Updated: July 29, 2026, 9:02 PM IST
| New York
ایک استعمال شدہ SpaceX Falcon 9 راکٹ کا اوپری حصہ ۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو تقریباً ۸۷۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند سے ٹکرائے گا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ ایک غیر معمولی موقع ہوگا کیونکہ پہلی بار کسی مصنوعی خلائی ملبے کے چاند سے تصادم کو براہِ راست دیکھنے اور اس کے اثرات کا تفصیلی مشاہدہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس سے چاند کی سطح، گردوغبار کے بادل (Ejecta Plume) اور مستقبل کی قمری تحقیق سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوں گی۔
خلائی تحقیق کے شعبے میں ایک منفرد واقعہ ۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو پیش آنے والا ہے، جب SpaceX Falcon 9 راکٹ کا استعمال شدہ اوپری مرحلہ (Upper Stage) تقریباً ۸۷۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرائے گا۔ اس غیر معمولی تصادم کو دنیا بھر کے پیشہ ور اور شوقیہ ماہرین فلکیات براہِ راست دیکھنے اور ریکارڈ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ راکٹ مرحلہ کئی برس قبل اپنے مشن کی تکمیل کے بعد خلا میں بے قابو گردش کرتا رہا اور اب اس کا مدار اسے چاند کے Einstein Crater کے قریب لے جا رہا ہے، جہاں اس کے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تصادم ۵؍ اگست کو تقریباً۶؍ بجکر ۳۵؍ منٹ یو ٹی سی (UTC) پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کا سعودی خام تیل ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک خلائی حادثہ نہیں بلکہ ایک قیمتی سائنسی تجربہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی روشنی (Impact Flash) اور چاند کی سطح سے اٹھنے والے گردوغبار کے بادل ( Ejecta Plume ) کا مشاہدہ زمین اور بعض خلائی آلات کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ چاند کی سطح اس نوعیت کے تصادم پر کیسے ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ تحقیقی مقالے میں سائنس دانوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ واقعہ حقیقی وقت میں کسی مصنوعی تصادم کو ریکارڈ کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ٹرمپ ایران جنگ میں پھنسے ہوئے نظر آرہے ہیں‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ تصادم مستقبل کے قمری زلزلہ پیما (Lunar Seismic) تجربات، گردوغبار کے پھیلاؤ کی حرکیات (Dust and Plume Dynamics) کے مطالعے اور چاند پر مصنوعی خلائی ملبے سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔‘‘ تحقیقی ٹیم نے دنیا بھر کے پیشہ ور اور شوقیہ فلکیات دانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ مختلف مقامات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ایک دوسرے کی تصدیق کر سکے اور تصادم کے بارے میں زیادہ جامع معلومات جمع کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں سول نافرمانی کی لہر، بجلی کی بندش اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تصادم سے چاند یا زمین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہوگا، تاہم یہ واقعہ خلائی ملبے (Space Debris) کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی بھی یاد دہانی ہے۔ زمین کے مدار اور اس سے باہر بے شمار غیر فعال راکٹ اور خلائی آلات موجود ہیں، جو مستقبل میں مختلف اجرامِ فلکی سے ٹکرا سکتے ہیں۔ اس نایاب واقعے کو فلکیاتی تحقیق کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس مشاہدے سے نہ صرف چاند کی سطح کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی بلکہ مستقبل میں انسانوں کے قمری مشنوں اور خلائی ملبے سے متعلق حفاظتی حکمت عملی تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔