Updated: June 25, 2026, 4:13 PM IST
| Washington
پول میں شامل ۱۲۶۲ جواب دہندگان میں سے ۶۳ فیصد نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آیا تہران کے ساتھ امن واقعی قائم رہ پائے گا یا نہیں۔ صرف ۲۳ فیصد امریکیوں جن میں تقریباً نصف افراد دائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے، کا ماننا ہے کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب ایران کے خلاف امریکہ کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے، جبکہ ۳۵ فیصد نے کہا کہ امریکہ کی پوزیشن جنگ کے بعد کمزور ہوگئی ہے۔
اپنی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی مہینوں میں خود کو ایک درجن سے زائد جنگیں ختم کرانے والے “امن پسند“ کے طور پر پیش کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں ایران جنگ کے بعد ریکارڈ کمی دیکھنے ملی ہے۔ رپورٹس کا ماننا ہے کہ امریکہ کے ایران پر حملے، ملک میں عوامی رائے پر اثر انداز ہوئے ہیں اور ٹرمپ کو پسند کرنے والے امریکیوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔
رائٹرز/ایپسوس (Reuters/Ipsos) کے پانچ روزہ پول کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر ۳۴ فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران کم ترین سطح ہے۔ پول کے نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صرف چار میں سے ایک امریکی کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکی جنگ اپنے اخراجات کے لحاظ سے فائدہ مند رہی ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ۱۷ جون کو ایک عبوری معاہدے پر دستخط بھی کر دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ یورپ کی رضامندی کے بغیر ایران پر سے پابندی نہیں ہٹائی جا سکتی‘‘
پول میں شامل ۱۲۶۲ جواب دہندگان میں سے ۶۳ فیصد نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آیا تہران کے ساتھ امن واقعی قائم رہ پائے گا یا نہیں۔ صرف ۲۳ فیصد امریکیوں جن میں تقریباً نصف افراد دائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے، کا ماننا ہے کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب ایران کے خلاف امریکہ کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے، جبکہ ۳۵ فیصد نے کہا کہ امریکہ کی پوزیشن جنگ کے بعد کمزور ہوگئی ہے۔
صرف ۳۰ فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن
امریکن ریسرچ گروپ کے ایک علیحدہ پول میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف ۳۰ فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ ۶۶ فیصد امریکیوں نے اپنی غیر اطمینانی کا اظہار کیا۔ یہ ٹرمپ کی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران اس پولسٹر کی جانب سے ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ غیر مقبولیت کی سطح ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ کی ۲۰۲۴ء کے انتخابی معرکے میں فتح کو ”حتمی پول“ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’۴؍ماہ کی جنگ سے مشرق وسطیٰ کے حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ‘‘
اس سے قبل، ۱۸ جون کو جاری ہونے والے پی بی ایس نیوز/این پی آر/میرسٹ (PBS News/NPR/Marist) پول نے ٹرمپ کی مقبولیت ۳۹ فیصد بتائی، جو ان کی دوسری مدت کی کم ترین سطح ہے، جبکہ ۷۰ فیصد لوگ معیشت کو سنبھالنے کے ان کے طریقے سے ناخوش ہیں۔
۲۱ جون کو جاری ہونے والے سی بی ایس نیوز/یوگَو (CBS News/YouGov) پول میں شامل ۵۷ فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ ایران جنگ نے حل سے زیادہ مسائل پیدا کئے ہیں، جبکہ ۷۸ فیصد کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایران کے گھٹنے ٹیکنے کا انتظار کرنے کے بجائے اس تنازع کو فوری طور پر ختم کر دینا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلیوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ میں بری طرح ناکام ہوئے: سروے
ایران جنگ کی وجہ سے امریکہ کو تقریباً ۴۰ ارب ڈالر کا نقصان
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، ایران جنگ کی وجہ سے امریکی محکمہ دفاع کو گولہ بارود، تباہ شدہ آلات اور فوجی اڈوں کے نقصان کی مد میں تقریباً ۴۰ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس میں وہ آپریشنل اخراجات شامل نہیں ہیں جو مالیاتی سال ۲۰۲۶ء کے ایک کھرب ڈالر سے زائد کے دفاعی بجٹ کا حصہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پینٹاگون نے مزید ۸۰ ارب ڈالر کے فنڈز کی درخواست کی ہے۔
بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی (کوسٹ آف لیونگ) سے تنگ امریکی عوام کے درمیان ٹرمپ کی مقبولیت بھی گر کر ۲۲ فیصد رہ گئی ہے، جبکہ امیگریشن پالیسی پر ان کی مقبولیت کی شرح ۳۷ فیصد تک آ گئی ہے، جو پچھلے پولز کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے۔