Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے دورِ حکومت میں آئی سی ای کی حراست میں نو عمر بچوں کی تعداد میں ۱۰ گنا اضافہ: رپورٹ

Updated: June 10, 2026, 10:10 PM IST | Washington

محققین کا تخمینہ ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے آغاز سے اب تک تین سال یا اس سے کم عمر کے کم از کم ۵۰۰ بچے آئی سی ای (ICE) کے حراستی مراکز میں رہ چکے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے دور کے اعدادوشمار کے مقابلے میں، ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں آئی سی ای کی حراست میں رہنے والے بچوں کی تعداد میں ۱۰ گنا اضافہ ہوا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’ایم ایس ناو‘ (MS NOW) اور ’دی مارشل پروجیکٹ‘ کی شائع کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، امریکی امیگریشن حراست میں رکھے جانے والے شیر خوار اور نو عمر بچوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ رپورٹ ’ڈی پورٹیشن ڈیٹا پروجیکٹ‘ کے ذریعے حاصل کردہ دستاویزات پر مبنی ہے۔ 

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جنوری ۲۰۲۵ء سے مارچ ۲۰۲۶ء کے درمیان، امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے ہر دن اوسطاً ۲۵ شیر خوار اور نو عمر بچوں کو اپنی تحویل میں رکھا۔ محققین کا تخمینہ ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے آغاز سے اب تک تین سال یا اس سے کم عمر کے کم از کم ۵۰۰ بچے آئی سی ای (ICE) کے حراستی مراکز میں رہ چکے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے آخری سال کے دوران، اوسطاً ایک دن میں اسی عمر کے گروپ کے ۳ سے بھی کم بچوں کو آئی سی ای کی تحویل میں رکھا گیا تھا۔ اس طرح، حالیہ اعدادوشمار کا بائیڈن انتظامیہ کے دور کے اعدادوشمار سے موازنہ کیا جائے تو ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں آئی سی ای کی حراست میں رہنے والے بچوں کی تعداد میں ۱۰ گنا اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمنی ہندوستانی تارکین وطن کی پہلی پسند، ۹۰؍ فیصد ویزا منظوری کی شرح اہم وجہ

بچوں کو قانونی حدود سے زیادہ وقت تک حراست میں رکھا گیا

تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ کم از کم ۱۷۵ شیر خوار اور نو عمر بچوں کو ۲۰ دن کی قانونی حد سے زیادہ وقت کیلئے حراست میں رکھا گیا۔ یہ قانونی حد ۱۹۹۷ء کے فلورس بمقابلہ رینو (Flores v. Reno) تصفیے سے جڑے عدالتی فیصلوں کے تحت قائم کی گئی تھی۔ یہ قانونی معاہدہ، مہاجر بچوں کی حراست اور رہائی کیلئے کم از کم معیارات طے کرتا ہے۔

رپورٹ میں، صحت اطفال کے ماہرین نے انتباہ دیا کہ بہت چھوٹے بچوں کو حراست میں رکھنا، انہیں مستقل ترقیاتی نقصان (permanent developmental harm) پہنچاتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی کونسل آن امیگرنٹ چائلڈ اینڈ فیملی ہیلتھ کی شریک بانی پروفیسر مارشا گرفن نے زور دیا کہ ”شیر خواری اور نو عمری کا دور، بچوں کی زندگی کا غالباً سب سے نقصان دہ وقت ہوتا ہے جب انہیں حراست میں رکھا جائے۔“

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچے منصوبہ بندی کے تحت بھوکے رکھے جارہے: عالمی انسانی تنظیم کی مذمت

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی کا مؤقف

’ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی‘ (ڈی ایچ ایس) نے اس پالیسی پر ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ ’دی ڈیلی بیسٹ‘ کو دینے گئے ایک بیان میں، ڈی ایچ ایس کے ترجمان نے کہا کہ ”آئی سی ای بچوں کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے اور نہ ہی خاندانوں کو الگ کر رہا ہے۔“ محکمہ نے کہا کہ ملک بدری کا سامنا کرنے والے والدین سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اپنے بچوں کے ساتھ ملک بدر ہونا چاہتے ہیں، یا پھر آئی سی ای ان بچوں کو والدین کے نامزد کردہ کسی محفوظ شخص کے پاس چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ڈی ایچ ایس نے مزید کہا کہ یہ پالیسی پچھلی حکومتوں کی طرف سے استعمال کئے جانے والے طریقوں کے عین مطابق ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK