اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ کی لاگت ایک لاکھ ۹۴؍ ہزار کروڑ روپئے کا اندازہ لگایا جارہا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق اس لاگت نے اسرائیل کی معیشت پر خاطر خواہ دباؤ ڈالا ہے۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 4:20 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ کی لاگت ایک لاکھ ۹۴؍ ہزار کروڑ روپئے کا اندازہ لگایا جارہا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق اس لاگت نے اسرائیل کی معیشت پر خاطر خواہ دباؤ ڈالا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق،۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ، لبنان، شام اور ایران میں اسرائیل کی جنگوں کی لاگت تقریباً۲۰۵؍ بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔یہ اعداد و شمار زمان اسرائیل (دی ٹائمز آف اسرائیل کی عبرانی زبان کی سروس) کی ایک رپورٹ میں شامل تھے، جس نے عوامی مالیات، پیداوار کے نقصانات اور امریکی فوجی امداد پر ان تنازعات کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔رپورٹ نے بینک آف اسرائیل کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگوں کی لاگت حکومت پر۱۱۸؍ بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔دفاعی اخراجات کل لاگت کا تقریباً۷۱؍ اعشاریہ ۲؍ بلین ڈالر تھے، جبکہ معاوضے کی ادائیگیاں۹؍ اعشاریہ ۶؍ بلین ڈالر تک پہنچ گئیں، مختلف شہری اخراجات۱۶؍ اعشاریہ ۷؍ بلین ڈالر رہے، اور اعلیٰ عوامی قرضوں سے منسلک سود کی لاگت۵؍ اعشارہ ۵؍ بلین ڈالر بنی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر جنگوں اورقدرتی آفات سے کروڑوں بچوں کی تعلیم متاثر: رپورٹ
اس کے علاوہ رپورٹ نے اسرائیل کو فراہم کئے گئے امریکی ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی آلات کی مالیت تقریباً۲۶؍ بلین ڈالر بتائی۔ جبکہ معاشی بوجھ صرف عوامی اخراجات تک محدود نہیں تھا بلکہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ءاور۲۰۲۵ء کے آخر کے درمیان اسرائیلی معیشت میں کھوئی ہوئی پیداوار تقریباً۵۱؍ اعشاریہ ۹؍ بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔تاہم ۲۰۲۶ء میں ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے، رپورٹ نے کہا کہ یہ عدد۵۸؍ اعشاریہ ۶؍ بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جب سرکاری اخراجات، امریکی امداد اور کھوئی ہوئی پیداوار کو یکجا کیا جائے تو تنازعات کی مجموعی معاشی لاگت تقریباً۲۰۵؍ بلین ڈالر تک پہنچتی ہے۔یاد رہے کہ اس حساب میں ریاست کی طرف سے شمار نہ کیے گئے انفرادی نقصانات یا تمام نجی شعبے کے نقصانات شامل نہیں ہیں، اور یہ کہ اگر تنازعات جاری رہے تو یہ بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔رپورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عوامی اخراجات میں اضافے نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے، زندگی کی لاگت میں اضافہ کیا ہے اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر بوجھ ڈالا ہے۔
بعد ازاں رپورٹ نے۷؍ اکتوبر کے بعد کے تنازعات کو معاشی لحاظ سے اسرائیل کی تاریخ کا مہنگا ترین فوجی دور قرار دیا، جس کے نتائج آنے والے کئی سالوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔