• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: غزہ پر حملوں کے دوران گودام سے بڑے پیمانے پر اسلحوں کی چوری: رپورٹ

Updated: September 20, 2026, 4:01 PM IST | Tel Aviv

ایک رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے گوداموں سے بڑے پیمانے پرہتھیار، گولہ بارودچوری ہوئے جس میں ٹینک شکن راکٹ، بھی شامل ہیں، اور چوری شدہ ہتھیار اور گولہ بارود مجرمانہ تنظیموں تک پہنچ گئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے KAN نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ  غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے گوداموں سے بڑے پیمانے پرہتھیار، گولہ بارودچوری ہوئے جس میں ٹینک شکن راکٹ، بھی شامل ہیں، اور چوری شدہ ہتھیار اور گولہ بارود مجرمانہ تنظیموں تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق فوج کو گوداموں سے چوری شدہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پوری مقدار کا علم نہیں ہو سکتا۔اس نے کہا کہ اس ہفتے ساجور اور جلجولیہ کے عرب قصبوں میں LAW راکٹوں سے متعلق دو واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ایران میں امریکی جنگی جرائم کے معقول شواہد ملے‘‘

مزید برآں KAN نے کہا کہ حالیہ واقعات کی نوعیت اور بلیک مارکیٹ میں ہتھیاروں کی گرتی ہوئی قیمتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کے دوران ایمرجنسی یونٹ کے گوداموں کو کھولے جانے کے بعد ہتھیار بڑے پیمانے پر چوری کیے گئے تھے۔اس نے مزید کہا کہ غائب گولہ بارود کو لڑائی میں استعمال ہونے کے طور پر درج کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل میں کتنا چوری ہوا تھا۔
بعد ازاں نشریاتی ادارے نے ڈرونز اور فوجی درجے کے ہتھیاروں کے مجرمانہ استعمال میں تیزی سے اضافے کی بھی اطلاع دی۔KAN کے مطابق، ہینڈ گرنیڈ سے متعلق مجرمانہ واقعات کی تعداد ۲۰۲۳ء میں۷۵؍ سے بڑھ کر۲۰۲۴ء میں۹۸۸؍ ہو گئی ہے - یعنی تقریباً روزانہ تین واقعات۔ اس نے مزید کہا کہ اس ہفتے ناصرت میں ڈرون سے ایک ہینڈ گرنیڈ گرایا گیا۔رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی پولیس کے لاہاو۴۳۳؍ یونٹ کی تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بدوی برادریوں میں کمپنیوں نے جعلی انوائسز کا استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں بڑے کارگو لے جانے والے ڈرون خریدے تھے۔ڈرونز کا پتہ نہیں چل سکا ہے، اس خدشہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ کچھ کو اسمگلنگ آپریشنز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور حکام نہیں جانتے کہ انہیں کہاں استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یمن: حوثیوں اور اتحادی افواج میں شدید لڑائی، ۲۴؍ گھنٹوں میں ۶۸؍ افراد ہلاک

تاہم نشریاتی ادارے نے کہا کہ اسرائیلی پولیس، فوج، شن بیت ،سیکیورٹی ایجنسی اور وسیع تر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ڈرونز سے پیدا ہونے والے خطرے کے پیمانے کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے طریقے تیار کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK