ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکی قدامت پسندوں میں حمایت بحال کرنے کے لیے ۴۰؍ ملین ڈالر سے زائد مختص کیے، نئی مہم کے ذریعے اس الزام کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹا۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 10:05 PM IST | Tel Aviv
ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکی قدامت پسندوں میں حمایت بحال کرنے کے لیے ۴۰؍ ملین ڈالر سے زائد مختص کیے، نئی مہم کے ذریعے اس الزام کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹا۔
جمعرات کو شائع ہونے والی ایک اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے امریکہ میں اپنی حمایت میں کمی اور ایران کے خلاف جنگ میں اپنے کردار پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان، امریکی دائیں بازو کے نظریات کے حامل افراد کو متاثر کرنے کے لیے۴۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ مختص کیے ہیں۔ہاریٹزاخبار نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے عوامی تعلقات اور اثر و رسوخ کی مہموں پر اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جن کا مقصد بنیادی طور پر امریکہ میں قدامت پسند مسیحی ہیں۔اخبار کے مطابق، یہ مہم گزشتہسال کے آخر میں شروع ہوئی تھی لیکن حال ہی میں اس نے اپنی توجہ ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ کا دفاع کرنے اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حکومت پر کی جانے والی تنقید کا جواب دینے کی طرف موڑ لی ہے۔
بعد ازاں رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت نے اس کوشش کے لیے بجٹ کو دوگنا سے زیادہ کر کے۴۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ کر دیا، کیونکہ امریکی عوام کے ایک حصے، بشمول ریپبلکن رائے دہندگان میں اسرائیل کے لیے حمایت کمزور پڑ گئی ہے۔ہاریٹز نے کہا کہ یہ مہم فی الحال ایران، چین اور قطر سے متعلق پیغامات پر مرکوز ہے، جو امریکی سامعین میں عوامی بیانئے کو تشکیل دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔اخبار نے کہا کہ یہ اقدام پہلے سام دشمنی کا مقابلہ کرنے اور فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل کے بیانیے کو فروغ دینے پر مرکوز تھا، لیکن اسے تیزی سے ایران کے خلاف جنگ کو جائز ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں رپورٹ کے مطابق، یہ تبدیلی امریکہ میں بڑھتے ہوئے الزامات کے جواب میں آئی، جس میں امریکی دائیں بازو کے کچھ حصے بھی شامل ہیں، کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک غیر ضروری جنگ میں گھسیٹا ہے۔ہاریٹز نے ایران کے ساتھ تنازع کے دوران کیے گئے عوامی رائے کے سروے کا حوالہ دیا جن میں ریپبلکن رائے دہندگان خاص طور پر نوجوان قدامت پسندوں، میں اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی ظاہر ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر تعلیمی اداروں پر۸۵۰۰؍ سے زائد حملے، فلسطین سب سے زیادہ متاثر: رپورٹ
جب امریکہ اور ایران نے اس تصادم کو ختم کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، یہ رپورٹ اس کے ایک دن بعد سامنے آئی۔ یہ تصادم اس وقت شروع ہوا تھا جب واشنگٹن اور تل ابیب نے ۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔واضح رہے کہ اس ۱۴؍ نکاتی معاہدے میں لبنان سمیت علاقائی محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی، اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی سے متعلق دفعات شامل ہیں۔