Updated: May 22, 2026, 9:04 PM IST
| Jaipur
وشوہندو پریشد کے سریندر کمار جین کا دعویٰ ہے کہ ’’ریورس لو جہاد‘‘ راجستھان میں ابھرتا ہوا رجحان ہے، اس کے علاوہ جین نے راجستھان میں درگاہ واہنی کے ایک تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی تبدیلی، سڑکوں پر نماز پڑھنے اور گائے کے ذبیحہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔
درگا واہنی کا تربیتی کیمپ۔ تصویر: آئی این این
راجستھان کےجھنجھنو میں درگاہ واہنی کے ’’شوریہ پرشکشن ورگ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جین نے کہا کہ راجستھان حکومت نے عوامی مطالبات کے بعد مجوزہ ’’مذہبی آزادی بل‘‘اور ڈسٹرب ایریا ایکٹ‘‘ متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مزید اقدامات کرے، بشمول ریاست میں مدارس کے حوالے سے کارروائی۔
یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد: عدالتی فیصلے کے بعد پہلا جمعہ، مہاآرتی کا انعقاد، گھر میں نماز
بعد ازاں جین نے راجستھان میں مبینہ مذہبی تبدیلی اور ’’ہیلنگ میٹنگز‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات مضبوط حکومت اور مضبوط معاشرے کے باوجود تشویشناک ہیں۔تاہم انہوں نے ’’ریورس لو جہاد‘‘ کی اصطلاح متعارف کراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست میں ایک نیا رجحان ابھرا ہے، تاہم انہوں نے اپنے خطاب میں اس کی مثالیں واضح نہیں کیں۔تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جین نے کہا کہ یہ اقدام۱۹۸۴ء سے جاری ہے اور اس کا فوکس خواتین کا ذاتی دفاع اور سماجی بیداری ہے۔ان کے مطابق، جھنجھنو تربیتی کیمپ میں تقریباً۱۵۰؍ خواتین نے حصہ لیا، جنہیںخود کا دفاع کرنے کی تربیت دی گئی اور ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘اور مذہبی تبدیلی جیسے مسائل سے آگاہ کیا گیا۔ان کا دعویٰ تھا کہ ملک بھر میں اس وقت اس طرح کے۴۳؍ سے زیادہ تربیتی کیمپ چل رہے ہیں اور اس پروگرام کے ذریعے لاکھوں خواتین تربیت حاصل کر چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: بی جے پی حکومت نے مدرسوں میں’’ وندے ماترم ‘‘گانا لازمی قرار دیا
اس کے علاوہ جین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ عوامی سڑکوں پر کوئی نماز نہ پڑھے۔ اور مزید کہا کہ عوامی جگہوں کو مذہبی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔عیدالاضحیٰ (بکر عید) کے آنے والے تہوار کا حوالہ دیتے ہوئے جین نے کہا کہ تہوار کے دوران کہیں بھی گائے کے ذبیحہ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گائے کے ذبیحہ کو روکنے کے لیے نئی قانون سازی کی ضرورت ہے تو جین نے کہا کہ قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن انہوں نے سابقہحکومتوں پر ان پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے سابق سیکولر حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ موجودہ پابندیوں کو نافذ کرنے کے بجائے گائے ذبح کرنے والوں کے ساتھ کھڑی رہیں۔جین نے یہ بھی دلیل دی کہ نہ قرآن اور نہ ہی حدیث میں گائے کی قربانی لازمی ہے۔ واضح رہے کہ جین کے بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب گائے کے ذبیحہ، عید سے متعلق پابندیوں، اور کئی ریاستوں میں مجوزہ تبدیلی مذہب مخالف اقدامات پر سیاسی و مذہبی بحث تیز ہو رہی ہے۔