر میں ناراضگی ہے حالانکہ خود وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کے غلط ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بھی شاستری کا دفاع کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ کے مولوی گنج سے لاپتہ ۶؍ سالہ محمد عمر کی ۳؍ ماہ بعد بھی کوئی خبر نہیں

شاستری نے ناگپور میں ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے یہ من گھڑت واقعہ بیان کیا   جسکی وجہ سے ایک اور تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ بتادیں کہ ناگپور میں نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے احاطے میں منعقدہ بھارت درگا مندر کا سنگ بنیاد کی تقریب کے بعد ایک مذہبی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں وہ بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔ جبکہ سنگ بنیاد رکھنے کیلئے موہن بھاگوت کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ دھیریندر شاستری نے اپنی تقریر میں چھترپتی شیواجی اور رام داس سوامی کے درمیان ہونے والی گفتگوکا ذکر کیا۔ ان کے مطابق شیواجی مہاراج کئی جنگوں کے بعد تھک ہار کر اپنے گرو کے پاس گئے اور حکومت کی ذمہ داری ان کے حوالے کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ دھیریندر شاستر ی نے بتایا کہ رام داس سوامی نے استاد۔ شاگرد کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے شیواجی کو دوبارہ حکومت کی ذمہ داری نبھانے کا حکم دیا۔ اس بیان کے ذریعے  وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ  پریشانیوں کے وقت بھی اپنے فرض سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کو قبول کرنا اور ذمہ داری پوری کرنا ہی اصل دھرم ہے۔ اپنی تقریر کے دوران دھیریندر شاستری نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو مضبوط کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک مشکل میں ہوتا ہے تو آر ایس ایس کے کارکنان مدد کیلئے آگے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ۴؍ بچے پیدا کریں اور ان میں سے ایک آر ایس ایس کو دیدیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں گئورکشکوں کی جانب سے مسلم نوجوان پر حملہ، اسپتال داخل

مذکورہ دونوں بیان پر مہاراشٹر بھر میں شدید رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن  وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے باوجود اس اعتراف کے کہ دھیریندر شاستری کا بیان کردہ واقعہ غلط ہے ان کادفاع کیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے فرنویس نے کہا’’ تاریخ میں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ عظیم شخصیات کے گرد بہت سی لوک کہانیاں تخلیق کی جاتی ہیں، اور انہیں مختلف شکلوں میں سنایا جاتا ہے۔ رامائن اور مہا بھارت جیسی تحریروںکے تعلق سے بھی مختلف لوک روایات پائی جاتی ہیں، اسلئے ایسی کہانیوں کو تاریخ کے طور پر قبول کرتے وقت احتیاط برتنی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ  نے مزید کہا کہ ہم نے جو مطالعہ کیا ہے یا جو مستند حوالہ جات دستیاب ہیں ان میں اس طرح کے کسی واقعہ کا ذکرمیں نہیں ہے۔ اسلئے لوک داستانوں اور تاریخ میں فرق کرنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ سوامی رام داس کے تعلق سے تاریخ دانوں میں اختلاف ہے۔ بعض انہیں چھترپتی شیواجی کا استاد بتاتے ہیں لیکن اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ چھترپتی کے استاد نہیں تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK