Updated: October 29, 2026, 3:21 PM IST
| New Delhi
ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک سال میں۸۰؍ ہزار سے زیادہ رسائل کے ٹائٹل منسوخ کر دیے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ رسائل کی تعدادایک لاکھ ۵۴؍ ہزار سے گھٹ کر ۷۴۳۷۴؍رہ گئی ہے۔ وہیں ڈاک کے قوانین میں تبدیلی سے۳۰؍ ہزار سے زیادہ چھوٹی اشاعتوں کے سامنے بحران گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔
ملک میں رجسٹرڈ رسائل کی تعداد میں ایک سال کے اندر۵۱؍ اعشاریہ ۸۶؍ فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۴ء-۲۵ء میں ملک میں۱۵۴۵۲۳؍ رسائل رجسٹرڈ تھے۔۲۰۲۵ء-۲۶ء میں یہ تعداد گھٹ کر۷۴۳۷۴؍ رہ گئی۔ یعنی ایک سال میں ۸۰۳۴۹؍کی کمی آئی۔مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات کے اعداد و شمار کے مطابق سال ۲۰۲۵ء-۲۶ء میں۸۸۰۰۰؍ سے زیادہ رسائل کے ٹائٹل منسوخ کیے گئے۔ وزارت نے اس کی وجہ پریس و رسائل رجسٹریشن ایکٹ (PRP ایکٹ)۲۰۲۳ء کی دفعہ ۱۱؍ کی خلاف ورزی بتائی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غازی جلال الدین نے ٹیکسی چلا کر ۳؍ اسکول قائم کئے،بیٹے وسائل کی کمی کا شکار، اسکول چلانا مشکل
دفعہ۱۱؍ کیا کہتی ہے؟
اس دفعہ کے تحت پریس رجسٹرار جنرل کو کسی اخبار یا رسالے کا رجسٹریشن۳۰؍ سے۱۸۰؍ دن تک معطل کرنے کا اختیار ہے۔ ایسا تب کیا جا سکتا ہے جب رجسٹریشن غلط معلومات دے کر حاصل کیا گیا ہو، اشاعت باقاعدہ نہ ہو رہی ہو یا پبلشر نے سالانہ تفصیلات میں غلط معلومات دی ہو یا مالی سال ختم ہونے کے دو سال کے اندر اسے جمع نہ کیا ہو۔ساتھ ہی معطلی کی مدت میں خامی دور نہ ہونے پر رجسٹریشن منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
زبان وار گراوٹ:
ہندی: مارچ ۲۰۲۲ء میں ۵۶۰۵۲؍ سے گھٹ کر مارچ۲۰۲۶ء میں۳۳۴۹۱؍
انگریزی:۱۹۹۲۹؍ سے گھٹ کر۶۴۳۰؍
بنگالی:۵۰۶۰؍ سے۱۱۶۲؍
مراٹھی:۱۰۳۸۰؍ سے۶۶۶۴؍
سنتھالی:۲۳؍ سے۶؍
تمل:۶۱۰۰؍ سے۲۴۹۰؍
پنجابی:۱۶۸۴؍ سے۴۲۷؍
کنڑ:۶۰۸۳؍ سے۳۹۰۹؍
ریاست وار:
دہلی میں رجسٹرڈ رسائل کی تعداد دو تہائی گھٹ گئی - مارچ۲۰۲۴ء میں۱۶۵۲۵؍ سے مارچ۲۰۲۶ء میں۴۸۷۰؍۔ مہاراشٹر میں۲۰۹۹۹؍ سے۱۰۲۲۴؍، مغربی بنگال میں۷۵۹۲؍ سے۱۴۵۱؍ اور اتر پردیش میں۲۲۲۵۷؍ سے۱۱۵۴۹؍۔
اگلا بحران - ڈاک کے نئے قوانین:
پہلے رسائل کو ڈاک کے ذریعے رعایتی نرخ پر بھیجا جاتا تھا۔۵۰؍ پیسے میں جانے والی چیز اب۴؍ روپے میں جائے گی۔محکمہ ڈاک نے۱۶؍ دسمبر۲۰۲۴ء سے نافذ پوسٹ آفس ریگولیشنز۲۰۲۴ء کے تحت سختی کر دی ہے۔ نئے قانون میں اخبار کی تعریف صرف روزانہ یا ہفتے میں کم از کم ایک بار نکلنے والی اشاعت ہے، جس میں حالات حاضرہ کی خبریں ہوں۔ اس تعریف میں ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ رسائل شامل نہیں ہیں۔ اس لیے انہیں رعایتی ڈاک کی سہولت ملنا مشکل ہوگا۔
پبلشرز کے مطابق یو پی سی (انڈر پوسٹل سرٹیفکیٹ) کی سستی سہولت پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔ اب ۲۰۲۶ء تک ہی موجودہ پوسٹل لائسنس جاری رہنے کی اطلاع دی گئی ہے،۲۰۲۷ء سے تجدید میں مشکلات آ سکتی ہیں۔ اس سے۳۰؍ ہزار سے زیادہ چھوٹے رسائل پر تالا لگ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مولانا محمدعلی جوہر یونیورسٹی کی زمین اورعمارتیں قرق
تاریخی تناظر:
آزادی کی لڑائی میں ماہانہ اور پندرہ روزہ رسائل نے بڑا کردار ادا کیا تھا۔۱۹۵۷ء میں روزنامہ اور ہفتہ وار کو چھوڑ کر رسائل کی تعداد صرف۳۸۳۷؍ تھی، جو۲۰۱۴ء تک بڑھ کر۵۵۰۰۰؍ ہو گئی۔۲۰۱۴ء سے۲۰۲۴ء-۲۵ءکے بیچ یہ بڑھ کر۸۳۴۷۰؍ تک پہنچی، یعنی۳۰؍ ہزار نئے رسائل رجسٹرڈ ہوئے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا رسائل کے سکڑتے دائرے کا اثر اظہار کی تنوع پر پڑے گا؟ یہ رسائل اکثر خواتین، دلت، اقلیت اور آدیواسی سماج کی آواز بنتے ہیں جنہیں مین اسٹریم میڈیا میں جگہ نہیں ملتی۔ کاغذ، چھپائی، ڈاک اور سرکاری اشتہارات تک رسائی پہلے ہی چھوٹے پبلشرز کے لیے بڑا چیلنج ہے۔