Inquilab Logo Happiest Places to Work

راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے حکومت کے خلاف میدان میں ، ۲۶؍ جولائی کو مورچہ

Updated: July 24, 2026, 10:48 AM IST | Mumbai

مشترکہ پریس کانفرنس کرکے بتایا کہ اتوار کو ممبئی کے شیواجی پارک سے سدھی ونایک مندر تک مارچ کیا جائے گا، مندر میں پرارتھنا کی جائے گی کہ اوپر والا مودی کو عقل دے۔

From right: Raj, Uddhav, Amit and Aaditya Thackeray. (Photo: PTI)
دائیں سے: راج، ادھو، امیت اور آدتیہ ٹھاکرے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

جنتر منتر پر دھرنا دینے والے طلبہ کے حق میں جمعرات کو جہاں مہاراشٹر کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا اور بند منایا گیا وہیں ممبئی میں راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی اور آئندہ ۲۶؍ جولائی کو ممبئی میں طلبہ کی حمایت میں ایک مورچہ نکالنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ ادھو ٹھاکرے دہلی جا کر جنتر منتر پر ابھیجیت دپکے سے مل کر آئے ہیں۔ 

ممبئی میں راج ٹھاکرے کی رہائش گاہ شیو تیرتھ پر منعقدہ اس پریس کانفرنس میں ادھو کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے اور راج کے بیٹے امیت ٹھاکرے بھی موجود تھے۔ راج ٹھاکرے نے کہا ’’اس وقت طلبہ اور عام آدمی حکومت کے خلاف اپنا غصہ اور ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں ، حکومت کو اس بات کا احساس کروانا ضروری ہے۔ اسی کیلئے ہم لوگ ۲۶؍ جولائی کے روز مورچہ نکالنے جا رہے ہیں جو شیواجی پارک سے شروع ہوگا اور سدھی ونایک مندر جا کر ختم ہوگا۔ سدھی ونایک مندر میں ہم پرارتھنا کریں گے کہ اس حکومت کو عقل دے۔

یہ بھی پڑھئے: ششی تھرور نے امیتابھ بچن کی ۲۰۱۲ء کی پوسٹ شیئر کی، موجودہ خاموشی پر نئی بحث

راج ٹھاکرے نے کہا ’’ یہ احتجاج پر امن طریقے سے جاری تھا۔ اس حکومت نے طلبہ پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں مہاراشٹر اور ممبئی کے طلبہ میں بھی ناراضگی پیدا ہو گئی۔ ‘‘ انہوں نےیاد دلایا کہ بی جے پی جب اپوزیشن میں تھی تو وہ بھی وزیروں کے استعفے مانگا کرتی تھی۔ اور اس وقت وزیروں سے استعفیٰ لیا جاتا تھا۔ جب کانگریس کی حکومت تھی تو آر آر پاٹل( مہاراشٹر کے اس وقت کے وزیر داخلہ) کے قصاب سے متعلق ایک بیان کی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ ‘‘ راج ٹھاکرے نے کہا ’’ جب نیٹ امتحان شروع کیا گیا تھا اسی وقت ہم نے اس امتحان کی مخالفت کی تھی۔ نیٹ کا پرچہ ایک بار نہیں ۳؍ بار لیک ہو چکا ہے۔ طلبہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگ رہے تھے لیکن حکومت نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کی ، اب وہ وزیر اعظم کا بھی استعفیٰ بھی مانگ رہے ہیں۔

ادھو ٹھاکرے نے بھی راج ٹھاکرے کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ تحریک صرف نیٹ امتحان تک محدود نہیں رہی بلکہ مختلف سرکاری فیصلوں سے ناراض عوام بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے حالیہ دورے کے دوران مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقات میں انہیں احساس ہوا کہ نوٹ بندی سے لے کر دیگر کئی سرکاری فیصلوں تک عوام میں جمع ہونے والی ناراضگی اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔  ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے دہلی میں احتجاج کے دوران طالبات کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق کئی طالبات کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور انہیں بے رحمی سے مارا پیٹا گیا، جو کسی بھی جمہوری نظام میں ناقابل قبول اور انتہائی افسوسناک ہے۔ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والے طلبہ سے براہ راست ملاقات کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں سے بات کرنے سے کسی رہنما کی عزت یا وقار میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ اس سے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چھٹی جماعت کی کتابیں نہ ملنے سے طلبہ کا نقصان

 ادھو ٹھاکرے نے ۲۶؍ جولائی کو شیواجی پارک سے شری سدھی ونا یک  مندر تک نکلنے والے مارچ میں شرکاء سے مکمل امن و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بعض عناصر اور سادہ لباس میں موجود کچھ افرادجوپولیس سے وابستہ ہیں، تحریک کو گمراہ کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لئے احتجاج میں شامل افراد کو ہر حال میں صبر اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔دونوں لیڈران نے واضح کیا کہ یہ مارچ طلبہ، والدین اور عام شہریوں کی جانب سے پرامن انداز میں اپنی اجتماعی طاقت کے اظہار کیلئے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کے اختتام پر شرکاء شری سدھی ونایک مندر میں حکومت کو اجتماعی دانش مندی عطا ہونے کی دعا کریں گے اور ساتھ ہی جمہوری طریقے سے اپنا مضبوط احتجاج بھی ریکارڈ کرائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK