Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی صدور کی درجہ بندی: ٹرمپ نے خود کو سرِ فہرست رکھا، واشنگٹن، لنکن بھی پیچھے

Updated: August 28, 2026, 1:39 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بہترین امریکی صدور کی ایک فہرست شیئر کرتے ہوئے خود کو سرفہرست قرار دے دیا، جبکہ جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن جیسے تاریخی طور پر ممتاز صدور کو اپنے سے نیچے رکھا۔ ٹرمپ کی اس خود ساختہ درجہ بندی پر مورخین اور مبصرین نے تنقید کی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق امریکی صدور کی سابقہ درجہ بندیوں میں ٹرمپ کو اکثر نچلے ترین مقام پر رکھا گیا ہے۔

Donald Trump, his released list. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ، ان کی جاری کردہ فہرست۔ تصویر: آئی این این

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بہترین امریکی صدور کی درجہ بندی پر مشتمل ایک چارٹ شیئر کیا ہے، جس میں ریپبلکن صدر نے حسبِ توقع خود کو سرفہرست مقام دیا ہے۔ اس فہرست میں انہوں نے جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن جیسے قدآور صدور کو بھی اپنے سے نیچے رکھا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کو کی گئی یہ پوسٹ CNN کی ایک ویڈیو کلپ کے جواب میں سامنے آئی۔ CNN کے حالیہ سروے کے مطابق ریپبلکن ووٹروں میں ۵۳؍ فیصد نے ٹرمپ کو وہ ریپبلکن صدر قرار دیا جنہیں وہ سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس معاملے میں انہوں نے ابراہم لنکن اور رونالڈ ریگن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ مبصرین نے ٹرمپ کی جانب سے خود تیار کردہ اس درجہ بندی میں کئی عجیب باتوں کی نشاندہی کی، جن میں ان کے حالیہ ریپبلکن پیش روؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی شامل ہے۔

مورخ کرسٹوفر ڈبلیو جونز نے ایکس پر لکھا، ’’ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کی نظر میں رونالڈ ریگن اور جارج ڈبلیو بش کی بطور صدور کوئی درجہ بندی ہی نہیں۔‘‘ سازشی نظریات کے ماہر مائیک روتھ چائلڈ نے ایکس پر لکھا، ’’ٹرمپ کا ’عظیم ترین‘ صدور کا یہ احمقانہ چارٹ دراصل ۱۹۴۸ء میں لائف میگزین میں شائع ہونے والا چارٹ ہے، جس کے اوپر ان کا نام شامل کر دیا گیا ہے اور نیچے ان ڈیموکریٹس کے نام رکھے گئے ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔ بالکل اسی قسم کی چیز ہے جو ایک صحت مند اور متوازن شخص شیئر کرتا ہے۔‘‘ صدر ٹرمپ خود کو اعلیٰ مقام دے سکتے ہیں، لیکن مورخین اور ماہرین عموماً اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سیاسیات کے ماہر مائیکل بیلی نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ٹرمپ ’’آسانی سے امریکی تاریخ کے بدترین صدر‘‘ ہیں۔ بیلی کے مطابق، ’’بدعنوانی اور طویل مدت میں امریکی اداروں اور ملک کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان، ماضی میں دیکھے گئے کسی بھی نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ ۲۰۲۴ء میں مورخین اور سیاسیات کے ماہرین کے ایک سروے میں بھی ٹرمپ کو امریکی صدور کی فہرست میں آخری مقام دیا گیا تھا، جبکہ جو بائیڈن ۱۴؍ ویں نمبر پر تھے۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا سے بچوں کو بچانے کی کوشش تیز

امریکی عوام کی موجودہ رائے بھی ٹرمپ کے حق میں زیادہ سازگار نظر نہیں آتی۔ گزشتہ ہفتے صدر کی مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جب صرف ایک تہائی امریکیوں نے ان کی حمایت کی۔ صدر ٹرمپ کو طویل عرصے سے تاریخ میں دلچسپی رہی ہے، اگرچہ تاریخ کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر انتہائی سیاسی اور جماعتی نوعیت کا رہا ہے۔ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدور کے لیے ایک ’’واک آف فیم‘‘ قائم کی، جس میں سابق صدور کی تصاویر اور ان کی کامیابیوں پر مبنی تفصیلات شامل کی گئیں۔ مورخین کے مطابق ان تختیوں پر درج معلومات انتہائی جانبدارانہ اور کئی مقامات پر غلط تھیں۔ ایک مورخ نے ان تختیوں کی تیاری میں ہونے والی تحقیق کے معیار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ نے خود بھی ان میں سے کچھ تحریریں لکھی ہیں، لیکن ان پر ہونے والی تحقیق کا معیار اتنا ہی بلند ہے جتنا ’’دوسروں کی تصاویر پر مونچھیں بنانا‘‘۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر نئی معاشی پابندیوں کا دباؤ، تہران نے کہا وہ یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے

صدر ٹرمپ نے تاریخی مواد پھیلانے کے ساتھ ساتھ ایسے مواد کو ہٹانے میں بھی خاص دلچسپی دکھائی ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ امریکہ کی نسل پرستی کی تاریخ سے متعلق حساس موضوعات کی وضاحت کرنے والی تختیاں اور دیگر مواد قومی تاریخی مقامات سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ صدر نے سمتھسونین ادارے کے خلاف ایک وسیع آڈٹ کا بھی حکم دیا، جس کا مقصد ایسے تاریخی مواد اور معلومات کو ختم کرنا تھا جو تاریخ کے بارے میں ان کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK